Column

بھارت کی آبی جارحیت کے مذموم ہتھکنڈے

بھارت کی آبی جارحیت کے مذموم ہتھکنڈے
شاہد ندیم احمد
پاکستان اور بھارت کے ما بین سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کا ایک اہم ذریعہ ہے اور بھارت کی جانب سے تنازعات کے حل سے فرار عالمی قوانین کی نفی کے مترادف ہے، جون اور اگست 2025ء میں ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کی نہ صرف حیثیت، بلکہ اس معاہدہ کو بھی نافذ العمل قرار دیا اوراس کی پاسداری دونوں فریقین پر لازم کی ہے، اس کے باوجود بھارت پاسداری نہیں کر رہا ہے، اس پر اقوام متحدہ کے خصوصی طریقہ کار نے بھی، تشویش ظاہر کی ہے، جبکہ بھارتی وزیر داخلہ کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ بحال نہ کرنے اور پانی کا رخ موڑ نے کے اعلانات نہایت تشویشناک ہیں، جبکہ پاکستان پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ پانی روکنا یا اس کا رخ موڑنا جنگی اقدام تصور ہوگا۔
اگر دیکھا جائے تو بھارت کی جانب سے دریائے چناب اور جہلم کے پانی کے بہائو پر اثر انداز ہونے کی کوششیں ایک عرصے سے کسی نہ کسی صورت میں جاری ہیں، تاہم اس سال معرکہ حق میں پاکستان کے ہاتھوں شکست فاش کے بعد بھارت کی جانب سے آبی جارحیت اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے اقدامات کھل کر سامنے آنے لگے ہیں، بھارت کا بس نہیں چل رہا ہے کہ کسی طرح اپنی ہار کو جیت میں بدلے ، لیکن ایسا کچھ کر نہیں پا رہا ہے تو بو کھلاہٹ میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے، دریائوں کا پانی بند کر رہا ہے، حالا نکہ اس دریائی پانی کی تقسیم کے معاہدے کو اس حد تک مثالی قرار دیا جا سکتا ہے کہ اس کی پاسداری ہر قسم کے حالات میں کی جاتی رہی ہے، تاہم کچھ برسوں سے دیکھنے میں آ رہا ہے کہ بھارت ایک منظم سازش کے تحت سندھ طاس معاہدے کو کمزور اور غیر موثر کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔
بھارت کے یہ اقدامات جنہیں بی جے پی کا سیاسی ایجنڈا قرار دینا چاہیے، علاقائی امن اور استحکام کیلئے غیر معمولی خطرہ ہیں، سندھ طاس معاہدے کی رُو سے پاکستان کیلئے طے شدہ حصے میں کمی، پانی کے بہائو پر اثر انداز ہونے اور اچانک اتار چڑھائو کے ہتھکنڈے اور دریائی پانی کو متعصبانہ سیاست کا آلہ کار بنانے کی کوششیں، بلاشبہ علاقائی خطرات میں اضافے کی ایک قابلِ غور اور تشویشناک وجہ ہیں، یہ بھارت کی آبی جارحیت ہر دو صورتوں میں پاکستان میں بحران کا سبب بننے کی صلاحیت رکھتی ہے، پاکستان میں بہنے والے چناب اور جہلم یا ان میں سے کسی ایک دریا کے پانی کو روکنے کا مطلب ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ آبادی والے وسطی علاقے، جو زرعی اعتبار سے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ملک کیلئے خوراک کی ٹوکری قرار دئیے جا سکتے ہیں، پانی کی کمی سے غیر معمولی طور پر متاثر ہو سکتے ہیں اور ملک میں پانی کے علاوہ خوراک کا بحران بھی سر اٹھا سکتا ہے، دوسری صورت میں بھارت دریائے چناب پر تعمیر شدہ آبی ذخائر سے ذخیرہ شدہ پانی چھوڑتا ہے تو پنجاب کے وسطی علاقوں میں سیلابی صورتحال شدید تباہی لا سکتی ہے، جیسا کہ اس سال کے سیلابو ں کے دوران ہوا ہے، اس لیے سندھ طاس آبی وسائل کی جانب بھارتی سازشوں کو نظر انداز کرنا مزید ممکن نہیں رہا ہے ، کیو نکہ بھارت ماضی کی طرح ڈھکے چھپے انداز سے نہیں، بلکہ اب واضح طور پر آبی جارحیت کا ارتکاب کر رہاہے اور اس حوالے سے بھارتی وزیراعظم سمیت متعدد عہدیداروں کے دھمکی آمیز بیانات ریکارڈ پر ہیں۔
اس بیان بازی کو سیاسی شعبدہ بازی کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا ہے، بھارت ایک سازش کے تحت سب کچھ کر رہا ہے اور اس سازش کا توڑ کرنے کیلئے جو کچھ ممکن بنے، کیا جانا ضروری ہے، حالیہ دنوں دریائے چناب کے پانی میں اچانک کمی بھارت کی انہی جارحانہ حرکتوں کا ایک ثبوت ہے، وزارت آبی وسائل کے مطابق 10سے16دسمبرتک چناب میں گزشتہ 10سال کی تاریخی سطح سے کہیں کم بہائو ریکارڈ ہوا اور دریا کا پا نی کم ترین بہائو کی سطح تک گر گیا، اس غیر معمولی کمی کا ارسا کے فورم کو بروئے کار لاتے ہوئے جواب طلب کیا گیا، اس پر بھارت کا جواب کچھ بھی ہو، مگر دریائی پانی کے بہائو پر اثر انداز ہونے کی بھارتی حرکتیں اور دریائی پانی کی تقسیم کے معاہدے کو ناکام بنانے کی سازشیں بڑے آبی بحران اور علاقائی سطح پر کسی بڑے تنازعے کا سبب بن سکتی ہیں اور شاید بھارت ایسا ہی کچھ چاہتا ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ بھارت کی جانب سے آبی وسائل پر قبضہ اور معاہدوں کی خلاف ورزی خطے کی دیرپا ترقی اور امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، اگر اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا اور اس کا بروقت حل نہ نکالا گیا تو آنے والے وقت میں اس کے نقصان دہ اثرات نہ صرف پاکستان، بلکہ پورے جنوبی ایشیا کو متاثر کریں گے، اس لیے تمام متعلقہ فریقین کو چاہیے کہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں اور مل کر پانی کے وسائل کے موثر انتظام کے لیے اقدامات کریں، عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور بھارت کو اس کی آبی جارحانہ کارروائیوں سے باز رکھنے کے لیے موثر اقدامات کرے، تاکہ خطے میں امن قائم رہے اور پاکستان پانی کے حقیقی حق سے محروم نہ ہو۔ اگر بھارت نے اپنی روش نہ بدلی اور آبی جارحیت کے مذموم ہتھکنڈوں سے باز نہ آیا تو آئندہ پاک، بھارت جنگ پانی پر لڑی جائے گی، جوکہ ایک بڑی ایٹمی جنگ میں بھی بدل سکتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button