
ایس ایم ایز کی فنانسنگ میں نمایاں اضافہ حکومت کی معاشی ترجیحات میں شامل ہے: گورنر اسٹیٹ بینک
لاہور، 30 اکتوبر۔ گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے لاہور چیمبر میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس ایم ایز کی فنانسنگ میں نمایاں اضافہ حکومت کی معاشی ترجیحات میں شامل ہے جبکہ زراعت، ہاﺅسنگ اور برآمدات کو بھی خصوصی اہمیت دی جارہی ہے۔ صدر لاہور چیمبر علی حسام اصغر، سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی ، نائب صدر چودھری خادم حسین ، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سلیم اللہ، ایگزیکٹو ڈائریکٹراختر جاوید، چیف مینیجر انصر افتخار، سینئر ڈپٹی چیف مینیجر محمد طاہراور چیف ایگزیکٹو آفیسر ایگزم بینک شہباز حسین سید نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ بغیر کولیٹرل قرضوں کی حد 1 کروڑ روپے سے بڑھا کر 5 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔، ایس ایم ایز کی تعریف میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ چھوٹے کاروباروں کے لیے سالانہ کاروباری حجم کی حد 15 کروڑ سے بڑھا کر 40 کروڑ روپے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے 80 کروڑ سے بڑھا کر 2 ارب روپے کر دی گئی ہے۔ اس طرح 2 ارب روپے تک کاروباری حجم رکھنے والے ادارے ایس ایم ایز کی سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کاروبار کی لاگت، ٹیکسوں اور توانائی کے مسائل حل کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ حکومت کی ہاو¿سنگ فنانس سکیم پر مارچ 2026 میں نظرثانی کی گئی۔ اس سے پہلے مارچ 2026 تک بینکوں کے مجموعی ہاو¿سنگ قرضے 251 ارب روپے تھے، جبکہ نظرثانی شدہ اسکیم کے بعد چھ سے سات ماہ میں بینکوں نے تقریباً 80 ہزار درخواست گزاروں کے لیے 521 ارب روپے کی فنانسنگ منظور کی۔گورنر نے بتایا کہ حکومت کی رسک شیئرنگ اسکیم کے تحت چھوٹے کاروباروں کے قرضوں میں پہلے 20 فیصد نقصان جبکہ درمیانے کاروباروں کے قرضوں میں پہلے 10 فیصد نقصان حکومت برداشت کرے گی۔ وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر اسکیم کے تحت نوجوانوں کو صفر سے 7 فیصد تک مارک اپ پر قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے سمیڈا اور بینکوں کے تعاون سے ایس ایم ای قرضوں کے لیے درخواست فارم کو آسان بنا کر ایک صفحے تک محدود کر دیا ہے۔ ایس ایم ای کنیکٹ پورٹل یکم نومبر 2026 سے فعال ہو گا۔ اس کے ذریعے کاروباری افراد گھر بیٹھے قرض کی درخواست جمع کرا سکیں گے اور اپنی درخواست کی پیش رفت بھی دیکھ سکیں گے۔ ایس ایم ای فنانسنگ کے اعدادوشمار بتاتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ جون 2024 میں ایس ایم ایز کے قرضوں کا حجم 491 ارب روپے تھا، جو جون 2025 میں بڑھ کر 691 ارب روپے اور جون 2026 میں تقریباً 1,110 ارب روپے ہو گیا۔ ایس ایم ای قرض داروں کی تعداد بھی جون 2024 کے 177,000 سے بڑھ کر جون 2025 میں 275,000 اور جون 2026 میں تقریباً 325,000 ہو گئی۔برآمدی شعبے کے حوالے سے گورنر نے بتایا کہ ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کے تحت بینکوں کے لیے فنانسنگ کی حد ایک کھرب روپے سے بڑھا کر ڈیڑھ کھرب روپے کر دی گئی ہے۔ اس میں سے 300 ارب روپے خصوصی طور پر ایس ایم ای برآمد کنندگان کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ طویل مدتی برآمدی فنانسنگ کے لیے کابینہ نے 10 سالہ اسکیم کی منظوری دی ہے۔لاہور چیمبر کے صدر علی حسام اصغر نے کہا کہ ایس ایم ایز کی ترقی کے لیے صنعت، حکومت، ایگزم بینک اور کمرشل بینکوں کے اشتراک سے مشترکہ فنانسنگ کا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ دستیاب اعدادوشمار کی مدد سے فوری طور پر 1,000 ایس ایم ایز منتخب کیے جائیں، ان کی فنانسنگ میں حائل رکاوٹوں کا جائزہ لیا جائے اور ان کے لیے سہولتوں کا قابلِ عمل ماڈل تیار کیا جائے۔ کامیابی کی صورت میں اس ماڈل کو ملک بھر میں نافذ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہاسٹیٹ بینک اور لاہور چیمبر کے شکایات مراکز کو منسلک کیا جائے۔ اس سے درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کو کمرشل بینکوں کے رویے، ایل سیز کھولنے میں تاخیر اور دیگر مسائل کی شکایات درج کرانے میں آسانی ہو گی۔ شکایات کے ازالے کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر کی جائے۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ معیشت کا بڑا حصہ برآمدی شعبے سے باہر ہے، اس لیے مقامی صنعتوں اور کاروباروں کو بھی فنانسنگ کی سہولتیں دینا ضروری ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ روزگار میں اضافے کی بنیاد پر مقامی صنعتوں کو مراعاتی قرضے فراہم کیے جائیں۔ اگر کوئی صنعتکار اپنے کارکنوں کی تعداد 300 سے بڑھا کر 330 کرتا ہے تو اضافی روزگار پیدا کرنے پر اسے خصوصی سہولت دی جا سکتی ہے۔ سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی نے کہا کہ اسلامی بینکاری کے پاکستان میں اسلامی بینکاری کی مجموعی فنانسنگ 6 کھرب روپے تک پہنچ چکی ہے اور اس میں سالانہ 48.9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مجموعی بینکاری فنانسنگ میں اسلامی بینکاری کا حصہ 39.1 فیصد ہے لیکن ایس ایم ای فنانسنگ میں اس کا حصہ صرف 15.9 فیصد ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اسلامی بینکوں کے لیے ایس ایم ای فنانسنگ کا کم از کم 5.9 فیصد ہدف مقرر کیا جائے، جو مجموعی بینکاری شعبے میں ایس ایم ایز کی فنانسنگ کی اوسط شرح ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے ایس ایم ایز کو تقریباً 204 ارب روپے کی اضافی فنانسنگ فراہم کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی بینکوں کے ایس ایم ای پورٹ فولیو میں بیڈ ڈیٹ کا تناسب صرف 2.2 فیصد ہے، جبکہ مجموعی بینکاری شعبے میں یہ شرح 5.5 فیصد ہے۔ نائب صدر چودھری خادم حسین نے نے گورنرسٹیٹ بینک اور ان کی ٹیم کا لاہور چیمبر آمد اور کاروباری برادری کے مسائل سننے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے اجلاسوں کے بعد تجاویز پر عملی پیش رفت ضروری ہے تاکہ کاروباری طبقے کو درپیش مسائل حل ہوں اور ایس ایم ایز ملکی معیشت کی ترقی میں مو¿ثر کردار ادا کر سکیں۔اجلاس میں لاہور چیمبر کے سابق نائب صدور میاں زاہد جاوید،حارث عتیق ایگزیکٹو کمیٹی ممبران شیخ محمد ابرہیم،چوہدری فرغام،ساحر مشتاق،عدیل بابرخان،محمد علی،شہزاد محمود،علی رضا،چوہدری ذوالفقار علی،سید یوسف جمیل حسین رضوی،عامر عطاءباری،مردان علی زیدی اورمحمد یاسین بھی موجود تھے۔







