Column

پانی سے اشکِ رواں تک کا سفر

پانی سے اشکِ رواں تک کا سفر
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری
کائنات کی تخلیق کا خمیر جس مائے لطیف ( پانی) سے اٹھایا گیا، وہی پانی جب انسانی وجود کے نہاں خانوں سے گزر کر آنکھ کے راستے برآمد ہوتا ہے تو اسے ’’ آنسو‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ قرآنِ حکیم کی سورہ المومنون میں انسانی تخلیق کے جو مراحل بیان ہوئے ہیں، ان میں پانی کو اساس قرار دیا گیا۔ لیکن غور طلب نکتہ یہ ہے کہ جسمانی بقا اگر مٹی اور پانی کے ملاپ سے ہے، تو انسانیت کی روحانی بقا اس پانی ( آنسو) میں ہے جو دل کی بھٹی میں تپ کر باہر نکلتا ہے۔آنکھ کے آنسو محض حیاتیاتی رطوبت نہیں بلکہ روح کا وہ جوہر ہیں جو انسان کو مٹی کے ڈھیر سے ممتاز کر کے ’’ اشرف المخلوقات‘‘ کے منصب پر فائز کرتے ہیں۔ جہاں تخلیقِ انسانی کا آغاز’’ آب‘‘ سے ہے، وہاں انسانیت کی معراج’’ چشمِ نم‘‘ ہے۔ جو آنکھ رو نہیں سکتی، وہ دل کی سختی اور روح کی بنجر زمین کی علامت ہے۔
انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے آنسوئوں کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ ماہرین نفسیات اس بات پر متفق ہیں کہ انسانی جذبات جب الفاظ کے تنگ کوزے میں نہیں سما پاتے، تو وہ آنکھ کے راستے ہجرت کرتے ہیں۔
انسانی ذہن جب محرومیوں یا شدید مسرت کے دبائو میں آتا ہے، تو آنسو ایک صمامِ امان (Safety Valve)کا کام کرتے ہیں۔ اگر یہ آنسو نہ بہیں تو انسانی اعصاب تاش کے پتوں کی طرح بکھر سکتے ہیں۔ رونا کمزوری نہیں بلکہ ایک دفاعی میکانزم ہے جو انسانی روح کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔
آنکھ کے آنسوئوں کی اپنی ایک لغت ہوتی ہے۔ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنی پہلی ضرورت کا اظہار آنسوئوں سے کرتا ہے۔ یہ زبان وہ ہے جسے سیکھنے کے لیے کسی مدرسے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ فطرت کی ودیعت کردہ آفاقی زبان ہے۔
آنسو کی اصل قدر و قیمت اس وقت متعین ہوتی ہے جب اس کا رخ خالقِ کائنات کی طرف ہو جائے۔ تصوف میں ’’ گریہِ نیم شبی‘‘ کو وہ مقام حاصل ہے کہ تمام عبادتیں اس کے سامنے ہیچ معلوم ہوتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی تعریف کی ہے جن کے سامنے جب کلامِ الٰہی پڑھا جاتا ہے تو ان کی آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔ یہ آنسو دراصل اللہ کی بارگاہ میں قبولیت کا سرٹیفکیٹ ہیں۔
سرکارِ دو عالمؐ نے فرمایا:’’ دو قطرے اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں؛ ایک خون کا وہ قطرہ جو راہِ خدا میں گرے، اور دوسرا آنسو کا وہ قطرہ جو اللہ کے خوف سے بہے‘‘۔
حضرت علیؓ کے ارشادات میں آنسوئوں کو ’’ دل کی زکوٰۃ ‘‘ کہا گیا ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں:’’ آنکھوں کا خشک ہونا دلوں کے سخت ہونے کی وجہ سے ہے، اور دل گناہوں کی کثرت سے سخت ہوتے ہیں ‘‘۔
آنکھ کے آنسو روح کی شادابی، انسان کی اخلاقی طاقت اور تعلقات کی نرمی کا پیمانہ ہیں۔
فلسفیانہ نظر سے آنسو انسان کے عجز کا بلند ترین اعتراف ہیں۔ جب فلسفی کائنات کی وسعتوں اور اپنی بے مائیگی پر غور کرتا ہے، تو عقل حیرت زدہ رہ جاتی ہے، اور یہ حیرت آنسو بن کر ٹپکتی ہے۔
غم انسان کو تراشتا ہے، جیسے ہیرا تراشے جانے کے بعد چمکتا ہے، ویسے ہی انسان غم کی بھٹی میں جل کر کندن بنتا ہے۔ ایک بے حس انسان فلسفی یا ادیب نہیں ہو سکتا، کیونکہ تخلیق کا خمیر ہی آنکھ کی نمی سے اٹھتا ہے۔
قدیم فلسفہ اور المیے (Tragedy)کی روایت آنسوئوں کے ذریعے انسانی خوف، رحم اور جذبات کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔ جدید فلسفہ بھی آنسو کو انسانی ’’ وجودیت‘‘ کا لازمی اظہار قرار دیتا ہے۔
معاشرہ جذبات سے بنتا ہے۔ اگر معاشرے سے آنسو چھین لیے جائیں تو وہ ایک ’’ روبوٹک‘‘ بستی بن جائے گا۔
کسی دوسرے کا دکھ دیکھ کر جب ہماری آنکھ نم ہوتی ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم ابھی تک ’’ انسان‘‘ ہیں۔ یہی جذبہ معاشرت میں عدل اور احسان کی بنیاد رکھتا ہے۔
توبہ کا پہلا قدم بھی آنسو ہے۔ گنہگار جب اپنے کیے پر شرمندہ ہو کر روتا ہے، تو نہ صرف اپنے گناہ دھوتا ہے بلکہ اپنے اردگرد بھی مثبت اثر پیدا کرتا ہے۔
آنکھ کے آنسو ادب اور احترام کے ساتھ بہانے چاہئیں۔ بے ادبی کے آنسو صرف دکھاوا ہیں، جب کہ با ادب آنسو خاموشی سے دل کی تبدیلی کا پیغام دیتے ہیں۔
آنکھ کے آنسو کی اقسام اور معنویت:
1۔ اشکِ ندامت: سیاہ ترین گناہوں کو دھوتے ہیں۔
2۔ اشکِ شکر و مسرت: جب کوئی انسان نعمت پائے، تو شکر کے آنسو بہتے ہیں۔
3۔ اشکِ فراق: محبت کی شدت اور جدائی کا کرب ظاہر کرتے ہیں۔
4۔ عشقِ اہلِ بیت کے آنسو: پاک اور نایاب موتی، دنیاوی مقصد سے بالاتر۔
سائنس کہتی ہے کہ آنسو آنکھ کی صفائی کرتے ہیں، مذہب اور فلسفہ کہتے ہیں کہ آنسو ’’ باطن‘‘ کی صفائی کرتے ہیں۔ اگر زمین پر بارش نہ ہو تو قحط پڑتا ہے، اگر آنکھ سے آنسو نہ برسیں تو روح میں قحط پڑ جاتا ہے۔
آنکھ کے آنسو انسانی وجود کی معراج ہیں۔ مٹی کا پتلا جب آنسو کی نمی سے روشن ہوتا ہے، تو نورانی مخلوق بن جاتا ہے۔ آنسو جہنم کی آگ بجھانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ یہ وہ لغت ہے جو دنیا کے ہر انسان کے لیے بغیر کسی ترجمے کے سمجھی جاتی ہے، اور یہ وہ سکہ ہے جو اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ مقبول ہے۔
میں سوچتا ہوں آنسو کی راج دھانی کتنی وسیع ہے
دکھ ہو تو آنسو
خوشی ہو تو آنسو
مایوسی ہو تو آنسو
بے بسی ہو تو آنسو
جذبات بڑھ جائیں تو آنسو
کچھ سمجھ نہ آئے تو آنسو
لفظ روٹھ جائیں تو آنسو
اظہار کا کوئی پیرایہ نہ سوجھے تو آنسو
اظہار جذبات کی سب سے اوپری منزل کا نام آنسو ہے
میں سوچتا ہوں
یہ آنسو کہاں کام نہیں آتے
خدا کو منانا ہو
روٹھوں کو گلے لگانا ہو
معافی مانگنا ہو
یہ آنسو کہاں کام نہیں آتے
یہ تو وہاں بھی کام کر جاتے ہیں جہاں باقی چیز بھی اپنی ناکامی کا اعلان کرتے ہوئے ہاتھ کھڑے کر دیتی ہے۔
بظاہر پسینہ بھی پانی اور آنسو بھی، مگر فرق زمین اور آسمان جتنا ہے: پسینہ جب نکلے تو محنت کی گواہی دیتا ہے ، انسان کو الجھن میں ڈال دیتا ہے، آنسو جب بہہ جائیں تو دل کو ہلکا کر دیتے ہیں اور مصیبت کو ٹال دیتے ہیں۔
آنسو موتی بن جاتا ہے آل کے غم میں جو بہتا ہے
ساغر یہ وہ گوہر ہے جو عرش پہ قیمت پاتا ہے
اور
جن کی آنکھوں میں ہوں آنسو انھیں زندہ سمجھو
پانی مرتا ہے تو دریا بھی اتر جاتے ہیں

جواب دیں

Back to top button