اے کاش

صفدر علی حیدری
ہر انسان اپنا بھلا چاہتا ہے۔ اپنی فلاح چاہتا ہے۔ ہر اچھی چیز اپنی ہوتے دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ کبھی نہیں چاہتا کہ دھوکا کھائے، خسارہ اٹھائے، گھاٹے کا سودا کرے، شکست کھا جائے، دوسروں سے پیچھے رہ جائے۔ کسی کامیاب انسان کو دیکھتا ہے تو رشک کرتا ہے۔ حسد تک کرنے لگتا ہے۔ چاہتا ہے ویسا اسے بھی مل جائے۔ چھیننا جھپٹی تک سے باز نہیں آتا۔ ہر وہ کام کرتا ہے جس سے اسے فائدے کی ہلکی سی بھی امید ہو۔ اس کوشش میں دھکے کھاتا ہے، دھکے کھاتا ہے، دھتکارا جاتا ہے۔ بس اسے اپنے مفاد کی فکر رہتی ہے۔ اپنے مفاد کے آگے اسے کچھ نظر نہیں آتا۔ بعض اوقات تو خدا بھی نہیں اسے دکھائی نہیں پڑتا۔
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟
کبھی سنگ ریزے میں لکھا تھا:
کایا پلٹ
بچہ جب چھوٹا ہوتا تو جوتے الٹے پہنتا ہے، قدم سیدھے رکھتا ہے۔
بڑا ہو جائے تو اکثر یہ ترتیب الٹ جاتی ہے۔ اب وہ جوتے سیدھے پہنتا ہے قدم الٹے رکھتا ہے
انسان کی ایک ’’ خوبی ‘‘ ایسی ہے جو اس کی تباہی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ یعنی جلد بازی۔ اس نے سن رکھا ہے کہ جلدی کا کام شیطان کا مگر پھر بھی جلد بازی سے نہیں چوکتا۔ یہی جلد بازی اسے عاقبت اندیشی، دور اندیشی اور دانش مندی سے کوسوں دور کر دیتی ہے۔ حالاں کہ وہ خوب۔ جانتا ہے کہ جلدی صرف چند مقامات پر جائز ہے۔ سب سے بڑھ کر نیکی کے کاموں میں۔ کیوں کہ کہا گیا ہے ’’ ہر چیز کا ایک حسن ہے، نیکی کا حسن یہ ہے کہ اسے کرنے میں جلدی کی جائے ‘‘
انسان مگر ہر کام میں عجلت کر جاتا ہے سوائے نیکی کے۔ وہ اس معاملے میں بھول کر بھی جلدی نہیں کرتا۔
سنا ہے کامیاب انسان وہ بھی ہوتا ہے جس کی گفتگو میں اے کاش، افسوس وغیرہ جیسے الفاظ نہیں ہوتے۔ یا کم از کم، کم سے کم ہوتے ہیں۔ اس کی برعکس ناکام آدمی ایسے الفاظ بول کر اپنے ماضی پر پچھتاتا اور اپنا بچا کھچا وقت بھی ضائع کرتا رہتا ہے۔
کسی سیانے سے کامیابی کا راز پوچھا گیا تو اس کا کہنا تھا ’’ مجھے کامیابی کا راز تو نہیں معلوم، ہاں البتہ ناکامی کا راز جانتا ہے۔ جب انسان سب کو راضی کرنے کی کوشش کرنے لگے، ناکام ہو جاتا ہے‘‘۔
ہم بھی اتفاق سے کچھ ایسا ہی کرنے لگ جاتے ہیں۔ کسی اپنے کی محبت ہمیں ’’ عشق ممنوع ‘‘ پر مجبور کر دیتی ہے۔ یہ عشق پر دو صورتوں میں ممنوع ہے۔ اپنی ذات سے ہو خودی کی موت، دوسروں سے ہو انا کی موت۔۔
محسن نقوی یاد کیا اچھے وقت پر یاد آئے
دنیا کی ہوس پھر مجھے برفاب نہ کر دے
اے گرمی احساس انا تیز بہت ہو
ہمارا رب بڑا کریم ہے۔ سب سے بہتر جانتا ہے کہ انسان قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتا ہے، غلطی کرتا ہے مگر۔۔۔ سمجھتا پھر بھی نہیں، سنبھلتا پھر بھی۔ سو اس نے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ ہدایت کی باتیں کسی نہ کسی ذریعے سے بھیجتا رہتا ہے۔ اشارے دیتا رہتا ہے کہ سنبھل جائو مگر۔۔۔انسان کا جسم تھکتا ہے اس کا دل بھی تھکتا ہے۔ حکمت آموز اشارے اس کو تھکے دل کو تھپکتے ہیں، زنگ آلود قلب کو صیقل کرتے ہیں۔ توبہ کا در تمام عمر کھلا رہتا ہے۔ انسان غلطی پہ غلطی کرتا ہے مگر جب رجوع کرتا ہے بخش دیا جاتا ہے۔ ایک ہی غلطی دہراتا ہے پھر بھی معافی مانگنے پر معاف کر دیا جاتا ہے۔
انسان کے کھلے دشمن نے راندہ درگاہ ہوتے وقت اپنے رب کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا ’’ میں اسے آگے سے بہکائوں گا، پیچھے سے بہکائوں گا، دائیں سے بہکائوں گا، بائیں سے بہکائوں گا‘‘
اس پر رب تعالیٰ نے جواب دیا تھا: ’’ تو نے دو سمتیں چھوڑ دیں۔ یہ ہاتھ اوپر اٹھائے میں معاف کر دوں گا، یہ سر جھکائے گا میں اسے معاف کر دوں گا ‘‘۔
اس سب کے باوجود انسان اس دنیا کی رنگینیوں میں کھو کر اپنی راہ کھوٹی کر بیٹھتا ہے۔ بے نیل و مرام رہتا ہے۔
کلام خالق نے ایسے ہی لوگوں کے بارے فرمایا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو پچھتائیں گے، اے کاش ( یلیتنی) کہہ کر حسرت و یاس کی تصویر بنے گا۔
سو موت کے بعد انسان کی نو آرزوئیں، نو کاش ہوں گے، جن کا تذکرہ قرآن مجید میں ہوا ہے:
اے کاش میں مٹی ہوتا
اے کاش میں نے اپنی آخری زندگی کے لیے کچھ سوچا ہوتا
اے کاش مجھے میرا نامہ اعمال نہ دیا جاتا
اے کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا
اے کاش ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کی ہوتی
اے کاش میں رسول کا راستہ اپنا لیتا
اے کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بہت بڑی کامیابی حاصل کر لیتا
اے کاش میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہوتا
اے کاش کوئی صورت ایسی ہو کہ ہم دنیا میں پھر سے واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوں
یہ ہیں وہ آرزوئیں جن کا موت کے بعد حاصل ہونا ناممکن امر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے لوگوں میں شمار نہ کرے جو قیامت کے اے کاش کہہ کر ہاتھ ملتے ہوں۔





