ہم 6ستمبر کا دن کیوں مناتے ہیں؟

ایئر وائس مارشل ( ر) آفتاب حسین
6 ستمبر کو منانے کی اہمیت اکثر نوجوان نسل سے غائب ہو چکی ہے۔1965ء کی جنگ کوئی ایکدم نہیں ہوئی تھی ، اسکے پیچھے پاکستان اور بھارت کے درمیان1947۔48کے تنازعات کا ہاتھ تھا۔ ان تنازعات کی گہری سیاسی، فوجی اور انٹرنیشنل وجوہات تھیں۔ لیکن اس آرٹیکل میں صرف فوجی پہلو پر توجہ ہوگی، خاص طور پر 1965کی جنگ کے پس منظر کے تناظر میں۔
1965کی جنگ1947۔48کے تنازعے کی توسیع تھی، جس کا آغاز برطانیہ کے تعاون کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ اور ہندوستان کے مابین والے متنازعہ معاہدے سے ہوا تھا۔ جس کے نتیجے میں بھارت نے کشمیر پر زبردستی قبضہ کرلیا۔ اس کے جواب میں افغانستان کے قبائلی لشکر جس کو پاکستان سے آفریدی، وزیر، مہمند اور محسود قبائل کے لوگوں نے جوائن کیا، ایک بہت بڑے لشکر میں تبدیل ہو گیا۔اس لشکر کی یلغار کی وجہ سے مظفرآباد اور میر پور ( آزاد کشمیر) آزاد ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ گلگت اور پونچھ میں مقامی بغاوتیں بھی ہوئیں۔ بھارتی فوج کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا گیا اور جنگ بندی قائم کی گئی، جس کے بعد مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی 15۔16قراردادیں منظور ہوئیں۔
1962 میں سیاچن کے علاقے میں سرحدی تنازع پر بھارت اور چین کی لڑائی ہوئی۔ اس دوران چین نے پاکستان کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس صورتِ حال کا فائدہ اُٹھائے اور کشمیر پر قابض ہو جائے، لیکن پاکستان نے امریکی پریشر کی وجہ سے یہ موقع گنوا دیا۔1965 میں صدارتی انتخابات جیتنے کے بعد جنرل ایوب خان نے رن آف کچھ میں آپریشن ڈیزرٹ ہاک کا آغاز کیا اور بھارتی علاقے کے ایک اہم حصے پر قبضہ کر لیا۔ تاہم جنگ بندی کا پھر نفاذ عمل میں آیا اور مسئلہ کشمیر کے حل پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
1964میں مقبوضہ کشمیر میں ایک بڑی بغاوت ہوئی۔1965میں پاکستان نے آپریشن جبرالٹرکا آغاز کیا، جس میں آزاد کشمیر کے رضاکاروں نے حصہ لیا، کشمیر کو آزاد کرنے کیلئے اس کے بعد آپریشن گرینڈ سلام شروع کیا گیا اور جس کے بعد جنگ محدود سطح پر شروع ہو گئی۔ بھارت کی حکمت عملی میں 6ستمبر 1965کو لاہور، سیالکوٹ پر حملہ شامل تھا اور جی ٹی روڈ کو منقطع کرنا بھی اس کا حصہ تھا۔ ان علاقوں پر قبضہ کا مقصد کشمیر پر مذاکرات میں فائدہ اُٹھانے کیلئے استعمال کرنا تھا۔ تاہم پاکستان کی مسلح افواج اس طرح کے حملے کیلئے پوری طرح تیار تھیں۔
پاک فوج نے بی آر بی نہر اور سیالکوٹ کے علاقے چونڈہ میں بڑی لڑائی کی اور تاریخ رقم کی۔ میجر عزیز بھٹی ( نشانِ حیدر) نے 3دن اور راتیں دشمن کے حملوں کو روکے رکھا اور شجاعت کی عظیم داستان قائم کی۔ چونڈہ میں ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی ہوئی، جس میں افسران اور نوجوانوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے عظیم کارنامہ سر انجام دیا اور دشمن کے ارادوں کو شکست دی۔ سائز میں چھوٹا ہونے کے باوجود پاکستان نیوی نے انڈین دوارکا بیس پر ریڈار کو تباہ کیا، جس کی وجہ سے کراچی انڈین حملوں سے محفوظ رہا۔ پاکستان ایئر فورس نے 17دن کی جنگ میں ایک بہت بڑی ائر فورس کو شکست دی اور خود تقریباََ محفوظ رہی۔
پاک فضائیہ کو پچھلے ائر چیف مارشل اصغر خان کی بصیرت افروز قیادت اور ائر مارشل نور خان کی متحرک ، نڈر اور مثالی لیڈرشپ نے ناقابل تسخیر ڈھال فراہم کی۔ ایئر مارشل نور خان نے صرف 42سال کی عمر میں1965کی جنگ سے صرف 2ماہ قبل ائر فورس کی قیادت سنبھالی تھی۔ انہوں نے خود جہاز چلا کر جنگ کا آغاز کیا اور فرنٹ سے ائر فورس کو لیڈ کیا۔ ان کا کردار ایئر فورس کے آفیسرز اور جوانوں کیلئے ایک مثال بن گیا۔ انہوں نے کئی مشکل آپریشنز میں خود کمانڈ کی اور کامیابیاں حاصل کیں۔ پاک فضائیہ نے اپنی عددی کمزوری کے باوجود ایف 104سٹار فائٹر اور سائڈ ونڈر سے لیس F۔86سیبر کی تکنیکی برتری کا خوب فائدہ اٹھایا، ایئر فورس پائلٹس نے جرات اور بہادری کا شاندار مظاہرہ کیا اور دشمن کے طیارے اُن کے ہوائی اڈوں پر تباہ کیے۔
اس میں سکوڈرن لیڈر سرفراز رفیقی، سکوڈرن لیڈر منیر اور فلائٹ لیفٹیننٹ یونس حسن نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ایئر فورس کے بمبار طیارں نے رات کو بھارتی ہوائی اڈوں پر تابڑ توڑ حملے کیے اور اس کا ساتھC۔130ٹرانسپورٹ طیارں نے خوب دیا۔ سلو رفتار کے باوجود ان جہازوں نے اور اس کے عملے نے بہت شاندار بمباری کی جو دنیا بھر میں ایک ریکارڈ ہے ۔ 1965کی جنگ میں ہمارے عیسائی پائلٹوں نے بھی بے شمار داستانیں مرتب کیں اور پیشہ وار نہ صلاحیتو ں کا خوب مظاہرہ کیا اس کی مثال کہیں نہیں ملتی، اسی طرح مشرقی پاکستان میں ائر فورس نے کلکتہ تک ہوائی اڈوں پر حملہ کر کے دشمن کو خاموش کر دیا۔
1965 جنگ میں کامیابی حادثاتی طور پر نہیں تھی بلکہ امن کے دور میں کی جانے والی کوششوں کا نتیجہ تھ،ی پاک فضائیہ نے خاص طور سکوڈرن لیڈر ایم ایم عالم نے 55سیکنڈ کے قلیل وقت میں دشمن کے پانچ طیارے تباہ کئے، جو آج بھی کسی بھی ہوائی جنگ میں ایک ورلڈ ریکارڈ ہے۔ پاک فضائیہ کی قیادت میں اور ہوائی برتری کی وجہ سے پاکستان کی افواج نے دشمن کے ناپاک ارادوں کو ناکام کیا اور عبرت ناک شکست سے دوچار کیا۔ اور اس کا لاہور، سیالکوٹ پر قبضہ کرنے کا خواب چکنا چور کر دیا۔ اس کامیابی کے پیچھے پوری قوم کا حصہ بھی تھا جس نے افواج پاکستان کو بہت سپورٹ کیا ، حوصلہ بڑھایا اور شانہ بشانہ ہر محاذ پر ساتھ دیا۔ 6ستمبر کا دن ہمیں ان لمحات کی یاد دلاتا ہے، جس میں پاک افواج نے ایک بہت بڑی فوج کے خلاف کامیابی حاصل کی۔ اس دن کی تقریبات کو اس پائیدار وراثت کی یاددہانی کے لیے منایا جاتا ہے۔ پاکستان زندہ باد







