ColumnM Riaz Advocate

امن کا سفیر  

شکریہ پاکستان۔۔ امن کا سفیر

تحریر : محمد ریاض ایڈووکیٹ

انقلابِ ایران کو تقریبا نصف صدی عرصہ بیت چکا ہے، مگر اس انقلاب کے بعد ایران اور امریکہ کے تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کبھی مکمل طور پر ختم نہ ہو سکی۔ یہ محض دو ممالک کے درمیان اختلاف نہیں تھا بلکہ نظریات، مفادات اور عالمی سیاست کی ایک طویل داستان ہے، جس میں بداعتمادی، پابندیاں، دھمکیاں اور کشیدہ بیانات اور حالیہ جنگ شامل ہے۔ اس تمام عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست اعلیٰ سطح کے مذاکرات ایک خواب کی مانند تھے، جن کا حقیقت بننا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ لیکن حالیہ دنوں میں جو کچھ ہوا، اس نے دنیا کو چونکا دیا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات کا انعقاد نہ صرف ایک غیر معمولی پیش رفت تھی بلکہ اس بات کا واضح ثبوت بھی کہ عالمی سیاست میں کچھ بھی مستقل نہیں ہوتا۔ اس پیش رفت کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس میں پاکستان نے ایک کلیدی اور مثبت کردار ادا کیا۔ پاکستان نے نہ صرف دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں سہولت کاری کی بلکہ ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر اپنی سفارتی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ بھی کیا۔ یہ حقیقت اپنی جگہ کہ یہ مذاکرات کسی حتمی معاہدے پر ختم نہ ہو سکے، اور دنیا بھر میں اس حوالے سے ایک مایوسی کی لہر بھی دیکھنے میں آئی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہر وہ کوشش جو فوری نتیجہ نہ دے، ناکامی کہلاتی ہے؟ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سفارتکاری کا عمل ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے، جہاں ہر قدم، ہر ملاقات اور ہر مکالمہ مستقبل کی راہوں کو ہموار کرتا ہے۔ آج دنیا جس نازک صورتحال سے گزر رہی ہے، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ عالمی طاقتوں کے درمیان تنا اور تیسری عالمی جنگ کی بازگشت نے ہر ذی شعور انسان کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے میں ایران اور امریکہ جیسے دیرینہ حریفوں کا مذاکرات کی میز پر آنا محض ایک سیاسی پیش رفت نہیں بلکہ انسانیت کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں جنگ کے امکانات کی بجائے امن کی بات کی گئی، اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

اگر ہم اپنے معاشرتی حالات کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ معمولی نوعیت کے تنازعات بھی برسوں تک حل طلب رہتے ہیں۔ خاندانوں کے جھگڑے، برادریوں کے اختلافات اور عدالتوں میں چلنے والے مقدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ انسان کے لیے انا اور ضد کو پس پشت ڈال کر مذاکرات کی میز پر آنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر دو ریاستیں، جو نصف صدی سے ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی میں مصروف ہوں، بات چیت پر آمادہ ہو جائیں تو یہ یقیناً ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ مذاکرات کے اختتام پر فریقین کے بیانات بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ عمل ختم نہیں ہوا بلکہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ امریکی نائب صدر کا یہ کہنا کہ ’’ ہم ایران کے لیے بہترین پیشکش چھوڑ کر جا رہے ہیں ‘‘، دراصل اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکہ اب بھی مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب ایرانی قیادت کا یہ کہنا کہ ’’ امریکہ نے ہماری منطق اور اصولوں کو سمجھ لیا ہے‘‘، ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ کسی بھی تنازع کے حل کی پہلی شرط ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنا ہوتی ہے۔ ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف کا بیان بھی اسی تناظر میں نہایت اہم ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ فیصلہ کرے کہ آیا وہ ایران کا اعتماد حاصل کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔ ان کے اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹا بلکہ وہ اعتماد سازی کے مزید اقدامات کا منتظر ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ مذاکرات کا دروازہ بند نہیں ہوا بلکہ مستقبل میں مزید پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔

اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار نہایت نمایاں اور قابلِ تحسین ہے۔ پاکستان نے ایک ذمہ دار، سنجیدہ اور امن دوست ایٹمی ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے اپنی مثبت تصویر پیش کی ہے۔ اس نے یہ ثابت کیا ہے کہ طاقت کا اصل استعمال جنگ میں نہیں بلکہ امن کے قیام میں ہوتا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی بات ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں نے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔ ایران نے مذاکراتی عمل کو آسان بنانے میں پاکستان کے کردار کا اعتراف کیا، جبکہ امریکی حلقوں نے بھی پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ عالمی سیاست میں ایسے مواقع کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں دو مخالف فریق ایک تیسرے ملک کی تعریف پر متفق ہوں۔ یہ پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے۔ ایک نشست میں دہائیوں پر محیط اختلافات ختم نہیں ہوتے، مگر ایک قدم ضرور راستہ ہموار کر دیتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان یہ مذاکرات اسی پہلے قدم کی علامت ہیں، اور اس قدم کو ممکن بنانے میں پاکستان کا کردار تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ لہٰذا آج یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پوری دنیا کے دلوں سے ایک ہی آواز بلند ہو رہی ہے۔۔۔۔’’ شکریہ پاکستان‘‘ کہ تم نے ایک بار پھر نفرتوں کے اندھیروں میں امید کا چراغ جلایا، اور دنیا کو امن کی راہ دکھانے کی کوشش کی۔

جواب دیں

Back to top button