
کراکس: وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں ہفتے کی علی الصبح زوردار دھماکوں اور طیاروں کی پرواز سے ملتی جلتی آوازیں سنی گئیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے صحافی کے مطابق مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 2 بجے (پاکستانی وقت صبح 11 بجے) دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جو کچھ دیر تک جاری رہیں، تاہم ان کا درست مقام فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکا۔
یہ دھماکے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف زمینی حملوں کے امکان کا عندیہ دیا ہے۔ امریکا اس سے قبل کیریبین میں بحری ٹاسک فورس بھی تعینات کر چکا ہے۔ دھماکوں کی آوازیں رات 2 بج کر 15 منٹ تک بھی سنی جاتی رہیں۔
سی بی ایس کی رپورٹر جینیفر جیکبز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کو کراکس میں دھماکوں اور طیاروں کی پرواز سے متعلق رپورٹس کا علم ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز دعویٰ کیا تھا کہ امریکا نے وینزویلا میں مبینہ منشیات بردار کشتیوں کے لیے استعمال ہونے والے ایک ڈاکنگ ایریا کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کارروائی فوج نے کی یا سی آئی اے نے، اور نہ ہی حملے کے مقام کی تفصیل بتائی، صرف یہ کہا کہ کارروائی ساحلی علاقے میں کی گئی۔
یہ حملہ وینزویلا کی سرزمین پر امریکا کی جانب سے پہلا معلوم زمینی حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے نہ تو اس حملے کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید، تاہم انہوں نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں، حالانکہ حالیہ ہفتوں میں واشنگٹن نے فوجی دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔
امریکا نے وینزویلا پر دباؤ بڑھاتے ہوئے غیر رسمی طور پر اس کی فضائی حدود بند کی، مزید پابندیاں عائد کیں اور وینزویلا کے تیل سے بھرے ٹینکروں کو ضبط کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔ صدر ٹرمپ گزشتہ کئی ہفتوں سے خطے میں منشیات فروش گروہوں کے خلاف زمینی حملوں کی دھمکیاں دے رہے تھے، اور پیر کو ہونے والی کارروائی کو اس سلسلے کی پہلی مثال سمجھا جا رہا ہے۔
امریکی افواج ستمبر سے اب تک کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں متعدد کارروائیاں کر چکی ہیں، جن میں واشنگٹن کے مطابق منشیات اسمگلروں کی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم امریکی حکومت کی جانب سے اس بات کے شواہد فراہم نہیں کیے گئے کہ نشانہ بننے والی تمام کشتیاں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تھیں، جس کے باعث ان کارروائیوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
امریکی فوج کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس سمندری مہم کے دوران اب تک کم از کم 30 حملوں میں 107 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔







