
برطانیہ کی ایک عدالت نے 60 سالہ شخص کو اپنی 89 سالہ ماں کی لاش تقریباً تین برس تک گھر کے فریزر میں رکھنے اور ان کی پنشن سمیت دیگر مالی فوائد حاصل کرنے کے جرم میں قید کی سزا سنا دی۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب رواں سال فروری میں برجینڈ کاؤنٹی کے پورثکاول میں پاپلر کریسنٹ کے ایک گھر سے 89 سالہ سلویا فلپس کی لاش برآمد ہوئی۔ پولیس نے واقعے کے بعد ان کے بیٹے کرسٹوفر فلپس کو گرفتار کر لیا تھا۔
سلویا فلپس کا انتقال مارچ 2023 میں ہوا تھا۔ عدالت میں بتایا گیا کہ کرسٹوفر نے ڈاکٹروں کو کہا تھا کہ وہ اپنی ماں کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا اور ان کے ساتھ مزید وقت گزارنا چاہتا تھا۔
کرسٹوفر نے تین جرائم کا اعتراف کیا۔ ان میں اپنی والدہ کی تدفین قانونی اور باعزت طریقے سے نہ کرنا، ہاؤسنگ بینیفٹ حاصل کرنا، اور ونٹر فیول الاؤنس سمیت پنشن کی رقم وصول کرنا شامل تھا۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ کرسٹوفر صرف دو سال کے تھے جب سلویا نے انہیں گود لیا تھا۔ دونوں کے درمیان گہرا تعلق تھا اور سلویا ہی ان کی واحد سرپرست تھیں۔ کرسٹوفر کی دیکھ بھال کے لیے ان کے علاوہ کوئی اور موجود نہیں تھا۔
مرتھر ٹڈفل کراؤن کورٹ میں پیش کیے گئے دلائل کے مطابق، ماں اور بیٹے کا رشتہ انتہائی قریبی تھا، اور سلویا کی موت کے بعد کرسٹوفر نے ان کی لاش کو اپنے پاس ہی رکھا، جس کے نتیجے میں یہ معاملہ تقریباً تین سال تک پوشیدہ رہا۔







