
ملک کے معروف صحافی حامد میر کے مطابق ملک کے طاقتور ترین حلقے ان سے نا خوش ہیں کیونکہ وہ 90 روز میں الیکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق انہیں تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔
اپنے تازہ ترین کالم میں انہوں نے لکھا کہ کل صبح دوبارہ میسج آیا کہ ’’مجھے آپ سے کوئی کام نہیں میں آپ کو ایک ضروری بات بتانا چاہتا ہوں‘‘۔ میں نے اس میسج کو بھی نظر انداز کردیا۔ پھر اسی نمبر سے مجھے اردو میں ٹائپ شدہ ایک اسکرپٹ بھیجا گیا۔ یہ اسپکرپٹ میرے بارے میں تھا۔ چند لمحوں کے بعد ایک اور میسج آیا اور مجھے بتایا گیا کہ آپ کے خلاف ایک وی لاگ کے لئے مجھے اسکرپٹ دیا گیا ہے لیکن میں نے انکار کردیا ہے تاہم میں آپ کو تفصیل بتانا چاہتا ہوں۔ کافی سوچنے کے بعد میں نے اس نوجوان کو ملاقات کیلئے بلا لیا۔ خلاف توقع اس نوجوان کےساتھ ایک ایسی خاتون صحافی بھی آگئیں جنہوں نے دو سال پہلے میرے خلاف کئی وی لاگ کئے اور سوشل میڈیا پر الزامات بھی لگائے۔ دلچسپ پہلو یہ تھا کہ خاتون صحافی کا جھکائو تحریک انصاف کی طرف ہے اور جو صاحب ان کیساتھ آئے وہ مسلم لیگ ن کے دیوانے ہیں۔
ان دونوں سے سرسری دعا سلام تو تھی لیکن یہ پہلی باقاعدہ ملاقات تھی۔
کچھ دن پہلے مجھے آپ کیخلاف اسکرپٹ دیا گیا اور کہا گیا کہ حامد میر کو تباہ کرنا ہے۔ میں نے پوچھا کہ حامد میر کو کیوں تباہ کرنا ہے؟مجھے بتایا گیا کہ حامد میر 90دن میں الیکشن کی حمایت کر رہا ہے یہ تحریک انصاف کا بیانیہ ہے اور تحریک انصاف کی حمایت پاکستان دشمنی ہے۔
حامد میر نے 9مئی کے ہنگاموں کی مذمت کی تو وہ ملک دشمن کیسے ہوگیا؟ نوجوان صحافی کو اس سوال کا جواب دینے کی بجائے کہا گیا کہ آپ نے ہر صورت میں حامد میر کیخلاف وی لاگ کرنا ہے ورنہ کوئی اور کر لے گا۔ وی لاگ کیلئے دیئے گئے اسکرپٹ میں وہی الزامات دہرائے گئے تھے جو دوسال پہلےتحریک انصاف کی حامی خاتون صحافی نے مجھ پر عائد کیے تھے۔
الزامات کی مماثلت دیکھ کر مسلم لیگ (ن) کے حامی صحافی نے تحریک انصاف کی حامی خاتون سے پوچھا کہ آپ کو ان الزامات کے بارے میں کس نے بریف کیا تھا؟ خاتون صحافی نے کہا کہ اسے بھی واٹس ایپ پر ایک اسکرپٹ بھیجا گیاتھا۔ جہاں سے اسکرپٹ آیا تھا وہ آج کل مذکورہ خاتون صحافی کو بھی ملک دشمن سمجھتے ہیں







