ColumnTajamul Hussain Hashmi

اس بار اڑان کی کہانی

اس بار اڑان کی کہانی
تحریر : تجمّل حسین ہاشمی
سیاست دان کا بیانیہ ہے جمہوری اور سیاسی نظام کو اسٹیبلشمنٹ چلنے نہیں دیتی، یہ بیانیہ ایک عرصے سے چلایا جا رہا ہے، اس حکومت میں آوازیں روک گئی ہیں کیوں اس وقت سب اکٹھے نظر آتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کا کہنا ہے کہ سیاست دان ٹھیک کام نہیں کرتے ، عوامی سہولتوں کے فقدان ، افراتفری اور لاء قانونیت کے ذمہ دار یہی سیاسی جماعتیں ہیں۔ جمہوری اور آمریت کے دور میں ایسی ہی صورتحال عوام کو درپیش رہی، فی الحال کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔ وہی عوامی مشکلات ہیں، روزگار، صحت اور انصاف کی بروقت فراہمی جیسے مسائل سینا تان کر کھڑے ہیں۔ کرپشن اور خاص کر اس سوچ نے تو سب کچھ تباہ کر دیا ہے کہ طاقت ہر ناجائز کام کر سکتی ہے، ہزاروں واقعات سب سامنے ہیں۔ ان 40سال میں کچھ نہیں بدلا ما سوائے اداروں کی تباہی، ان کی نیلامی، اخلاقی تباہی اور آئی ایم ایف کے قرضوں میں مسلسل اضافے کے، یہ سلسلہ کب تک روکے گا، اس کو کون روکے گا، بہتری کے ثمرات نظر کیوں نہیں آ رہے، سزا و جزا کے عمل کیوں روکا گیا ہے، شریعت کے متضاد کیوں فیصلے کئے گئے، یہ سب سوال ذہنوں کو گھوما رہے ہیں۔ بظاہر دنیا کے ساتھ کاروباری معاہدے روزانہ کی بنیاد پر دیکھ رہے ہیں لیکن مہنگائی، بے روزگاری اور لاقانونیت کا بھوت قابو میں نہیں ہے، عوامی تحفظات شدید ہیں، لوگوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے، لفظ سسٹم نے پورے نظام اور آئین کو مفلوج کیا ہوا ہے، یہ سسٹم کس بلا کا نام ہے، سسٹم کے آگے احتسابی ادارے کیوں بے بس ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد قوم کی دن رات محنت، لوگوں کے جذبے، ان کی خدمات سے قومی ادارے بنے، آج انہی اداروں کی فروخت کو فخر سمجھا گیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ چلو ایک اچھی بات یہ رہی کہ اس دفعہ ہمارے جسم کے حصے کے خریدار ہمارے اپنے لوگ ہیں، ویسے جمہوری حکمرانوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بھلے خریدار کوئی غیر ملکی ہو یا کوئی بدنام زمانہ تاجر ہو۔ ان کی نظر صرف اپنے مال و مفاد پر ہے۔ ویسے جمہوریت والوں سے بندہ پوچھے کہ جس اسٹیبلشمنٹ پر ان کے الزامات و تحفظات ہیں، ان کی سرپرستی میں چلنے والے تمام ادارے منافع بخش ہیں، پھر پی آئی اے کے نقصان کا ذمہ دار کون اور وہ کیسے ہو سکتے ہیں ؟۔ پی آئی اے کا جمہوری دور سے شروع ہونے والا نقصان کبھی کنٹرول نہیں ہو سکا۔ 1990ء کے آخری ایام میں Openskies policyاختیار کی گئی۔ ہمارے فیصلہ ساز اور جمہوری لیڈر ہوا بازی کی صنعت کو بغیر کسی تیاری کے کھلی مسابقت میں لے آئے، جس کی وجہ سے پی آئی اے اپنی مضبوط پوزیشن بر قرار نہ رکھ سکی، اوپن سکائی پالیسی نے دیگر ایئر لائنز کو بے حد توسیع دی۔ جس کی وجہ سے پی آئی اے کے روٹس اور منافع پر گہرا اثر پڑا۔ 2003ء میں 8ارب روپے کے نقصان کا سامنا تھا، اس وقت کے حکمران جنرل پرویز مشرف تھے، 2008ء میں 8000ہزار ملازمین تھے، جو بڑھ کر 15000تک پہنچ گئے جب زرداری صاحب حکومت میں تھے۔ ایک سوچ کے تحت ادارے تباہ کئے گئے ہیں، یہ سب انہی سیاسی و جمہوری تاجروں کا کیا دھرا ہے ۔ سیاسی بھرتیوں نے پی آئی اے کے نقصان میں ایک بڑا اضافہ کیا۔2016ء تک یہ نقصان 200ارب سے زیادہ تھا، لیکن دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے پی آئی اے کو کمزور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ رہی سہی کسر پی ٹی آئی کے رہنما سرور خان نے پوری کر دی، جہاز گرنے پر ان کے بیان نے پی آئی اے کا کاروبار ٹھپ کر دیا۔ پی آئی اے کی تباہی کے ذمہ دار ہمارے حکمران ہیں، یہی سچ ہے۔ پی آئی اے کے پاس 350سے 400ارب تک کے اثاثے ہیں اور مجموعی خسارہ 850ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ 38اداروں میں سے پی آئی اے کا خسارہ ٹاپ پر ہے۔ 2003ء سے 2018ء تک تباہی، بربادی کا شکار رہا، جب ایک طیارے کے لیے 414افراد بھرتی کئے جائیں گئے تو پھر ادارہ کیسے ترقی کرے گا۔ دنیا بھر میں کسی ملک میں ایسا نہیں ہوتا جیسے ہمارے ملک میں سرکاری اداروں کے ساتھ کیا جاتا ہے اور ان مافیاز کی سرپرستی سیاسی جماعتیں اور اداروں کی سپورٹ سے ہوتی ہے، یہ سلسلہ ابھی تک روکنے کا نام نہیں لے رہا، ابھی مزید ادارے تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں، ان کو کمزور کرنے اور لوٹنے والے کون لوگ ہیں اس بات کا جواب ملکی اداروں کو دینا چاہئے، سیاسی نہیں حقیقت عوام کے سامنے رکھیں۔ جن کا کام ملکی سلامتی، احتساب اور عوامی مفادات کا تحفظ کرنا ہے، ایک قدم آگے آئیں اور ملک بچائیں، اگر گھر کے برتن بیچ کر نظام بچانا ہے تو اس سے بڑی ناکامی کوئی نہیں ہو سکتی، گھر کے برتن فروخت کرنے کے بعد سب بیانیے، سب دعوے جھوٹے ہیں۔ ملک کی ترقی کے بنیادی اصول ہمارے مقتدر حلقوں اور جمہوری لیڈروں کو پسند نہیں، ہماری پیدائش سے لے کر موت تک کے تمام قانونی کاغذات بائیو میٹرک ہیں، لیکن ووٹ کی بائیو میٹرک ہمیں منظور نہیں، اس کیلئے ٹھپہ سسٹم چلے گا، جہاں سے نظام میں بہتری کی امید ہے وہاں تبدیلی قبول نہیں۔ کیوں کہ حکمرانوں کے کھاتے بند ہو جائیں گے، آئی ایم ایف کا دروازہ بند ہو جائے گا ، جسم کا کوئی حصہ فروخت نہیں ہو گا۔ ملک تکلیف میں ہے، اس کیلئے صدا دی ہے، بچا لو وقت کم ہے، دنیا بدل رہی ہے۔

جواب دیں

Back to top button