
ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کا کہنا ہے کہ ایرانی صدر کے دورہ پاکستان میں بعض امور پر اتفاق کیا گیا تھا جن پر عملدرآمد ابھی باقی ہے، گزشتہ دورے میں معاہدوں اور فیصلوں پر عملدرآمد اور پیش رفت کو یقینی بنانے پاکستان آئے ہیں۔
پاکستان آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر داخلہ نے کہا کہ دورے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ باہمی تجارتی حجم ابتدائی مرحلے میں 10 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق ہوا تھا، پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کا موجودہ حجم تقریباً 3 ارب ڈالر ہے
ایرانی وزیر داخلہ نے کہا کہ تجارتی ہدف کے لیے ضروری ہے دونوں ممالک مناسب سہولیات اور بنیادی ڈھانچہ بنائیں، تجارتی ہدف کےلیے یومیہ دو ہزار ٹرکوں کی آمدورفت یا تجارتی نقل و حرکت درکار ہوگی۔
اسکندر مومنی نے کہا کہ ہدف کے برعکس اس وقت اس کا صرف 20 فیصد تجارتی آمد و رفت ممکن ہو رہی ہے







