تازہ ترینخبریںسیاسیاتپاکستان

خیبر پختونخوا میں کوئی نیا فوجی آپریشن نہیں ہونے دوں گا: سہیل آفریدی کا لانگ مارچ سے خطاب

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وہ صوبے میں کوئی نیا فوجی آپریشن نہیں ہونے دیں گے۔

 

ضلع خیبر میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ گذشتہ دنوں ہونے والے مذاکرات سیاسی نوعیت کے تھے، تاہم ان کے بقول بعض حلقے ان سے ایک اور فوجی آپریشن کی حمایت چاہتے تھے، جس کا وہ کبھی حصہ نہیں بنیں گے۔

 

انھوں نے کہا کہ سابق فوجی آپریشنوں کے نتیجے میں قبائلی علاقوں کے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

 

وزیر اعلیٰ نے قبائلی اضلاع کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے معاملے پر بھی وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

 

انھوں نے کہا کہ فوجی آپریشنوں سے متاثرہ بے گھر افراد کی آباد کاری کے لیے وفاق کی مختص کی گئی رقم نا کافی ہے جبکہ خیبر پختونخوا حکومت اس مد میں 21 ارب روپے فراہم کر چکی ہے۔

 

سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں ان کی حکومت پر عدم تعاون کا الزام عائد کرتی ہے، تاہم، وزیر اعلیٰ کے دعوے کے مطابق، بلوچستان میں صوبائی حکومت کے تعاون کے باوجود امن قائم نہیں ہو سکا، جس سے موجودہ پالیسیوں کی افادیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔

 

انھوں نے کہا کہ 2018 میں قبائلی اضلاع کا خیبر پختونخوا میں انضمام تو کر دیا گیا، لیکن مالی انضمام اب تک مکمل نہیں ہوا۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت پر قبائلی اضلاع کے لیے سالانہ 100 ارب روپے واجب الادا ہیں۔

جواب دیں

Back to top button