
کراچی ( رپورٹ شکیل نائچ ) محکمہ آبپاشی میں صرف دو ڈویزنوں میں 41 کروڑ 93 لاکھ 18 ہزار روپے کی مالی بیقاعدگی کا آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے
یہ دو آڈٹ رپورٹس مالی سال 2021-22ء کی صرف ٹیوب ویل ڈویزن نوشہروفیروز اور نارا کینال خیرپور ایٹ سکھر کی ہیں
آڈٹ رپورٹ میں ٹیوب ویل ڈویزن نوشہروفیروز میں تین ایگزیکٹو انجنیئرز محمد حیات شیخ ، محمد سلام آفریدی اور مختیار سومرو کے دور مالی بیقاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے
بولی کو بند کرنے کے بعد ٹینڈرز کے کھولنے کی تاریخ تبدیل کرکے 4 کروڑ 63 لاکھ 28 ہزار روپے کا نقصان دیا گیا سیپرا قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹھیکہ دے کر 30 لاکھ روپے کا نقصان دیا گیا
قانونی تقاضے پورے کئے بغیر ٹینڈر کھول کر 4 کروڑ 63 لاکھ 28 ہزار روپے کا نقصان دیا گیا انکم ٹیکس ڈپازٹ میں 24 کروڑ 80 لاکھ روپے کی بیقاعدگی کی گئی پیٹرول پمپوں کی تعداد بتائے بغیر پیٹرول کی مد میں ایک کراڑ 14 لاکھ 21 ہزار روپے کی غیر قانونی طور پر ادائیگی کردی گئی ٹھیکیدارں کو ٹھیکوں میں ریٹ کم دے دیا جس سے خزانہ کو 23 لاکھ 66 ہزار روپے کا نقصان ہوا
کھانا فراہم کرنے والے وینڈرز کو واؤچر پر ڈبل ادائیگی کرکے 4 لاکھ 84 ہزار روپے کا نقصان دیا گیا چھان بین کئے بغیر سیکیورٹی ڈپازٹ کی ادائیگی کی گئی جس سے ایک کروڑ 65 لاکھ 46 ہزار روپے کا نقصان ہوا
ٹینڈر دی دیئے گئے مگر اخبارات کی کٹنگ ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کی گئیں جس سے 4 کروڑ 63 لاکھ 28 ہزار روپے کا نقصان ہوا لاگ بک کے بغیر 9 لاکھ 36 ہزار روپے کا تیل استعمال کیا گیا
ایگزیکٹو انجنیئر نارا کینال خیرپور ایٹ سکھر کے بارے میں آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دور میں تین ایگزیکٹو انجنیئرز رہے جن میں جمیل احمد سانگی دو مرتبہ اور شرف الدین بانبھن ایک مرتبہ عہدوں پر رہے غیر ضروری اور غیر منطقی طور پر اسٹون ڈمپنگ کی گئی جس سے 9 کروڑ 86 لاکھ 88 ہزار روپے کا نقصان ہوا
کام مکمل نہ ہونے پر جرمانے عائد نہیں کئے جس سے 3 کروڑ 70 لاکھ روپے کا نقصان ہوا ٹھیکیداروں سے بلوں سے ریٹ کی کٹوتی نہیں کی گئی جس سے 3 کروڑ 4 لاکھ 54 ہزار روپے کا نقصان ہوا پریمیم کیرج کے ٹھیکوں میں بیقاعدگیاں کی گئیں جس سے ایک کروڑ 70 لاکھ 50 ہزار روپے کا نقصان ہوا اسٹون بولڈرز میں اضافی ریٹ دے کر 56 لاکھ 24 ہزار روپے کا نقصان دیا گیا
ایڈوانس کی مد میں غیر قانونی طور پر 49 لاکھ 95 ہزار روپے کی ادائیگیاں کی گئیں سیکیورٹی ڈپازٹ کی مد میں غیر قانونی طور پر ادائیگی کرکے 3 کروڑ 45 لاکھ 87 ہزار روپے کا نقصان دیا گیا سیکیورٹی ڈپازٹ سے کٹوتی نہ کرکے ایک کروڑ 24 لاکھ 35 ہزار روپے کا نقصان دیا گیا
ٹریزری میں کال ڈپازٹ کی رقم جمع نہ کرواکر 45 لاکھ روپے کا نقصان دیا گیا اب سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے محکمہ آبپاشی سے جواب طلبی کی جائے گی اس کے لئے محکمہ آبپاشی نے متعلقہ ایگزیکٹو انجنیئرز سے مکمل ریکارڈ طلب کیا ہے ۔







