وزیراعظم کا ملکی ترقی کیلئے

وزیراعظم کا ملکی ترقی کیلئے
کام کرنے کا عزم
پاکستان ایسا ملک ہے جو ہمیشہ چیلنجز کے درمیان اپنی پہچان قائم رکھنے کی جدوجہد کرتا آیا ہے۔ تاریخی اور جغرافیائی اعتبار سے یہ ملک ایک اہم خطے میں واقع ہے، جہاں داخلی اور خارجی دباؤ کے باوجود ترقی کی راہیں تلاش کرنا قومی قیادت کی سب سے بڑی ذمے داری رہی ہے۔ موجودہ حکومت کے دور میں وزیراعظم شہباز شریف نے واضح طور پر اس امر کو اجاگر کیا ہے کہ ملک کی معیشت، دفاع اور تعلیم سبھی شعبے مربوط حکمت عملی کے تحت مضبوط کیے جاسکتے ہیں۔ وزیراعظم کا ملکی ترقی کیلئے کام کرنے کا عزم ہر لحاظ سے قابل تحسین ہے۔ وزیراعظم کے مطابق ملک کی مسلح افواج دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ان کے الفاظ ’’ دہشت گردی کا مکمل صفایا کرکے دم لیں گے‘‘ اس عزم کی ترجمانی کرتے ہیں جو پاکستانی عوام اور سیکیورٹی اداروں نے طویل عرصے سے محسوس کی ہے۔ دہشت گردی نے نہ صرف ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا بلکہ معیشت اور عوام کی زندگیوں پر بھی منفی اثرات مرتب کیے۔ موجودہ حکومت نے اس چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے اور دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائیاں کیں۔ تیمور ویپن کے کامیاب تجربے کا ذکر بھی اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں کو خود کفیل بنانے کی راہ پر گامزن ہے۔ یہ اقدام نہ صرف فوجی دفاع کو مضبوط کرتا ہے بلکہ ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے بھی اہم ہے۔ جب ایک ملک داخلی اور خارجی خطرات سے محفوظ ہو، تب ہی وہ معاشی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دے سکتا ہے۔ وزیراعظم کے اس پیغام میں یہ صاف عزم ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے ناسور کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ معرکہ حق میں کامیابی کے بعد دفاعی سازو سامان کی عالمی سطح پر طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ مختلف ممالک پاکستان سے دفاعی ساز و سامان کی خریداری کے لیے بات چیت کر رہے ہیں، جس کا فائدہ براہِ راست ملکی معیشت کو پہنچے گا۔ یہ نہ صرف تجارتی مواقع پیدا کرے گا، بلکہ پاکستان کے عالمی تعلقات کو بھی مستحکم کرے گا۔ مزید برآں، وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ساتھ ایم او یو پر دستخط ہوئے ہیں۔ اس معاہدے کے ذریعے پاکستان کو مالی اور اقتصادی شعبے میں نئی سہولتیں ملیں گی اور یہ ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔ موجودہ حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کا مقصد یہ ہے کہ معاشی استحکام کے ساتھ ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں، تاکہ عوام کی زندگی میں بہتری لائی جاسکے۔ تعلیم اور سماجی شعبے میں بھی حکومت نے اہم اقدامات کیے ہیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ بلوچستان میں سات دانش اسکولز قائم کیے جارہے ہیں، جو بچوں اور نوجوانوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کا ذریعہ بنیں گے۔ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے اور یہ اسکولز نہ صرف تعلیمی معیار بلند کریں گے بلکہ مستقبل میں ملک کے لیے ہنرمند اور باشعور نسل تیار کریں گے۔تعلیم کے ساتھ عوام کی فلاح و بہبود کے دیگر شعبے بھی حکومت کی توجہ میں ہیں۔ سڑکیں، صحت کے ادارے اور بنیادی سہولتیں فراہم کرنا حکومتی ترجیحات میں شامل ہیں۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ اقتصادی ترقی اور دفاعی استحکام کے ساتھ عوام کی روزمرہ زندگی بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے بیانات میں یہ بات نمایاں ہے کہ ان کی حکومت معیشت، دفاع اور تعلیم کو ایک مربوط وعن کے تحت آگے بڑھا رہی ہے۔ دفاع میں خود کفالت، معیشت میں شراکت داری اور تعلیم میں معیار کی بہتری، یہ تمام اقدامات اس بات کی دلیل ہیں کہ پاکستان اپنے مستقبل کے لیے ایک مضبوط بنیاد تیار کررہا ہے۔ اس وژن کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ مختصر المدتی پالیسیوں تک محدود نہیں بلکہ طویل المدتی ترقی کو مدنظر رکھتا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے بعد ملک کے اندرونی ماحول کو محفوظ بنانا، معیشت کو مستحکم کرنا اور نوجوان نسل کے لیے تعلیم کے مواقع پیدا کرنا، یہ سب اقدامات ملکی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔ وزیراعظم نے عوام کو یہ اعتماد دیا کہ ان کی حکومت ملک اور قوم کے مفاد میں ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے۔ عوامی مسائل سے لاتعلقی اور کرپشن کے خاتمے کے لیے اقدامات حکومت کی سنجیدگی کے مظہر ہیں۔ اقتصادی ترقی، دفاعی خود کفالت اور تعلیمی اقدامات کے ذریعے حکومت نے عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ ملکی ترقی میں عوام کا اعتماد نہایت اہم ہے۔ جب عوام اپنی حکومت پر اعتماد کریں گے، تب ہی ترقیاتی منصوبے مثر طریقے سے عملی جامہ پہن سکیں گے۔ وزیراعظم کے بیانات میں یہی پیغام چھپا ہوا ہے کہ ترقی اور استحکام کے لیے حکومت اور عوام دونوں کو مشترکہ کوششیں کرنی ہوں گی۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان ایک نئے عہد کی طرف گامزن ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے، معیشت کی مضبوطی، تعلیم کے فروغ اور عالمی تعلقات میں بہتری، یہ سب اقدامات ایک جامع وژن کا حصہ ہیں۔ وزیراعظم کے بیانات یہ واضح کرتے ہیں کہ ملک کے تمام شعبے مربوط حکمت عملی کے تحت مضبوط کیے جارہے ہیں اور عوام کی زندگی میں بہتری لانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ پاکستان اپنے دفاع، معیشت اور تعلیم میں مضبوط بنیادیں قائم کر رہا ہے اور آنے والے دنوں میں یہ اقدامات ملک کو ترقی کی راہوں پر گامزن کریں گے۔ عوام، حکومت اور مسلح افواج کی مشترکہ کوششیں پاکستان کو داخلی اور خارجی چیلنجز کے باوجود مضبوط اور خوشحال ملک بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
بجلی قیمتوں میں کمی کیلئے اقدامات
حکومت کی جانب سے بجلی کے ٹیرف میں نمایاں کمی سے متعلق جاری کردہ اعلامیہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملکی معیشت مہنگائی، پیداواری لاگت اور صنعتی جمود جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ پاور ڈویژن کے اقدامات کے نتیجے میں صنعتی کراس سبسڈی میں 123 ارب روپے کی کمی اور صنعتی صارفین پر بوجھ کا 225 ارب سے کم ہوکر 102 ارب روپے رہ جانا بلاشبہ ایک بڑی پیش رفت ہے، جو صنعتی شعبے کے لیے ریلیف کا باعث بن سکتی ہے۔ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کا ٹیرف 63 روپے سے کم ہوکر 46 روپے 31 پیسے فی یونٹ ہوجانا اور اوسط بجلی ٹیرف کا 53 روپے چار پیسے سے کم ہو کر 42 روپے 27 پیسے فی یونٹ پر آجانا اس بات کی علامت ہے کہ حکومت نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ مہنگے اور غیر موثر پاور پلانٹس کی بندش، آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی اور بجلی کے نرخوں میں کمی کے اقدامات وہ فیصلے تھے، جن کے مثبت نتائج برآمد ہوئے۔ صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے اضافی بجلی پیکیج کو 22 روپے 98 پیسے فی یونٹ تک لانا اور اسے سرپلس پاور پیکیج کے تحت اگلے تین سال کے لیے دستیاب کرنا ایک دور اندیش اقدام تھا۔ اس سے نہ صرف صنعتی لاگت میں کمی آئی بلکہ برآمدات میں اضافے، روزگار کے مواقع پیدا ہونے اور مجموعی معاشی سرگرمی میں تیزی آنے کے بھی امکانات پیدا ہوئے۔ سرکلر ڈیٹ کے خاتمے کے لیے پانچ سے چھ سالہ منصوبہ بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگر یہ منصوبہ موثر انداز میں مکمل ہوجاتا ہے تو تین روپے 23 پیسے فی یونٹ سرچارج کا خاتمہ ممکن ہوگا، جس سے صارفین کو مزید ریلیف ملے گا۔ تاہم، ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے اس امر کی ضرورت ہے کہ اس منصوبے پر مستقل مزاجی اور شفافیت کے ساتھ عملدرآمد کیا جائے۔ دوسری جانب، آف گرڈ سولر صارفین کی سبسڈی سے پیدا ہونے والے مسائل اور ہائبرڈ استعمال کے باعث مالی دبا میں اضافے جیسے نکات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات ابھی مکمل نہیں ہوئیں۔ حکومت کو چاہیے کہ سولر پالیسی، سبسڈی کے نظام اور گرڈ کے استحکام کے درمیان توازن قائم کرے تاکہ کسی ایک طبقے کو فائدہ دیتے ہوئے پورا نظام متاثر نہ ہو۔ مجموعی طور پر بجلی ٹیرف میں کمی کا یہ اقدام معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔ اگر توانائی اصلاحات کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھا گیا اور صنعتی و عوامی مفادات کو پیشِ نظر رکھا گیا تو یہ فیصلے پاکستان کو معاشی استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔





