ColumnQadir Khan

’ کائنیٹک ڈپلومیسی

’’ کائنیٹک ڈپلومیسی‘‘
قادر خان یوسف زئی
مشرقِ وسطیٰ کی سلگتی ہوئی ریت پر بساطِ سیاست ایک بار پھر بچھ چکی ہے اور عالمی طاقتوں کی سفارتی کاریگری نے خطے کو ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں امن کی فاختہ اور جنگ کے خون آشام عقاب ایک ہی آسمان پر محوِ پرواز ہیں۔ اپریل 2026ء کے اوائل میں، جب 39روز تک جاری رہنے والی ہولناک امریکی و اسرائیلی بمباری نے ایران کو کھنڈر بنانے کی دھمکی دی اور جواباً عالمی معیشت کی شہ رگ سمجھے جانے والے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل رک گئی، تو دنیا ایک بڑی تباہی کے دہانے پر کھڑی تھی۔ عین اس وقت جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی شہری تنصیبات کو تباہ کرنے کے الٹی میٹم کی میعاد ختم ہونے میں چند گھنٹے باقی تھے، پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ہنگامی جنگ بندی کا اعلان ہوا۔ اس خبر نے عالمی منڈیوں کو وقتی سکون ضرور بخشا، اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے نہایت پرامید اور واضح انداز میں اعلان کیا کہ یہ جنگ بندی ’’ لبنان سمیت ہر جگہ‘‘ نافذ العمل ہوگی۔
لیکن سفارت کاری کی پرپیچ بھول بھلیوں میں الفاظ کے ظاہری معنی وہ نہیں ہوتے جو لغت میں لکھے ہوتے ہیں، بلکہ ان کی تشریح ہمیشہ طاقتور کے قلم سے ہوتی ہے۔ جنگ بندی کی سیاہی ابھی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ اسرائیل نے لبنان پر ’’ آپریشن ایٹرنل ڈارکنیس‘‘ کے نام سے بدترین فضائی حملے شروع کر دئیے، جس میں محض چند منٹ کے اندر دارالحکومت بیروت اور جنوبی لبنان میں 100سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا اور سیکڑوں بے گناہ شہری لقمہ اجل بن گئے۔ اس لرزہ خیز صورتحال نے ایک انتہائی بنیادی اور تلخ سوال کو جنم دیا ہے کہ آخر امریکہ، جو بظاہر امن کا علمبردار بن کر مذاکرات کی میز سجا رہا ہے، اسرائیل کی اس کھلی اور وحشیانہ جارحیت کو کیوں نظر انداز کر رہا ہے، اور ایک ایسا معاہدہ جسے’’ تحریری‘‘ اور باقاعدہ تسلیم کیا جا رہا تھا، اس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بقول ایک ’’ غلط فہمی‘‘ کی گنجائش آخر کیسے اور کیوں پیدا ہو گئی؟۔
اس پیچیدہ معمے کو سمجھنے کے لیے ہمیں واشنگٹن کی سرد مہر تزویراتی ذہنیت اور عالمی سفارت کاری میں رائج ’’ تعمیری ابہام‘‘ کے اس خطرناک کھیل کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا۔ یہ سوال کہ اتنا بڑا تضاد کیونکر سامنے آیا، اس کا جواب ان مذاکرات کی غیر روایتی اور ہنگامی نوعیت میں پوشیدہ ہے۔ درحقیقت 7اپریل کا یہ اعلانِ جنگ بندی جسے سفارتی حلقوں میں ’’ اسلام آباد اکارڈ‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے، کوئی روایتی، جامع اور بین الاقوامی قوانین کے تحت دستخط شدہ معاہدہ نہیں تھا۔ یہ ایک انتہائی دبائو اور عجلت کے ماحول میں، امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی درمیان پسِ پردہ پیغامات کے تبادلے، اور پاکستانی عسکری و سیاسی قیادت کی انتھک رات بھر کی کاوشوں پر مبنی ایک عبوری اور نازک ڈھانچہ تھا۔ ایران نے حالات کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے پاکستان کے توسط سے جو 10نکاتی امن منصوبہ پیش کیا، اس میں غیر مبہم الفاظ میں یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ لبنان اور حزب اللہ پر جاری اسرائیلی حملے فوری طور پر روکے جائیں گے۔ دوسری جانب واشنگٹن کا اپنا ایک انتہائی سخت گیر 15نکاتی ایجنڈا تھا، جس میں ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو غیر مشروط طور پر بحال کرنے پر زور دیا گیا تھا، اور سب سے اہم بات یہ کہ اس میں خطے میں موجود ایران کی تمام پراکسی تنظیموں کے مکمل خاتمے کا صریح مطالبہ شامل تھا۔
سفارتی کاریگری کا کمال یہیں سے شروع ہوا جب وائٹ ہاس نے بظاہر ایرانی شرائط کو مذاکرات کے لیے ایک ”قابلِ عمل بنیاد” کے طور پر قبول تو کر لیا، لیکن امریکی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ کے بیان کے مطابق واشنگٹن نے درحقیقت اس ایرانی مسودے کو’’ اپنے 15نکاتی منصوبے کے ساتھ ہم آہنگ کرنے‘‘ کے لیے اندرونی طور پر تبدیل کر لیا تھا۔ یعنی امریکہ نے خاموشی سے لبنان اور حزب اللہ کے تحفظ کی شق کو اپنے ذہن میں اس عبوری معاہدے سے یکسر خارج کر دیا تھا۔ یہی وہ گہرا شگاف تھا جسے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بعد ازاں ہنگری میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نہایت صفائی سے یہ کہہ کر جائز قرار دیا کہ یہ ایک ’’ جائز غلط فہمی‘‘ (legitimate misunderstanding) تھی۔ ان کے بقول ایران خام خیالی میں یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ لبنان اس جنگ بندی کا حصہ ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے کبھی ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی کوئی ایسا اشارہ دیا تھا۔ امریکہ کی اس دوغلی اور جابرانہ پالیسی کے پسِ پردہ مقاصد انتہائی واضح اور خطے کے مستقبل کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ واشنگٹن دراصل یہ چاہتا تھا کہ 10اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہونے والے باقاعدہ اور حتمی مذاکرات کے آغاز سے پہلے، اسرائیل اپنی پوری فوجی قوت کا استعمال کرتے ہوئے حزب اللہ کے کمانڈ سٹرکچر، ہتھیاروں کے ذخائر اور عسکری طاقت کو اس حد تک کچل دے کہ جب ایرانی وفد مذاکرات کی میز پر بیٹھے تو اس کے پاس رعایتیں حاصل کرنے یا دبا ڈالنے کے لیے اس کا سب سے بڑا پراکسی ہتھیار یعنی حزب اللہ موثر حالت میں موجود ہی نہ رہے۔ یہ روایتی سفارت کاری اور بارود کا ایک ایسا ملا جلا اور خوفناک کھیل ہے جسے جدید اصطلاح میں ’’ کائنیٹک ڈپلومیسی‘‘ کہا جاتا ہے۔
ان تمام زمینی حقائق، مستند حوالوں اور عالمی سیاست کی شطرنج پر چلائی جانے والی چالوں کا بغور جائزہ لینے کے بعد، حرفِ آخر کے طور پر یہ نتیجہ اخذ کرنا قطعی طور پر غلط نہ ہوگا کہ مشرق وسطیٰ کا یہ نیا اور خوفناک بحران ہمیں یہ تلخ سبق سکھا رہا ہے کہ محض زبانی یقین دہانیوں اور کاغذی معاہدوں کی اس وقت تک کوئی حیثیت یا وقعت نہیں ہوتی جب تک کہ ان کے پیچھے عمل درآمد کروانے والی مساوی طاقت، عالمی برادری کا مخلصانہ دبا اور فریقین کی مکمل اور شفاف رضامندی موجود نہ ہو۔ امریکہ نے اپنے سفارتی رسوخ اور لفظی ابہام کا سہارا لے کر ایران کو تو وقتی طور پر تباہی سے بچنے کے لیے مذاکرات کی میز پر بٹھا لیا ، لیکن لبنان کے نیلگوں آسمان سے مسلسل برستی ہوئی بارود کی موت اس بات کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہی ہے کہ یہ کوئی پائیدار امن نہیں ہے، بلکہ یہ ایک انتہائی ہولناک طوفان سے پہلے کا محض وہ عارضی وقفہ ہے جس میں طاقتور کھلاڑی اپنے مہرے نئی صف بندیوں کے لیے اپنی اپنی جگہوں پر دوبارہ ترتیب دے رہے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button