فراموش کردیا گیا، اوجڑی کیمپ سانحہ

فراموش کردیا گیا، اوجڑی کیمپ سانحہ
روشن لعل
اوجڑی کیمپ کا سانحہ 10اپریل 1988ء کو رونما ہوا ۔ اس سانحہ سے کچھ عرصہ قبل، نیو یارک ٹائمز کی17اکتوبر 1987 ء کی اشاعت میں سٹیفن اینجل برگ اور برنارڈ ٹرینر کا ایک مضمون شائع ہوا، جس میں بتایا گیا تھا کہ امریکی نیوی کو خلیج فارس میں دو ایرانی موبائل لانچوں سے ان سٹنگر میزائلوں کے کچھ حصے ملے ہیں جو امریکہ نے افغان مجاہدین کو سوویت فوجوں کے خلاف استعمال کے لیے بذریعہ پاکستان بھیجے تھے۔ جب امریکی سٹنگر میزائلوں کے ایرانیوں کے ہاتھوں استعمال کی بات بر سرعام ہوئی تو امریکی حکام نے اس سلسلے میں پاکستان اور افغان لیڈروں سے وضاحت مانگی۔ اس وضاحت کا جواب یہ دیا گیا کہ افغان مجاہدین کے لیڈر یونس خالص کی قیادت میں ایک گروپ نے سٹنگر میزائلوں سمیت غلطی سے ایرانی سرحد عبور کر لی جس کے بعد ایرانیوں نے سٹنگر میزائل تو چھین لیے مگر انہیں واپس افغانستان بھیج دیا۔ اس سلسلے میں امریکیوں کو یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستانی حکام اور افغان گوریلا لیڈر، ایران سے ان سٹنگر میزائلوں کی واپسی کے لیے بات چیت کر رہے ہیں لیکن اس بات چیت کے کامیاب ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔ اس جواب پر امریکی حکام نے بظاہر تو یہ تاثر دیا کہ وہ مطمئن ہو گئے ہیں لیکن اندرون خانہ انہوں نے اس نکتے پر تفتیش شروع کردی کہ کہیں پاکستانی اہلکاروں اور افغان مجاہدوں نے یہ میزائل ایران کو بیچ نہ دئیے ہوں۔
ایرانی قبضہ میں جانے والے سٹنگر میزائلوں کی تعداد کے حوالے سے جو متضاد بیان سامنے آئے ان میں کہیں ان کی تعداد 30 اور کہیں8 سے 10تک بتائی گئی تھی۔ ان میزائلوں کے ایرانیوں کے ہاتھوں چھینے جانے سے متعلق ایک بیان یہ تھا کہ یونس خالص جب اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جنوب مغربی افغانستان میں ایرانی سرحد کے قریب سے گزر رہا تھا، اس وقت ان کے سامنے ایک دریا آگیا جس کی وجہ سے آگے بڑھنے کے لیے جب انہوں نے راستہ تبدیل کیا تو وہ ایران کے اندر داخل ہوگئے ۔ اسی سلسلے میں ایک دوسرے بیان میں کہا گیا کہ افغانیوں کے پاس جب اچانک گیسولین ختم ہوگیا تو وہ اسے حاصل کرنے کے لیے ایران میں داخل ہوگئے جہاں ایرانی سیکیورٹی فورس کے ساتھ ان کی مسلح جھڑپ کے بعد ان سے سٹنگر میزائل چھین لیے گئے۔ سٹنگر میزائلوں پر ایرانی قبضہ کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آنے کے بعد امریکیوں کے شکوک و شبہات میں اضافہ ہو گیا اور کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے وہاں امریکی کانگریس اور سینٹ کی انٹیلی جنس کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں۔
مذکورہ پیش رفت کے بعد یہ طے ہو چکا تھا کہ امریکہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچنا چاہتا ہے ۔ اس معاملے میں امریکہ میں کسی مزید کاروائی سے پہلے پاکستان میں ایک اندوہناک سانحہ رونما ہوگیا۔ یہ 10اپریل 1988ء کی روشن صبح تھی جب تقریباً 10بجے راولپنڈی اور اسلام آباد کے باسیوں کے سر پر موت کے سیاہ بادل منڈلانے لگے۔ لوگوں نے ابھی اپنے دن کے معمولات کا آغاز کیا ہی تھا کہ فیض آباد کے رہائشی علاقے میں موجود اوجڑی کیمپ کے اسلحہ ڈپو سے دھماکوں کی آوازوں کے ساتھ میزائلوں، مارٹر گولوں اور دوسرے اسلحے کی بارش شروع ہوگئی۔ اس وقت پاکستان میں نہ تو پرائیویٹ ٹی وی چینلوں کی بھرمار تھی اور نہ ہی سوشل میڈیا موجود تھا، اس لیے اوجڑی کیمپ اجڑنے کے حوالے سے وہی خبریں سامنے آئیں جنہیں اس وقت کی حکومت نے اپنی مرضی کے مطابق سامنے آنے دیا۔ مبینہ طور پر ایک دبائی گئی خبر یہ تھی کہ جب کینیڈین نیشنل براڈکاسٹنگ کمپنی کے نمائندے فلپ سیگال نے دہکتے ہوئے اوجڑی کیمپ میں جاکر معلومات اکٹھی کرنے کی کوشش کی تو اسے حراست میں لے کر اس کے کیمرے سمیت بنائی ہوئی فلم کو ضائع کر دیا گیا۔
اوجڑی کیمپ کی تباہی کے بعد اس سانحہ کی انکوائری کے لیے پاکستان میں دو کمیٹیاں بنائی گئیں جن میں سے پارلیمانی کمیٹی نے اسلم خٹک کی سربراہی اور ٹیکنیکل کمیٹی نے جنرل عمران اللہ کی سرکردگی میں کام شروع کیا۔ اسلم خٹک کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی تو بغیر کسی کاروائی کے اس وقت ختم ہوگئی جب جنرل ضیاء الحق نے 29 مئی 1988ء کو جونیجو حکومت کو اس الزام کے تحت ختم کر دیا کہ وہ ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنے میں ناکام رہی ۔ اس حکومت کے خاتمہ سے پہلے جنرل عمران اللہ کی کمیٹی نے انتہائی سرعت سے تیار کی گئی اپنی رپورٹ وزیر اعظم جونیجو کو پیش کر دی تھی۔ اس سلسلے میں جونیجو حکومت کے وزیر مملکت برائے دفاع رانا نعیم نے کہا تھا کہ جنرل عمران کی تیار کردہ رپورٹ انہیں وصول ہو گئی تھی لیکن جونیجو حکومت کے خاتمہ کے بعد ایجنسیوں کے لوگوں نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر جو سامان قبضہ میں لیا اس میں سے دیگر چیزیں تو واپس کر دی گئیں لیکن اوجڑی کیمپ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ والا بریف کیس نہیں لوٹایا گیا۔ رانا نعیم کا کہنا تھا کہ انہیں واپس نہ جانے والی رپورٹ میں اوجڑی کیمپ سانحہ کو اتفاقی حادثہ قرار دیا گیا تھا۔
اوجڑی کیمپ کی تباہی سے پہلے سٹنگر میزائلوں کی ایرانیوں کے ہاتھوں میں آنے کی خبریں بین الاقوامی میڈیا میں گردش کرنا شروع ہو گئی تھیں۔ ایسی مزید خبروں کے مطابق، جس دن اوجڑی کیمپ اسلحہ ڈپو تباہ ہوا، اسی روز امریکہ کی ایک اسلحہ معائنہ ٹیم سٹنگر میزائلوں کا آڈٹ کرنے پاکستان آرہی تھی۔ اوجڑی کیمپ کی تباہی کے ساتھ سٹنگر میزائلوں کے آڈٹ کا امکان ختم ہو گیا تھا۔ اوجڑی کیمپ کی تباہی کے بعد بھی اندرون خانہ اور بیرونی دنیا میں اس تاثر کو ابھرنے سے نہ روکا جاسکا کہ خود کو صادق و امین ظاہر کرنے والے ضیاء الحق اور ان کے عسکری اور غیر عسکری مذہبی ساتھی کسی جذبہ ایمانی کے تحت نہیں بلکہ ذاتی مفادات کے حصول کے لیے ملک و قوم کو نام نہاد افغان جہاد کا ایندھن بناتے رہے۔
گو کہ اوجڑی کیمپ کے سانحہ کے بعد پاکستان میں یہ سمجھ لیا گیا کہ امریکہ نے سٹنگر میزائل معاملہ فراموش کر دیا ہے لیکن یہاں پھر ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس کے لیے یہ کہا گیا کہ امریکی وفادار سمجھے جانے والے جن لوگوںنے افغان جنگ کے دوران ڈبل ایجنٹ بن کر امریکی سٹریٹیجک مفادات کو نقصان پہنچایا ، امریکہ نے خود ہی ان کا قصہ تمام کر دیا۔ اس طرح کی باتیں، 18اگست 1988ء کو تباہ ہونیوالے جنرل ضیاء الحق کے طیارے کے اس حادثے کے بعد سننے میں آئیں جس میں دیگر لوگوں کے علاوہ ضیاء کے دست راست، اختر عبدالرحمٰن اور امریکی سفیر رابن رافیل کے ساتھ کئی دیگر لوگ بھی ہلاک ہوئے تھے۔
ایران اور امریکہ کی دو ہفتوں کے لیے بند کی گئی جنگ کے ماحول میں لکھنے کے لیے بہت کچھ تھا لیکن 10اپریل کے لیے کسی اور موضوع پر لکھنے کو دل ہی نہیں کیا۔ امریکہ اور اسرائیل نے حالیہ دنوں میں میزائلوں کی بارش کرتے ہوئے ایرانیوں پر جو قیامت برپا کی ، اسی طرح کی قیامت صغریٰ ، سانحہ اوجڑی کیمپ کی شکل میں ہمارے اپنے لوگوں کی وجہ سے پاکستانی شہریوں پر برپا ہوئی تھی۔ پاکستان میں کرپشن کے خلاف بہت کچھ کہا جاتا ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ اوجڑی کیمپ سے جڑی کرپشن اور اس کرپشن سے جڑے لوگوں کے خلاف کچھ بھی سننے کو نہیں ملتا۔





