Column

آئی ایم ایف اور ترقی پذیر ممالک

محمد نور الہدی
دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں آئی ایم ایف کا کردار اور اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، آئی ایم ترقی پذیر ملکوں کی معیشت میں سرایت ہوتا جا رہا ہے۔ ترقی پذیر ممالک نے خود کو عالمی مالیاتی ادارے کی اس حد تک عادت ڈال لی ہے کہ اس کے بغیر اب ان کا گزارہ ہی ممکن نہیں۔ یعنی آئی ایم ایف اور ترقی پذیر ممالک لازم و ملزوم ہو چکے ہیں۔ آئی ایم ایف کا اصل کام ترقی پذیر یا مشکلات کا شکار ممالک کو مالیتی استحکام میں مدد فراہم کرنا ہے۔ یہ اس لحاظ سے ایک معاون ادارہ ہے کہ ڈوبتی معیشت کے شکار ملکوں کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس مقصد کیلئے آئی ایم ایف اپنی شرائط پر مذکورہ ممالک کو قرضے فراہم کرتا ہے تاکہ وہ مالیتی تدابیر کر کے اقتصادی دبائو سے نکل سکیں۔ صورتحال کے پیش نظر آئی ایم ایف کی یہ شرائط بعض اوقات اس قدر سخت بھی ہو جاتی ہیں کہ کسی ملک کی عوام بذات خود مالی مشکلات کا شکار ہونے لگتی ہے۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ تیسری دنیا کے ممالک کے حکمرانوں کی دلچسپیوں کی بدولت پیدا ہونے والے آئی ایم ایف کے بڑھتے مطالبات کی وجہ سے مذکورہ ملک میں الٹا غربت بڑھ جاتی ہے، تو بے جا نہ ہوگا۔ پاکستان ہی کی مثال لے لیں، گزشتہ ایک سال میں مزید دو کروڑ پاکستانی خط غربت سے نیچے چلے گئے جس کی وجہ سے غربت کے شکار افراد کی تعداد ساڑھے 9کروڑ ہو گئی ہے۔ ٹیکسوں کی وجہ سے ہونے والی مہنگائی نے عام آدمی کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ عوام خود کشیوں پر مجبور ہو رہے ہیں۔ غریب افراد اپنے بچوں کو بیچ رہے ہیں۔ تباہ کن مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی وجہ سے ہمارا سماجی ڈھانچہ تہس نہس ہو کر رہ گیا ہے۔ لوگوں کی آمدن میں مسلسل کمی اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہماری اوسطاً تنخواہ 30ہزار سے 35ہزار کے درمیان ہے۔ متوسط طبقہ جیسے تیسے کر کے اس تنخواہ پر گزارہ کر رہا تھا لیکن، پاکستان کی محبت میں مبتلا آئی ایم ایف کے بڑھتے مطالبات اور ریونیو بڑھانے کے مسلسل اصرار کی وجہ سے بجلی کے بل اوسطاً تنخواہ سے کہیں زیادہ آ رہے ہیں۔ پٹرول بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف کی پاکستان کے ساتھ ’ محبت‘ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اپنی ’ وفا‘ کا اظہار وہ وقتاً فوقتاً کرتا بھی رہتا ہے کیونکہ وہ ہمارا ’ بھلا ‘ چاہتا ہے۔ لیکن اس ’ شفقت‘ کے نتیجے میں پاکستان میں غربت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کی موجودہ مثال کے تناظر میں اگر ہم دیکھیں تو مالی امور درست کرنے کیلئے بے جا ٹیکسوں کے نفاذ کے بعد بھی ڈومور پر زور دیا جا رہا ہے۔ پٹرول و بجلی کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ یوٹیلیٹی بلز میں بھی مسلسل اضافہ ہو جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطالبات پورے کرنے کیلئے ہمارے ارباب اختیار ’ ٹیکس گردی‘ کے پورے منظر نامے میں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کا کردار ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ ارباب اختیار اس حد تک بے بس ہیں کہ گزشتہ دنوں بجلی کے بلوں کے خلاف عوام کے شدید احتجاج پر نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے آئی ایم ایف سے ’ ہتھ ہولا ‘ رکھنے کی درخواست کی تو انہیں کراڑا جواب دے دیا گیا۔ یعنی پاکستان کو اُف تک کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ آئی ایم ایف یقینا ہمارے معاملات کو مانیٹر کر رہا ہے۔ اس ضمن میں عوام کی حالت زار بھی اس کے نوٹس میں ہوگی۔ اس پر آنکھیں میچ لینا یقینا ایک آرٹ ہے۔ اگرچہ آئی ایم ایف کو یہ آرٹ بخوبی آتا ہے۔ وہ اس رویہ کو اپنانے پر کیوں مجبور ہوا، اور ہم اس نہج پر کیسے پہنچے؟۔ اس پر سوچنے، بلکہ اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ ہم کئی دہائیوں سے عالمی مالیاتی ادارہ کے سہارے جی رہے ہیں۔ اس دوران مالیاتی ادارے کے ساتھ جو معاہدے کئے گئے، ان پر عملدرآمد کی تاریخ دیکھیں تو شرمندگی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ آئی ایم ایف معاہدے کے بعد ہمیں جو روڈ میپ دیتا ہے اس پلان پر اگر سنجیدگی سے عملدرآمد ہوا ہوتا تو ہم پر آج اتنی سختیاں نہ ہوتیں۔ بھارت نے 1993کے بعد سے آئی ایم ایف سے کوئی امداد نہیں لی۔ اس نے مالیاتی ادارہ سے قرضہ لینے کے بعد خود کو قدرے مستحکم کیا، اور آج وہ تھرڈ ورلڈ ممالک کیلئے آئی ایم ایف کو قرضہ دے رہا ہے۔ جبکہ پاکستان 1950سے اب تک تقریباً 22قرضہ پروگرامات میں آئی ایم ایف کا ’ پارٹنر‘ اور تاحال مقروض ہے۔ یعنی فرق صرف سنجیدگی اور ترجیحات کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان
مہنگائی کے اثرات میں مبتلا عوام کا احتجاج آئی ایم ایف تک پہنچاتا ہے تو اسے آنکھیں دکھائی جاتی ہیں۔ ترقی پذیر ملکوں کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کیلئے اپنا کردار ’ بڑھانا‘ بلاشبہ آئی ایم ایف کا احسن اقدام ہے۔ لیکن اسے چاہئے کہ کسی زوال پذیر ہوتے معاشرے کا احساس کر کے پالیسیاں مرتب کرے۔ دنیا کے بڑھتے چیلنجز کے پیش نظر ایسے تھرڈ ورلڈ ممالک جہاں خط غربت 70فیصد کو چھو رہی ہے، آئی ایم ایف کو چاہئے کہ انہیں اپنے پائوں پر کھڑا ہونے میں مدد دینے کی غرض سے قرضوں کی بلاسود فراہمی یقینی بنائے، تاکہ ان پر سے واپسی کے حوالے سے مالی دبائو کچھ کم ہو سکے۔ کیونکہ عالمی مالیاتی ادارے کے اسی اصول کی وجہ سے کمزور ممالک کمزور تر ہو رہے ہیں۔ جب آئی ایم ایف کے قیام کے مقاصد میں یہ بات شامل ہے کہ اس نے کمزور ملکوں کی مدد کرنی ہے، تاکہ وہ موثر تدابیر اختیار کر کے معاشی حیثیت بہتر کر سکیں، تو پھر بعض مرتبہ یہ نیک کام بنا سود کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہونی چاہئے۔ کمزور معاشروں کی بدقسمتی ہے کہ وہاں آئی ایم ایف کو ولن بنا کر عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ کئے جانے والے معاہدوں کا رونا رو کر ہمارے حکمران اپنی تمام برائیاں ایک سائیڈ پر رکھ کر قصور وار آئی ایم ایف کو قرار دیتے ہیں۔ اس صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کئے جانے والے معاہدے عوام کی سہولت کے پیش نظر پبلک ہونے چاہئیں تاکہ لوگوں کو یہ سچ معلوم ہو سکے کہ آئی ایم ایف کی وجہ سے ہمیں کون کون سی ’ سہولیات‘ مل رہی ہیں اور ہماری لیڈرشپ ان پر کیا پراپیگنڈا کر رہی ہے۔ تاکہ دونوں اطراف کی پوزیشن واضح ہو کہ ’’ آئی ایم ایف اور ہماری حکومتوں میں سے اصل ظالم کون ہے ‘‘، یہ بھی ضروری ہے کہ ترقی یافتہ اور مستحکم ممالک کمزور اور مقروض ممالک میں سرمایہ کاری کریں اور تجارت میں تعاون کا ذریعہ بن کر انہیں اپنے پائوں پر کھڑا ہونے میں مدد دیں، تاکہ ان کے معاشی اشاریے بہتر ہو سکیں۔ پاکستان دوست ممالک کے تعاون سے ہی آئی ایم ایف کے چنگل سے نکل سکتا ہے۔ وگرنہ اس کینسر کی جڑیں مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جائیں گی۔ اور آئی ایم ایف کی سختیاں بڑھتی رہیں گی۔

جواب دیں

Back to top button