
جھنگ : سٹیلائٹ ٹاون میں چور دندانے لگے ، شہری غیر محفوظ
عبد الرحمٰن ارشد :
ضلع جھنگ کا علاقہ سٹیلائٹ ٹاون پہلے محفوظ ترین علاقہ تصور کیا جاتا تھا لیکن اب یہ بات صرف ہوا بن کر رہ گئی ہے ۔
کچھ عرصہ قبل سٹیلائٹ ٹاون میں چور دندانے لگے ہیں چند ہفتوں میں چوری کی متعدد واردات ہو چکی ہیں۔
چوری کی وارداتوں میں عجیب و غریب حرکات و سکنات شامل ہیں ۔
1: سیٹلائٹ ٹاؤن کے علاقہ محلہ عثمانیہ کے ایک متاثرہ رہائشی اسامہ انجم نے جہان پاکستان کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے اپنے جذبات کو قابو میں نہ رکھ پایا اور سسکتے ہوۓ جہاں پاکستان کے نمائندے کو بتایا کہ وہ بدھ کی شب کو تقریباً 2:15 بجے اپنے بستر پر سوۓ تو صبح گھر ان کے گھر میں واویلا برپا تھا ۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے واویلا سنا تو دیکھا کہ میری موٹر بائیک نہ تھی ، میں پولیس کو کال کرنے موبائل فون کی طرف لپکا تو میرا موبائل بھی نہ تھا ۔
ان کا کہنا تھا کہ حد تو تب ہوئی جب انہوں نے سوچا کہ باہر جا کر اہل علاقہ کو اکٹھا کیا جائے لیکن جب وہ اپنے بستر کے قریب پہنچے تو اپنی جوتی کو بھی غائب پایا ۔
ان کا کہنا تھا کہ گھر کی مزید چھان بین کی تو معلوم ہوا کہ گھر سے کچھ نقدی اور اہم دستاویزات بھی غائب ہیں ۔
متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ میں نے پولیس حکام کو اطلاع دی تو کچھ دیر میں پولیس موقع واردات پر موجود تھی اور پولیس نے ابتدائی کاروائی کا آغاز بھی کر دیا تھا ۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی چوری شدہ سامان کی مالیت تقریباً ڈیرھ لاکھ کے قریب ہے ۔
متاثرہ شخص اسامہ انجم کا کہنا تھا کہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں ان دنوں نیا گینگ ابھرا ہے جو ان وارداتوں کو سر انجام دے رہا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ان وارداتوں پر جلد قابو نہ پایا گیا تو اہلیان سیٹلائٹ ٹاؤن کو بہت بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا ۔
متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ میں یتم ہوں لہذا میرا گم شدہ سامان ڈھونڈ کر میری دادرسی کی جائے ۔
2: متاثرہ شخص الطاف ولد محمد تاج نے جہاں پاکستان کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقع 12 جولائی دن تقریباً 1:30 بجے کے قریب تب پیش آیا جب وہ اپنے کام پر تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ چور نے مبینہ طور پر ماسٹر کی سے دروازہ کھولا اور گھر میں داخل ہو گیا ۔ جب ملزم گھر میں داخل ہوا تو اس وقت ان کے گھر میں ان کی اہلیہ موجود تھی ۔ ان کی اہلیہ نے چور کو دیکھ کر واویلا کیا تو چور نے ان کی اہلیہ پر چاقو سے ورا کر دیا ۔ جس کے نتیجے میں ان کی اہلیہ کو چوٹیں بھی آئیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ چوری شدہ سامان میں 15 لاکھ کی مالیت کے طلائی زیورات تھے ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ متعلقہ تھانے میں اطلاع کر دی گئی ہے اور پولیس جائے وقوع پر پہنچ کر اپنی ابتدائی کاروائی کر چکی ہے ۔
3: ایک اور متاثرہ شخص عبید الرحمٰن ولد قاری عبد الرحمٰن شاکر نے ہم سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یکم محرّم الحرام رات تقریباً 10:30 بجے وہ اپنے گھر سے اپنی اہلیہ کے ہمراہ اپنے والد کے مدرسے پہنچے تو صبح جب وہ اپنے گھر واپس گئے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی الماری کھلی پڑی ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ چور نے صرف وہی الماری کا حصّہ کھولا جس میں قیمتی سامان پڑا ہوا تھا ۔
ان کا کہنا تھا کہ چوری شدہ سامان کی کل مالیت تقریباً ساڑھے 6 لاکھ روپے ہے ۔ چوری شدہ سامان میں ساڑھے 4 لاکھ کا سونا اور 2 لاکھ 10 ہزار نقدی شامل ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم 4 دن سے تھانے کے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن ہماری FIR نہیں ہو پا رہی ۔
جہان پاکستان کی ٹیم نے چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں سے متعلق متعلقہ پولیس حکام سے ان کا موقف جاننے کے لیے گوگل میپ پر دیئے گئے رابطہ نمبر پر کال کی تو ان کا کہنا تھا کہ آپ اس معاملے میں SHO صاحب کا موقف لیں۔
لیکن جب جہان پاکستان کی ٹیم نے SHO کے نمبر پر کال کی تو ان کا کہنا تھا میں اس مسلئے پر کچھ نہیں کہہ سکتا لہذا آپ PRO سے رابطہ کریں ۔







