
امریکا اور ایران کے درمیان فروری سے جاری جنگ کے حوالے سے واشنگٹن میں امریکی وزارتِ دفاع کے انسپکٹر جنرل نے پہلی باضابطہ اور تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں جنگ کے مالی اور عسکری نقصانات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
پینٹاگون واچ ڈاگ کی رپورٹ کے مطابق جون کے اختتام تک اس جنگ پر امریکا کے 33 ارب 40 کروڑ ڈالر سے زائد اخراجات آ چکے ہیں، جس میں 22 ارب 30 کروڑ ڈالر سے زائد کے ہتھیار اور بم استعمال ہوئے جبکہ تین ارب 70 کروڑ ڈالر کے آلات اور طیارے مکمل طور پر تباہ یا ضائع ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ مسلسل جنگ کے باعث امریکی فوج کو گولہ بارود کی شدید کمی اور سپلائی چین کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
واچ ڈاگ کی اس رپورٹ کے برعکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ امریکا اپنی تاریخ میں سب سے بہترین اور اعلٰی ترین ہتھیار تیار کر رہا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر مشرق وسطیٰ اور دیگر علاقوں میں ہماری افواج کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے دفاعی کارخانے دن رات کام کر رہے ہیں اور ہم بڑے پیمانے پر نئے پلانٹس لگا رہے ہیں تاکہ پیٹریاٹ، تھاڈ اور ٹوماہاک جیسے کروز میزائلز کی پیداوار بڑھائی جا سکے جن کا ایک بڑا ذخیرہ ہمارے پاس پہلے سے موجود ہے۔
اس کے باوجود سرکاری رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ ایرانی فورسز نے بحرین میں قائم امریکی بحریہ کے مرکزی لاجسٹک مرکز کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے شدید نشانہ بنایا ہے۔
امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکرٹری ہنگ کاؤ نے اس صورتِ حال کی سنگینی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بحرین کے فوجی اڈے کا برا حال کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ بحرین میں اپنے مرکزی بحری اڈے کا کیا کیا جائے اور کیا اس کی مرمت کی جائے یا نہیں، جس کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کر دی گئی ہے۔
عسکری آلات کے نقصانات کی تفصیل بتاتے ہوئے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اب تک 50 سے زائد امریکی طیارے اور ڈرونز تباہ یا شدید متاثر ہوئے ہیں، جن میں چار ایف 15 ای جنگی طیارے، ایک ایف 35 اے، ایک اے 10 وارٹ ہاگ، 12 کے سی 135 ری فیولنگ طیارے اور کم از کم 30 بڑے ایم کیو نائن ریپر ڈرونز شامل ہیں۔
اس کے علاوہ عراق، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں واقع امریکی سفارتی دفاتر اور عمارتوں کو 20 کروڑ 80 لاکھ ڈالر سے زائد کا مالی نقصان پہنچا ہے، جس میں سب سے زیادہ 15 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا نقصان عراق میں ہوا۔
رپورٹ کے مطابق فروری میں شروع ہونے والی اس جنگ کے بعد سے اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک اور تقریباً 800 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 20 ہزار سے زائد امریکی فوجی اور سفارتی عملے کو مختلف مقامات سے منتقل کرنا پڑا ہے۔ امریکی افواج نے یورپی اڈوں سے مشرق وسطیٰ کے لیے پانچ ہزار کے قریب پروازیں چلائیں۔







