ColumnImtiaz Aasi

کرپشن کے خلاف نئی فورس

کرپشن کے خلاف نئی فورس
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
عجیب تماشا ہے ملک میں کرپشن کے خاتمے کے لئے اداروں کے باوجود وفاقی حکومت نے سرکاری اداروں سے کرپشن کے خاتمے کے لئے نیشنل اینٹی کرپشن ٹاسک فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اردو معاصر میں شائع ہونے والی خبر کے مندرجات دیکھ کر ہمیں تعجب ہوا جس ملک میں کرپشن کے خلاف پہلے سے کئی ادارے موجود ہوں وہاں کسی نئے ادارے کے قیام کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی ہے۔ بدقسمتی سے جو حکمران آیا اس نے کرپشن کے خلاف نئے نئے ادارے قائم کئے اور اپنے خلاف مقدمات کے خاتمے کے لئے قوانین میں ترامیم کر لیں۔ نگران دور میں احتساب قوانین میں ترامیم کرتے وقت پچاس کروڑ کی کرپشن کو نیب کے دائرہ کار سے نکال دیا گیا جس سے یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا ملک میں پچاس کروڑ تک کی کرپشن کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔ یہ بات درست ہے سرکاری اداروں میں مبینہ کرپشن انتہا پر پہنچ چکی ہے اگر کوئی پکڑا بھی جائے تو مقدمات اتنے کمزور ہوتے ہیں عدالتوں سے ملزم بری ہو جاتے ہیں۔ بھلا سوچنے کی بات ہے قیام پاکستان کے وقت صوبائی سطح پر کرپشن کے انسداد کے لئے اینٹی کرپشن کا محکمہ قائم کیا گیا تھا جو ابھی تک کام کر رہا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نی پولیس کے متبادل فیڈرل سکیورٹی فورس قائم کی، جس کے بعد ایف آئی اے کے محکمے کا قیام عمل میں لایا گیا، جس میں دیگر شعبوں کے علاوہ اینٹی منی لانڈرنگ کا شعبہ بھی کام کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ قومی احتساب بیورو جیسا وسیع و عریض محکمہ، جس کے دفاتر چاروں صوبوں میں کا م کر رہے ہیں۔ اگر مجموعی طور پر اندازہ لگایا جائے تو اینٹی کرپشن، ایف آئی اے کے برعکس قومی احتساب بیورو کی کارکردگی حوصلہ افزاء رہی ہے۔ سوال ہے محکموں میں خرابی نہیں ہوا کرتی ہے محکموں میں کام کرنے والے راست باز لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسلم لیگ نون کے دور میں پنجاب کے ایک سابق آئی جی اور آئی بی کے سربراہ آفتاب سلطان کو قومی احتساب بیورو کا سربراہ بنایا گیا، جنہوں نے بہت تھوڑے وقت میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ بدقسمتی سے ملک میں راست باز افسروں کو کام کرنے نہیں دیا جاتا جب ان پر غیر قانونی طور پر دبائو ڈالا جائے تو ایسے افسر اپنے عہدے چھوڑنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ اب جس نئی فورس کی نوید دی گئی ہے جو جون2027ء تک کام شروع کر دے گی جس میں ایف آئی اے، ایف بی آر، آڈیٹر جنرل، خزانہ اور اینٹی ٹیررازم کے محکموں کے لوگ شامل ہوں گے۔ نیا ادارہ اگلے سال جون تک کرپشن کے خلاف ایکشن پلان مرتب کرے گا۔ مجھے یاد ہے پی ٹی آئی کے دور میں ایک سیاسی جماعت کے قائد سے لندن میں خریدی گئی پراپرٹی کی منی ٹریل مانگی گئی وہ فراہم کرنے سے قاصر رہا، لیکن اس کے خلاف مقدمات پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کے بعد ختم کر دیئے گئے۔ یہ بات بھی راز نہیں رہی ہے موجودہ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ نیب قوانین میں ترامیم کرکے ختم کر دیا گیا، حالانکہ ان کے خلاف فرد جرم لگنا تھی، جو نہیں لگنے دی گئی اور مقدمات کو طوالت دے کر بالآخر قوانین میں نرمی کرکے مقدمہ ختم کرا لیا گیا۔ ملک کی ایک بڑی ہائوسنگ سوسائٹی کے مالک کے خلاف محکمہ جنگلات پنجاب کی کئی ہزار ایکٹر اراضی کوڑیوں کے دام فروخت کرنے کا مقدمہ کئی سال تک اینٹی کرپشن پنجاب کے پاس زیر التواء رہا۔ پی ٹی آئی کے دور میں وفاقی پولیس کے ایک راست باز آئی جی حسین اصغر کو ملازمت سے سبکدوشی کے بعد پنجاب اینٹی کرپشن کا سربراہ مقرر کیا گیا، جنہوں نے عہدہ سنبھالتے ہی زیر التواء مقدمات کی تفتیش شروع کرنے کے احکامات جاری کئے۔ گو پنجاب کے جنگلات کی ہزاروں ایکٹر اراضی پر ہائوسنگ سوسائٹی کے کئی فیز تعمیر ہو چکے تھے۔ چنانچہ اسی دوران ہائوسنگ سوسائٹی کے مالک نے اپنے خلاف مقدمہ اینٹی کرپشن سے نیب میں ٹرانسفر کرنے کی درخواست دے دی۔ دراصل ہائوسنگ سوسائٹی میں عسکری اداروں کے کئی ایک افسر ملازمت کر رہے تھے لہذا ہائوسنگ سوسائٹی کے مالک کا خیال تھا وہ قومی احتساب بیورو سے اپنے خلاف مقدمہ ختم کرا لے گا۔ قومی احتساب بیورو نے جنگلات کی ہزاروں ایکٹر اراضی کا مقدمہ نیب عدالت میں بھجوا دیا، جس کی سماعت ہو رہی ہے۔ جس ملک میں کرپشن کو جرم نہ سمجھا جائے ایسے ملک سے کرپشن کا خاتمہ خواب رہے گا۔ آج ہمارے ملک کو راست باز قیادت کی اشد ضرورت ہے، جس ملک کے حکمران اپنے خلاف مقدمات قوانین میں نرمی کرکے ختم کرا لیں ایسے ملک میں خواہ کتنی ٹاسک فورسز بنا لیں کرپشن ختم نہیں ہو گی۔ ملک و قوم کی بدقسمتی ہے جو بھی حکمران آیا اس پر بعض اداروں کا دبائو رہا ہے، اگر حکمرانوں کو آزادی سے کام کرنے دیا جائے تو کوئی وجہ نہیں ملک سے کرپشن کا خاتمہ نہ ہو سکے۔ بھارت ہمارے ساتھ آزاد ہوا، چین ہمارے بعد آزادی حاصل کر سکا، یہ ملک آئی ایم ایف کے مقروض نہیں، بلکہ ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں، جبکہ ہمارا ملک وجود میں آنے سے اب تک بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا مقروض ہے، جس کی بڑی وجہ ملک میں کرپشن کا دور دورہ ہے۔ ہم یہ بات یقین سے کہہ سکتے ہیں کرپشن کے خلاف اداروں کے پاس لاتعداد کیس زیر التواء ہوں گے، جنہیں کسی نہ کسی دبائو کے نتیجہ میں التواء میں رکھا گیا ہے۔ قرون اولیٰ کی قوموں کی تباہی کی وجہ چھوٹوں کو سزا اور بڑوں کو جرم کرنے کی صورت میں چھوڑ دیا جاتا تھا۔ آج ہمارے ملک میں یہی کچھ ہو رہا ہے، اثر و رسوخ والے لوگ خواہ کچھ بھی کرتے پھریں انہیں کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا جبکہ اگر کسی عام آدمی سے جرم سرزد ہوجائے اسے جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا جاتا ہے۔ آپ کتنے ہی ادارے کیوں نہ قائم کر لیں جب تک برسراقتدار لوگ راست باز نہیں ہوں گے ملک سے کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں، خواہ آپ اس مقصد کے لئے کتنی فورسز بنا لیں۔ ہمیں ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لئے کسی آیت اللہ خمینی کی ضرورت ہے جو اقتدار میں آکر کسی قسم کا دبائو قبول کئے بغیر خواہ کوئی سرکاری ادارہ کیوں نہ ہو کرپشن میں ملوث لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کرے۔

جواب دیں

Back to top button