Column

سیاسی مذاکرات ضروری ہیں

سیاسی مذاکرات ضروری ہیں
تحریر: رفیع صحرائی
وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے تو حکومت پاکستان بھی مذاکرات کے لیے آمادہ ہے تاہم غیرقانونی مطالبات اور بلیک میلنگ کے ساتھ کوئی ڈائیلاگ ممکن نہیں۔ کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہ قومی اسمبلی میں متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ جائز اور آئینی نکات پر مذاکرات آگے بڑھائے جا سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے اراکین کو اسمبلی میں بھی مذاکرات کی دعوت دی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی آڑ میں امن و امان کو خراب کرنے کی کسی مذموم کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
دوسری طرف پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا اختیار محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو سونپا گیا ہے۔ سلمان اکرم نے کہا کہ محمود اچکزئی کا موقف درست ہے کہ جس نے چوری کی ہو اس سے بات کیسے کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ پورے نظام نے مل کر عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا۔ اگر اس حقیقت کو مان لیا جائے تو پھر شفاف انتخابات کی جانب پیش رفت ممکن ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ وہ علیمہ خان کے مذاکرات سے متعلق بیان پر تبصرہ نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر محمود اچکزئی کے پاس مذاکرات کا اختیار ہے تو وہ مذاکرات کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے حال ہی میں کہا تھا کہ جو لوگ مذاکرات کی بات کر رہے ہیں وہ بانی پی ٹی آئی کے موقف کے ساتھ نہیں ہیں۔
جہاں تک میاں شہباز شریف کی اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کا تعلق ہے تو یہ پیشکش پہلی بار نہیں کی گئی۔ میاں شہباز شریف متعدد مرتبہ یہ پیشکش کر چکے ہیں۔ انہوں نے تو 2018ء میں بطور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر کے دوران بھی اس وقت کے نومنتخب وزیرِ اعظم عمران خان کو میثاقِ معیشت کی پیشکش کر کے دوستی اور خیرسگالی کا ہاتھ بڑھایا تھا جسے عمران خان نے حقارت سے یہ کہہ کر جھٹک دیا تھا کہ وہ چوروں اور ڈاکوں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے۔ اب یہ تقدیر کی ستم ظریفی ہے کہ وہ خود انہی جرائم کے تحت جیل میں بیٹھے سزا بھگت رہے ہیں جن جرائم کے ارتکاب کا الزام وہ اپنے مخالفین پر لگایا کرتے تھے۔ جب وہ فیضیاب تھے تو انہیں عدالتِ عظمیٰ سے صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ تک عطا کر دیا گیا تھا جسے انہوں نے خوب کیش کروایا، جب عمران خان بے فیض ہوئے تو اسی عدالت سے سرٹیفائیڈ چور بھی ڈکلیئر ہوئے اور صادق و امین کے ٹائٹل سے بھی محروم ہوئے۔ اسی ایک مثال سے ہمارے سسٹم کو سمجھا جا سکتا ہے۔
عمران خان جب حکومت میں تھے تب بھی مذاکرات کے قائل نہ تھے۔ اپوزیشن میں آئے تو پھر بھی سیاست دانوں سے مذاکرات سے انکار کرتے چلے آ رہے ہیں۔ درمیان میں مذاکرات کا ڈول ڈالا بھی گیا اور یہ سلسلہ شروع بھی ہوا مگر بے نتیجہ ختم بھی ہوتا رہا۔ وجہ یہی ہے کہ عمران خان مذاکرات کے ذریعے اقتدار کے خواہاں ہیں۔ وہ اقتدار کو عوام کا انتخاب نہیں بلکہ اپنا حق سمجھتے ہیں اور اس سے کم پر راضی نہیں ہیں۔ اسی لیے وہ سیاست دانوں کی بجائے براہِ راست اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات چاہتے ہیں تاکہ 2018ء کی طرح ایک مرتبہ پھر انہیں فیضیاب کیا جائے لیکن جب فیض ہی نہ رہا تو وہ فیضیاب کیسے ہو سکتے ہیں۔ کیسی عجیب بات ہے کہ عمران خان نے محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی بنا دی ہے مگر علیمہ خان کے بقول جو لوگ مذاکرات کی بات کر رہے ہیں وہ بانی پی ٹی آئی کے موقف کے ساتھ نہیں ہیں۔ ایسی صورت حال میں مذاکراتی کمیٹی کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اپنی پارٹی میں کوئی ایک بندہ بھی اس قابل کیوں نظر نہیں آیا کہ اسے مذاکراتی کمیٹی کا حصہ بنایا جا سکتا؟ کیا پی ٹی آئی کی موجودہ لیڈرشپ میں اہلیت کی کمی ہے یا بانی پی ٹی آئی کو اپنے لوگوں پر اعتماد نہیں ہے؟ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ علامہ ناصر عباس اور محمود اچکزئی کے مذاکرات کے بعد کیے گئے کسی معاہدے یا فیصلے کو عمران خان تسلیم بھی کر لیں گے؟ انہوں نے تو اپنی ہی پارٹی کے ارکان کی مقرر کردہ مذاکراتی ٹیم کے فیصلوں کو کبھی اہمیت نہیں دی۔
جہاں تک سلمان اکرم راجہ کے بیان کا تعلق ہے تو اس کی روشنی میں اگر بات شروع ہوتی ہے تو سلمان اکرم خود ہی اپنی بات یا مطالبے سے پیچھے ہٹنے میں ایک لمحے کی دیر نہیں لگائیں گے۔ بلاشبہ وہ بہت اچھے اور بلند پایہ وکیل ہیں مگر سیاست میں ابھی ناپختہ ہیں۔ اگر ان کی اس بات کی روشنی میں مذاکرات شروع ہوتے ہیں کہ پہلے اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ پورے نظام نے مل کر عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا تو یقیناً حکومت کا موقف یہی ہو گا کہ آپ کی بات سر آنکھوں پر، آئیے اس کی ابتدا 2018ء کے آر ٹی ایس زدہ الیکشن سے کرتے ہیں۔ کیا سلمان اکرم راجہ اس بات کو تسلیم کر لیں گے کہ 2018ء کی سیاسی وفا داریوں کی تبدیلی، عین وقت پر مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی ٹکٹ سے دستبرداری، آر ٹی ایس کے بیٹھ جانے اور جہانگیر ترین کے جہاز کی اڑان سے مذاکرات کا آغاز ہو؟ یہ سچ ہے کہ مذاکرات سے پہلے بڑے بڑے مطالبات اور شرائط رکھی جاتی ہیں تاکہ موت دکھا کر بخار پر راضی کیا جا سکے لیکن ایسے مطالبات پیش کرنا کہ جس کی زد میں اپنا آپ آ رہا ہو، کبھی نہیں کیے جاتے۔ سلمان اکرم کی یہ بات بھی معنی خیز ہے کہ اگر مینڈیٹ چوری کی حقیقت کو مان لیا جائے تو پھر شفاف انتخابات کی جانب پیش رفت ممکن ہے۔ حضور ! حکومت کو ایسی کیا مجبوری ہے کہ موجودہ وقت میں آپ کے ساتھ الیکشن کے موضوع پر بات کرے۔
موجودہ حالات میں دیکھا جائے تو مذاکرات کے حوالے سے پی ٹی آئی کسی ایک بات یا رائے پر متفق نہیں ہے۔ اس کی لیڈرشپ کنفیوژن کا شکار ہے۔ وجہ یہ ہے کہ سبھی بے اختیار اور بے بس ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو پارٹی کو یوتھیوبرز نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ وہی پارٹی کا بیانیہ بنا رہے ہیں اور وہی ورکرز کو لائن آف ایکشن دے رہے ہیں۔ وہ خود دھڑادھڑ ڈالرز کما رہے ہیں۔ آزاد عمران خان ان کے کسی کام کا نہیں۔ قیدی عمران خان ان کے لیے فائدہ مند ہے جسے وہ دن رات بیچنے میں لگے ہوئے ہیں۔ سیاسی ورکرز پارٹی سے مسلسل دوری اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ وہ اب بلاوجہ مزید مار کھانے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ جن ورکرز نے زمان پارک میں عمران خان کو اپنی ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بے بس کر دیا تھا۔ نو مئی کو اپنے قائد کے لیے فوج سے ٹکرا گئے تھے اب سخت سردی میں رات کے وقت ان ورکرز نے اپنے قائد کی بہن کو ٹھنڈے پانی کی بوچھار میں تنہا چھوڑ دیا ہے۔ پنجاب میں پی ٹی آئی انتہائی کمزور ہو چکی ہے۔ خیبرپختونخوا میں سہیل آفریدی کو جن توقعات کے ساتھ لایا گیا تھا وہ توقعات پوری ہوتی نظر نہیں آ رہیں۔ پارٹی تیزی سے زوال کی طرف گامزن ہے۔ پارٹی لیڈر سزا در سزا کے عمل سے گز رہے ہیں جس سے ورکر مایوسی کا شکار ہیں۔ انہیں اب جدوجہد کرنا فضول نظر آ رہا ہے۔ ایسے میں پارٹی قائد کو غیر سیاسی رویہ اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ دو ملکوں کے درمیان جنگوں کا حل بھی مذاکرات کی میز پر ہی نکلتا ہے۔ اب بانی پی ٹی آئی کو یہ بیانیہ ترک کر دینا چاہیے وہ چوروں ڈاکوں سے مذاکرات نہیں کریں گے۔ اس معاملے اب وہ بھی مخالفین کے صفحے پر آ چکے ہیں۔ نو مئی کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے ان کی کسی بات یا یقین دہانی پر اعتبار نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انہیں سیاست دان ہی موجودہ دلدل سے نکال سکتے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button