حادثاتی موت کا غم

محمد ناصر شریف
یہ ایک عالمگیر سچائی ہے کہ جو بالائے زمین آیا اسے ایک روز زیر زمین جانا ہے۔ اگر موت فطری یا طبعی ہو تو انسان صبر کر لیتا ہے یا اسے صبر آجاتا ہے لیکن غیر فطری اور حادثاتی موت کا غم دیرپا ہوتا ہے اور یہ انسان کو اندر سے ختم کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا بوجھ باپ کے کاندھے پر بیٹے کی لاش ہے۔ یہ بوجھ ماں باپ کی کمر توڑ کر رکھ دیتا ہے۔ جوان جہان بیٹے کی موت کی یاد تو والدین کے دل و دماغ سے بجھنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ اولاد کو ویسے بھی والدین کا سب سے بڑا امتحان کہا جاتا ہے لیکن ان کی اچانک اور بالخصوص حادثاتی موت والدین کو پاش پاش کر دیتی ہے۔ حضرت علیؓ کے مطابق زندگی کی سب سے بڑی محافظ خود موت ہوتی ہے۔ سقراط سے پوچھا گیا کہ موت سے بھی کوئی سخت ترین چیز ہے؟ سقراط نے جواب دیا زندگی، کیونکہ ہر قسم کے رنج و الم اور آزار و مشکلات زندگی ہی میں برداشت کرنا پڑتی ہے اور موت ان سے نجات دلاتی ہے۔ موت کو کسی سے کوئی غرض نہیں ہوتی، کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ، اسی لیے وہ یہ نہیں دیکھتی کہ کون کس کی اکلوتی اولاد ہے یا کون کس کا واحد کفیل یا سہارا ہے اور کون کس کا باپ ہے؟ وہ بس بے تابی سے زندگی کے تعاقب میں دیوانہ وار دوڑتی رہتی ہے اور بالآخر اسے ایک دن جا لیتی ہے۔
ان لوگوں میں جنہیں ہم جانتے ہیں نامور اداکارہ روحی بانو کے جواں سال بیٹے کو جس بے دردی سے ان کے فلیٹ کے سامنے قتل کیا گیا، اس صدمے نے روحی بانو کو اجاڑ کر رکھ دیا، پہلے اسے پاگل بنایا پھر آہستہ آہستہ وہ موت کی آغوش میں چلی گئی۔ ماضی کے مشہور اداکار علائوالدین بھی اپنے جوان بیٹے کی لاش کا بوجھ اپنے کاندھوں پر سنبھال نہ سکے اور وہ بھی نیم پاگل ہوگئے اور آخر کار وہ جلد ہی اپنی مالک حقیقی سے جا ملے۔ ٹیلی ویژن اور فلم کے مشہور اداکار جمیل فخری کے جوان بیٹے کو امریکا میں کسی نے مار دیا۔ وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکے اور اللہ کے حضور پیش ہوگئے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کے جوان سال بیٹے کو کار ایکسی ڈینٹ کی وجہ سے لاش کی صورت اپنے باپ کے کاندھے پر سوار ہوکر لحد میں اترنا پڑا۔ سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیر افگن نیازی کا بیٹا بھی اپنے باپ کے کاندھوں پر اپنا بھاری بوجھ لے کر دنیا سے چلا گیا تھا۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کی شہلا رضا بھی بڑے ہی دکھ سے گزری ہیں انھیں بھی اپنے ہاتھوں سے اپنے بیٹے اور بیٹی کو سپرد خاک کرنا پڑا۔ یہ دونوں بھی ٹریفک حادثے میں اس فانی دنیا سے چلے گئے تھے۔ بلیغ الرحمان کی اہلیہ اور ان کا جوان بیٹا بھی ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوئے۔ صدیق الفاروق اور محمود الرشید جیسے وزرا کے جواں سال بیٹے بھی اپنے والدین کی کمر دہری کرکے سپرد خاک ہوئے۔ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کا جواں سال بیٹا لندن میں جاں بحق ہوا۔ ممتاز عالم دین مولانا طارق جمیل کا جواں سال صاحبزادہ عاصم جمیل گولی لگنے سے دنیا فانی سے کوچ کر گیا۔ جب سے مولانا طارق جمیل کو بیٹے کی جدائی کا غم ملا وہ آبدیدہ رہتے ہیں۔ گزشتہ روز حیدر آباد کے نوجوان آن لائن ٹیکسی ڈرائیور شاہ زیب کو گاڑی چھیننے کے ایڈونچر کے دوران قتل کر دیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق مقتول نوجوان ڈرائیور کی لاش گاڑی سے کچھ فاصلے سے ملی تھی ، مقتول نوجوان حیدر آباد سے رائیڈ لیکر کورنگی کراسنگ آیا تھامقتول کے والد اس سے مسلسل رابطے میں تھے اور بیٹے کی گاڑی میں لگے ٹریکرکی مدد سے گاڑی کی لوکیشن بار بار چیک کررہے تھے۔ بیٹے نے والد کو فون پر بتایا کہ سواری کو کورنگی کراسنگ کے قریب اس کے مقام پر اتار دیا ہے مغرب کے وقت بیٹے نے والد کو بتایا کہ اسے گلزارہجری اسکیم 33 ایک اوررائیڈ ملی ہے اسے اٹھانے جا رہا ہوں.والد نے بیٹے کی لوکیشن چیک کی تو گاڑی سکیم 33میں موجود تھی جس کے بعد والد نماز کے لیے چلے گئے ، واپس آئے تو بیٹے کی گاڑی کی لوکیشن کچھ مشکوک دکھائی دی، والد نے بیٹے کو کال کی توبیٹے نے فون کال ریسیو نہیں کی جس پر وہ پریشان ہوگئے۔والد نے بیٹے سے کافی دیرتک رابطہ نہ ہونے پرٹریکرکمپنی کی مدد سے گاڑی بند کرا دی اور کراچی میں موجود اپنے رشتہ داروں کو فوری لوکیشن پربھیجاخود بھی اپنے دوسرے بیٹے شاہ میر اور رشتہ داروں کے ہمراہ کراچی روانہ ہوگئے۔رشتہ داروں نے مدد گار 15پولیس کو بھی اطلاع کردی تھی ۔ راستے میں رشتہ دار فیضان نے اطلاع دی کہ سمیرا چوک کے قریب سے شاہ زیب کی لاش ملی ہے نامعلوم ملزمان نے بیٹے کو سرپر گولی مار کر قتل کیا گیا۔ اس باپ پر کیا گزری ہوگی جو تھوڑی دیر قبل اپنے بیٹے سے رابطے میں تھا اور مطمئن تھا کہ بچہ رزق حلال کمانے کی تگ ودو میں مصروف ہے اور پھر اس کو رابطہ منقطع ہونے کی کوفت اور پھر تلاش کے بعد لاش ملے۔ اس کا کرب تو کوئی الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار تو کرلیا لیکن ملک کے موجودہ نظام میں اس ملزم کو کیفرکردار تک پہنچنے کی کوئی امید نہیں کہ دیگر جرائم پیشہ اس سے کوئی سبق حاصل کریں اور نوجوانوں کی جان لینے سے گریزاں ہوں ۔
شہر قائد میں رواں سال کے دس ماہ میں ڈکیتی مزاحمت پر 120افراد جاں بحق ہوچکے ہیں ۔ تریسٹھ ہزار سے زائد شہریوں کو موبائل فونز، نقدی اور دیگر قیمتی سامان سے محروم کر دیا گیا۔ رواں سال 15 اکتوبر تک 1597افراد گاڑیوں اور 41ہزار 61شہری موٹر سائیکلوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 15اکتوبر تک 21ہزار 7سو 84شہریوں سے موبائل فونز چھینے گئے۔ مختلف واقعات میں پولیس سمیت سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آرہے ہیں۔ لیکن ’’ کچھ نہ کر پاکر بھی مطمئن ہیں ہم‘‘ کے مصداق ہماری حکومتیں، پولیس و دیگر سیکیورٹی فورسز کے ادارے اپنی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ سب اچھا ہے حالات پہلے سے بہتر ہیں۔ موجودہ وسائل میں بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ یہ وہ فرمودات ہیں جو حکام کی جانب سے وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں۔ اوپر دیئے گئے اعداد و شمار وہ ہیں جو رپورٹ ہوئے ہیں اور رپورٹ نہ ہونے والے واقعات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔ سندھ حکومت کو ملک کے معاشی انجن کراچی میں سٹریٹ کرائمز روکنے اور بیرونی سرمایہ کاری لانے کیلئے امن و امان برقرار رکھنے کے چیلنج کا پوری ذمے داری سے احساس کرنا ہوگا، پولیس کی تفتیش اور تھانوں کے روز مرہ امور کیلئے جاری کردہ فنڈز جب تک انہی مدات میں خرچ نہیں ہوں گے اس وقت تک پولیس کی کارکردگی بہتر ہونے کی توقع رکھنا خام خیالی سے زیادہ کچھ نہیں، پولیس سسٹم عوام کو ریلیف دینے میں مسلسل ناکام رہا اور کرپشن و اقربا پروری کا سلسلہ نہ تھم سکا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے، رواں سال شہریوں کے ہاتھوں درجن سے زائد سٹریٹ کرمنلز کی ہلاکتیں بھی اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ شہریوں نے اپنی حفاظت کیلئے پولیس کی مدد پر اکتفا کرنے کی روش ترک کرتے ہوئے اپنی حفاظت اپنی مدد آپ کے تحت کرنے کی حکمت عملی پر توجہ مرکوز کی ہے۔ سٹریٹ کرائمز میں روزانہ کی بنیاد پر مرنے والے بچوں کی حفاظت بھی ریاست کی ذمے داری ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پولیس نے سیف سٹی منصوبہ مکمل ہونے تک عوام کو ڈاکوئوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے، آخر کب تک شہری اپنی جانیں ان ڈاکوئوں کے ہاتھوں گنواتے رہیں گے، 2023ء ٹیکنالوجی کی صدی ہے، ہمیں بھی جدید انداز میں جرائم پیشہ عناصر سے نمٹنے کیلئے عملی اور ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے، پولیس سمیت تمام اداروں کو اپنے اندر موجود کالی بھیڑوں سے جان چھڑانا ہوگی اور عوام کو اعتماد دینا ہوگا ، شہریوں کو بھی رشوت اور سفارش کلچر کی حمایت ختم کرکے سرکاری اداروں میں بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، وقت آگیا ہے کہ حکومت، سرکاری ادارے اور عوام اپنا اپنا کردار درست سمت میں ادا کریں ورنہ تیزی سے بدلتی دنیا میں ہم اپنا معاشی حصہ وصول کرنے کی جستجو کے بجائے سیاسی غیر یقینی اور بد امنی جیسے مسائل میں الجھ کر رہ جائیں گے۔ ان مسائل سے نکل کر ہمیں ملک کی خوشحالی کیلئے طویل اور کٹھن سفر طے کرنا ابھی باقی ہے۔







