Column

آزاد کشمیر میں روزگار کے مقامی ذرائع

تحریر : ڈاکٹر محمد صغیر خان
ہجرت سنت بھی ہے اور ضرورت بھی۔ انسان ازل سے ایک جگہ سے دوسری جگہ، ایک علاقے سے دوسرے علاقے، ایک ملک سے دوسرے ملک اور ایک براعظم سے دوسرے براعظم ہجرت کرتا آیا ہے اور شاید یہ عمل ابد تک جاری رہے گا۔ ہجرت کے بے شمار اسباب رہے ہیں۔ ان میں سیر و تفریح، نئے ماحول کی جانکاری، تعلیم کا حصول وغیرہ بھی اہم رہے ہیں لیکن ایک بہت بڑا سبب معاشی ذرائع اور روزگار کی تلاش رہے ہیں۔ دنیا بھر کی طرح آزاد کشمیر سے لوگوں کی قریبی علاقوں، شہروں اور ملکوں کی طرف ہجرت ابتداء سے جاری ہے۔ ابتداء میں لوگ پاکستان کے مختلف شہروں کا رخ کرتے رہے ہیں اور اس خود اختیاری ہجرت کا ایک بڑا سبب روزگار اور معاش کی تلاش رہا ہے۔ اسی طرح خال خال دوسرے ملکوں کو سدھارتے رہے ہیں اور اس کے پیچھے بھی معاشی عامل کارفرما رہا ہے۔ جب منگلاڈیم بنا تو میرپور اور نواح سے لوگوں کی بڑی تعداد کو برطانیہ جانے کے مواقع مہیا کیے گئے۔ اس ہجرت کا اصل سبب روزگار کی فراہمی ہی تھا۔ جب برطانیہ میں ان علاقوں کے لوگوں کی ایک معقول تعداد رچ بس گئی اور انہیں روزگار بھی میسر آیا تو تب اُنہوں نے آزاد کشمیر میں رہتے بستے اپنے رشتہ داروں اور متعلقین کو بھی کسی نا کسی طرح ولایت بلانا شروع کر دیا کہ ان کو بہتر روزگار میسر آ سکے۔ ستر کی دہائی میں جب سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوئے تو آزاد کشمیر سے لاکھوں لوگ ان ذرائع سے فائدہ اٹھانے کشاں کشاں وہاں پہنچے۔ بیرون ممالک میں محنت کرکے بہتر معاوضہ حاصل کرنے والے افراد نے وقت کے مطابق اپنے اہل خانہ و متعلقین کو وافر مالی وسائل مہیا کیے جن سے یہاں کے لوگوں کی معاشی حالت بدلی، معیار زندگی میں بہتری آئی، تعلیم ذرا عام ہوئی اور پھر محل نما مکانات اور پرتعیش حیات کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس سارے عرصہ میں جب بیرون ممالک سے یہاں کثیر مقدار میں زرمبادلہ آتا رہا۔ بدقسمتی سے لوگ اپنے آبائی پیشوں سے دور ہوتے گئے۔ اس کے ساتھ یہاں روزگار کے متبادل ذرائع یعنی صنعتوں کے قیام جیسے فیصلوں سے بوجوہ گریز کیا گیا۔ یوں پیسے کی چکا چوند سے عارضی خوشحالی تو آئی لیکن اسے بہتر مستقبل کے لئے ایک معقول ذریعہ کے طور پر برتا نہ جا سکا۔ اب جب دنیا بھر میں معاشی کساد بازاری کا ’’ رواج‘‘ ہے تو دوسری طرف مشرق وسطیٰ اور سعودی عرب ایک تعمیراتی فیز مکمل کرکے نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس دوران ان کے معاشی وسائل میں بھی کمی آئی ہے تو اپنی افرادی قوت بھی بڑھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں روزگار کے ذرائع ہمارے لئے محدود تر ہو رہے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ آزاد کشمیر سے کسی نا کسی طرح نوجوانوں اور دیگر افراد کی امریکا، کینیڈا اور دوسرے یورپی ممالک کی طرف ہجرت جاری ہے لیکن ان افراد کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ جبکہ مقامی سرکاری اداروں میں کسی بھی نوع کے روزگار کے مواقع محدود تر ہوتے جار رہے ہیں جبکہ لکھے پڑھے نوجوانوں کی تعداد برابر بڑھ رہی ہے۔ یہی وہ موقع ہے جب ریاست کے افراد کو یہاں پائے جانے والے وسائل اور ذرائع کی ایک بار پھر تفہیم کرتے ہوئے روزگار کے مقامی ذرائع کی نشاندہی، ترویج و ترقی اور ان کے برتاوے کی طرف بڑھنا ہو گا۔
آزاد کشمیر میں روزگار کے مقامی ذرائع کا جائزہ لیا جائے تو درج ذیل شعبے سامنے نظر آتے ہیں۔
زراعت: زمینداری آزاد کشمیر کی ایک بڑی آبادی کا ذریعہ معاش رہا ہے۔ اب اگرچہ آبادی کے پھیلائو سے زیر کاشت رقبہ ضرور کم ہوا ہے لیکن اس کے باوجود اپنی زمینوں کو جدید انداز میں کاشت کرکے معقول وسائل حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آزاد کشمیر کے لوگوں کو دوبارہ زراعت کی طرف متوجہ کیا جائے اور انہیں مختلف فصلوں کے اگائو کی طرف راغب کیا جائے۔
باغبانی: باغبانی زراعت ہی کا وہ حصہ ہے جو پھلدار درختوں کی کاشت سے متعلق ہے۔ آزادکشمیر کے مختلف علاقوں میں مختلف پھلدار درخت بآسانی کاشت ہو سکتے ہیں۔
(باقی صفحہ5پر ملاحظہ فرمائیں)

لوگوں اور حکومت کے متعلقہ اداروں کو اس طرف توجہ کرنا ہو گی اور لوگوں کو باغبانی کے نفع بخش عمل سے جوڑنا ہو گا۔
شجرکاری: شجرکاری جہاں ثواب بھی ہے وہاں یہ ماحول کی بہتری کا اہم ذریعہ بھی ہے۔ اس کے علاوہ غیر پھلدار اور تیزی سے بڑھتے درختوں کی کاشت سے جہاں ایندھن کی ضرورتیں پوری کی جا سکتی ہیں وہاں عمارتی لکڑی اور دیگر صنعتی پراجیکٹس پر بھی کام کیا جا سکتا ہے اور یوں لوگوں کو مقامی طور ایک معقول ذریعہ معاش میسر آ سکتا ہے۔گلہ بانی: مویشی پالنا یہاں کے لوگوں کی پرانی روایت ہے اور عادت بھی۔ اس عمل کو جدید اُصولوں کے تحت نئی جہت دے کر مقامی ضرورتوں کو بھی پورا کیا جا سکتا ہے اور ذریعہ معاش کے طور پر اپنایا جا سکتا ہے۔
ڈیری فارمنگ: دودھ، مکھن، دہی، لسی، پنیر اور گھی وغیرہ ماضی بعید سے ہماری خوراک کا سب سے اہم جزو رہا ہے۔ آج بھی گائیں، بیل، بھینس، بھیڑیاں و بکریاں وغیرہ پال کر، ان سے دودھ حاصل کرکے جہاں مقامی ضرورتیں آسانی سے پوری کی جا سکتی ہیں، وہاں انہیں قریبی منڈیوں میں بیچ کر معقول معاوضہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ بڑی تعداد میں لوگ اس پیشہ کو بطور روزگار اختیار کر سکتے ہیں۔
پولٹری فارمنگ: مرغی کا گوشت اور انڈے جہاں ہماری روزمرہ کی ضرورت ہیں وہاں کاروبار کی وسیع فیلڈ ان اسباب سے جڑی ہوئی ہے۔ جدید اُصولوں کے تحت مرغبانی کرکے کثیر معاوضہ کا حصول زیادہ مشکل نہیں۔ یہ شعبہ بھی بیشمار لوگوں کے لئے روزگار کی ضمانت مہیا کر سکتا ہے۔
مگس بانی: شہد غذا بھی ہے اور دوا بھی۔ اس کا استعمال پورے معاشرے میں عام ہے۔ شہد کی مکھیوں کی مقامی طور پر افزائش اور ان سے شہد کا حصول ایک آسان سا عمل ہے۔ اس عمل کو جدید سائنسی پیمانے پر روا رکھ کر جہاں شہد کی مقامی ضرورتیں پوری کی جا سکتی ہیں وہاں اسے ذریعہ معاش کے طور پر بھی اپنایا جا سکتا ہے۔
گھریلو دستکاریوں کا فروغ: بیشمار گھریلو دستکاریاں جس میں قالین بانی جیسی جدید اور بڑی صنعت بھی شامل ہے، ایسی ہیں جن کو معقول ذریعہ معاش بنانا انتہائی سہل ہے۔ یہ عمل جہاں ہمارے ثقافتی ورثے کو نئی زندگی دے سکتا ہے، وہاں یہ اپنی ضرورتوں کی تکمیل اور بہتر معیشت میں بھی بے حد معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ ہاتھ سے بنی چیزیں، لوئی، گبّہ اور نمد پٹو دوسرا بہت سا سامان جہاں سیاحوں کی دلچسپی کا جواز رکھتا ہے وہاں اسے جدید ذرائع کے استعمال سے بہتر اور دیدہ زیب بنا کر ملکی و عالمی منڈی تک بھی پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس سے روزگار کے بے شمار مواقعوں کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔
چھٹی صنعتوں کا قیام: مختصر سے سرمایے سے قائم ہو سکنے والی یہ صنعتیں جو فی زمانہ ضرورت کی ہر چیز بنانے پر قادر ہیں کا مقامی طور پر قیام آزاد کشمیر کی معاشی صورتحال میں مثبت اور دیرپا تبدیلی کا ایک اہم ذریعہ ہوسکتا ہے۔ آزاد کشمیر میں چونکہ ہائیڈرل پاور پراجیکٹس سے وافر اور سستی بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ اگر اسے مفت یا مناسب قیمت پر ان صنعتوں کے قیام کے لئے وقف کیا جائے اور لوگوں کو اس جانب راغب کیا جائے تو ایسی لاتعداد صنعتیں وجود پذیر ہو سکتی ہیں جو مقامی روزگار کے مواقعوں کو تیزی سے بڑھوتی دے سکتی ہیں۔
فش فارمنگ: آزاد کشمیر میں جہاں بارشیں مناسب مقدار میں ہوتی ہیں وہاں بہتے ندی نالوں اور دریائوں کی بھی کمی نہیں۔ اس سنہرے سیال کو ’’ فش فارمنگ‘‘ کے لئے استعمال کرتے ہوئے بڑی تعداد میں مچھلی پیدا کی جا سکتی ہے اور اس سے مقامی طور پر روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
ٹیلرنگ: آزاد کشمیر کی آبادی میں بے محابا اضافہ ہوا ہے۔ دوسرا یہاں کے مکینوں کا مزاج خوش پوشی ہے۔ بدقسمتی سے مقامی طور پر ٹیلرنگ کا شعبہ خاص مندے کا شکار ہے۔ اب جب ہر ہر جگہ درزیوں کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔ مقامی طور پر اس روزگار سے وابستہ افراد کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ اب ہر شہر، قصبے میں پنجاب، خیبر پختونخوا اور دوسرے علاقوں سے آئے کاریگر یہ کام کرتے ملتے ہیں۔ اس کام کا معاوضہ بہت مناسب ہے جبکہ یہ ہر لحاظ سے صاف ستھرا کام ہے، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مقامی افراد کو ٹیلرنگ کے شعبے سے وابستہ ہونے کی ترغیب دی جائے تاکہ بے شمار لوگوں کو وافر جائز اور آسان معاش میسر آ سکے۔
کار پینٹرنگ: آزاد کشمیر میں نئے سے نئے گھروں کی تعمیر ایک مستقل عمل ہے۔ یہاں کسی قدر جنگلات بھی ہیں اور عمارتی لکڑی بھی دستیاب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کار پینٹرنگ کا شعبہ بہت فعال ہے۔ بدقسمتی سے فی الوقت مقامی افراد کی بہت تھوڑی تعداد اس شعبے سے وابستہ ہے۔ اکثر احباب پنجاب کے علاقوں سیالکوٹ، چنیوٹ، ڈسکہ وغیرہ سے یہاں آتے ہیں یا پھر KPKکے مختلف علاقوں سے لوگ یہ کام کرنے ادھر کا رخ کرتے ہیں۔ اگر مقامی افراد کو اس کام سے وابستہ ہونے کی ترغیب دی جائے تو بیروزگاری میں خاطرخواہ کمی آ سکتی ہے۔ اس طرح ہر طرح کی لکڑی کی دستیابی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فرنیچر سازی، کھیلوں کا سامان اور دوسری بہت سی اشیاء کے بتانے کے عمل کو بھی مقامی طور پر فروغ دینا ضروری اور نفع بخش عمل ہے۔
میسنگ: راج مستری ہر معاشرے کی طرح ہماری مستقل ضروری ہیں۔ یہ پیشہ ہر زمانے میں باوقار سمجھا جاتا رہا ہے۔ بدقسمتی سے آج ہمارے ہاں بہت کم لوگ اس شعبے کا انتخاب کرتے ہیں۔ آج ہمارے ہاں غیرمقامی افراد ہی یہ ضرورت پوری کر رہے ہیں۔ ایسے میں اگر مقامی لوگ اس جانب توجہ دیں اور اس سارے کام کو دوسرے تعمیراتی عمل سے جدت آمیز انداز میں جوڑ کر باہم آگے بڑھیں تو جہاں مقامی لوگوں کو روزگار بہم ہو گا اور معاشی حالت میں بھی مثبت تبدیلی یقینی ہے۔
آٹو انڈسٹری: بھانت بھانت کی گاڑیوں کی بڑھتی تعداد آٹوانڈسٹری کے مختلف شعبوں ( ڈینٹر، پینٹر، الیکٹریشن، میکینک، ٹائر ساز اور دوسرے بہت سے امور) میں روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح یہاں بھی مقامی افراد کا تناسب کم ہے۔ اکثر ہنر مند باہر سے یہاں آتے ہیں۔ اگر اس شعبے کو سنجیدہ لیا جائے اور مقامی افراد اس سے عملی طور تکنیکی انداز میں جڑیں تو ان کی معاشی حالت میں نمایاں فرق آ سکتا ہے۔
دیہاڑی داری: یہ ایک ایسا کام ہے جو کسی بھی معاشرے میں ہمہ روز جاری رہتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی دتہاڑی دار کارکنوں کی بے حد ضرورت ہے لیکن بدقسمتی سے مقامی افرادی قوت یہاں بھی گریزاں ہے۔ غیر مقامی بالخصوص افغان و پشتون ہر نوع کے کام کے لئے ہمہ وقت دستیاب ہوتے ہیں۔ اگر مقامی طورپر صحتمند اور محنت کش افراد اس جانب توجہ دیں تو جہاں ان کی بیروزگاری ختم ہو سکتی ہے وہاں مقامی معیشت کو بھی بڑھاوا مل سکتا ہے۔
ہیئرکٹنگ: یہ غالباً ہندو مت کا اثر ہے کہ ہم نے پیشوں کو مخصوص افراد کے ساتھ جوڑ بانٹ دیا ہے۔ اب زمانہ بدل گیا ہے۔ ذات پات کے یہ بت ٹوٹ جانے چاہئیں۔ ہیئرکٹنگ، جو اب پوری دنیا میں ایک ہنر اور فن مانا جاتا ہے کو مخصوص چند افراد کے لئے مختص کرنے کے بجائے عام لوگوں کے لئے کھول دینا چاہیے تاکہ بیروزگار کے جن کو قابو کیا جا سکے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ہیئر کٹنگ کی مانگ میں بہت اضافہ ہوا ہے اور ہمارے ہاں یہ مارکیٹ مکمل طور پر غیر مقامی افراد کے قبضے میں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مقامی لوگ بلاتخصیص اس جانب آئیں اور معقول آمدنی حاصل کریں۔
شو میکنگ : جوتا سازی دنیا میں ایک بڑی صنعت ہے۔ ہمارے ہاں یہ صنعت بھی ذات پات کا شکار رہی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے مقامی افراد دل کھول کر اپنائیں اور بہتر روزگار حاصل کریں۔
ظروف سازی: ہمارے ہاں مٹی سے برتن بنانا ایک ہنر رہا ہے۔ بدقسمتی سے یہاں بھی ’’ اختصاص‘‘ کارفرما رہا ہے۔ مٹی کے برتن آج کی ضرورت اور اسپیشلٹی سمجھے جاتے ہیں۔ لہٰذا اس جانب سنجیدگی سے توجہ دی جائے اور مقامی لوگ بلاتفریق اسے اپنائیں اور باعزت حلال رزق حاصل کریں۔
متذکرہ بالا چند شعبے ’’ پوٹھے و چاپونی‘‘ کی حیثیت سے زیادہ نہیں کہ اگر ارباب بست و کشاد اور فہم و ادراک توجہ اور عرق ریزی کریں تو بیشمار دیگر ذرائع روزگار بھی تلاشے اور تراشے جا سکتے ہیں جو مقامی طور پر لوگوں کے لئے کشادہ اور حلال رزق کا سبب بن سکتے ہیں۔ روزگار کی فراہمی بے شمار سماجی قباحتوں اور چوری، ڈاکہ زنی، لوٹ کھسوٹ جیسی برائیوں کے خاتمہ کا سبب بن سکتی ہے۔ نیز نوجوانوں کو مثبت مصروفیت انہیں منفی سرگرمیوں سے دور رکھنے کا ذریعہ بھی ہو گی۔ یوں ہم سب مل کر جہاں بہتر روزگار و مضبوط معیشت سے خوشحالی کے اسباب کر سکتے ہیں وہاں ملکی و قومی ترقی کے علاوہ ایک آسودہ اور پرسکون معاشرے کا قیام بھی عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ غربت انسان کو کفر تک لے جاتی ہے تو بیکار ذہن شیطان کا کارخانہ ہوتا ہے۔ لہٰذا مقامی کارخانے قائم کرکے اور دوسرے ذرائع برت کر جہاں غربت ختم کی جا سکتی ہے وہاں لوگوں کی مصروفیت انہیں صحتمند سوچ دے سکے گی جو انسانیت کی معراج ہے۔

جواب دیں

Back to top button