دورِ حاضر کی سیاست میں ’’ منافقت کے الزام

دورِ حاضر کی سیاست میں ’’ منافقت کے الزام‘‘
تحریر : قادر خان یوسف زئی
جب ہم عصرِ حاضر کے ڈیجیٹل منظرنامے پر نظر دوڑاتے ہیں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک ایسے ہجوم کا حصہ بن چکے ہیں جہاں غصہ، نفرت اور بے جا تنقید سب سے زیادہ بکنے والا منجن ہیں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ڈیجیٹل شہریت اور عوامی مکالمہ ایک ایسے بازاری ہنگامے کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں ہر شخص بغیر سوچے سمجھے بولنے اور تنقید کرنے کو اپنا اولین فرض سمجھتا ہے۔ مواد تخلیق کرنے والوں اور نام نہاد یوٹیوبرز کے لیے یہ ایک منافع بخش انڈسٹری بن چکی ہے جسے اصطلاحاً ’’ ریج بیٹ‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ سوشل میڈیا کے الگورتھم سچائی، توازن یا جھوٹ میں کوئی تفریق نہیں کرتے؛ وہ صرف ان جذبات کو ترجیح دیتے ہیں جو انسان کو فوری اور شدید ردعمل پر مجبور کریں۔ چونکہ غصہ اور نفرت وہ جذبات ہیں جو سب سے زیادہ ’’ انگیجمنٹ‘‘ پیدا کرتے ہیں، اس لیے یہ کریئیٹرز جان بوجھ کر سنسنی خیز اور اشتعال انگیز مواد پھیلاتے ہیں تاکہ ان کے ویوز اور آمدنی میں اضافہ ہو۔ لہٰذا، ایک عام صارف جب کسی کی پگڑی اچھالتا ہے تو دراصل وہ ان پلیٹ فارمز کے بچھائے گئے جال کا حصہ بن کر ان کی کمائی کا ذریعہ بن رہا ہوتا ہے۔
سماجی اور اخلاقی زوال کی یہ انتہا ہے کہ اب تنقید محض ایک دکھاوا اور اسٹیٹس سمبل بن چکی ہے جسے ماہرینِ عمرانیات ’’ پرفارمیٹو آئوٹ ریج‘‘ کہتے ہیں۔ یعنی لوگ صرف اس لیے غصے کا اظہار کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے مخصوص حلقوں میں خود کو اخلاقی طور پر برتر ثابت کر سکیں۔ اگر ہم اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر ملکی اور سیاسی سطح پر دیکھیں تو یہ صورتحال مزید بھیانک اور گہری نظر آتی ہے۔ سیاسی رہنماں اور ان کے حواریوں کے لیے تنقید اب مدمقابل کو نیچا دکھانے اور اس کا بیانیہ مکمل طور پر کچلنے کا سب سے موثر ہتھیار ہے۔ دورِ حاضر کی سیاست میں ’’ منافقت کے الزام‘‘ کو ایک کارگر اور مہلک حربے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد کسی پالیسی یا نظریے پر بحث کرنا نہیں ہوتا، بلکہ مخالف کی کردار کشی کر کے اسے بولنے کے حق سے محروم کرنا ہوتا ہے۔ اگر آپ اپوزیشن میں ہیں تو حکومت کی ہر پالیسی پر بلاجواز تنقید فرضِ عین سمجھا جاتا ہے، اور اقتدار میں آ کر پچھلوں کو تمام برائیوں اور ملکی تباہی کی جڑ قرار دینا ایک معمول بن چکا ہے۔
سیاسی چالاکی اور مکاری کی انتہا یہ ہے کہ جب حکومتوں کو اپنی کسی بڑی ناکامی یا کرپشن سکینڈل کا سامنا ہوتا ہے تو وہ جان بوجھ کر ایک نیا، بے بنیاد مگر انتہائی متنازع بیانیہ چھیڑ دیتی ہیں تاکہ عوام اور میڈیا کی توجہ اصل اور سنگین مسئلے سے ہٹ جائے۔ سیاسی اصطلاح میں اسے ’’ ڈیڈ کیٹ سٹریٹجی‘‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی اگر آپ کوئی اہم بحث ہار رہے ہیں اور حقائق آپ کے خلاف ہیں تو عوامی ڈائننگ ٹیبل پر ایک مردہ بلی پھینک دیں۔ لوگ اصل موضوع بھول کر صرف اس مردہ بلی کی بدبو اور ہیبت پر بات کرنا شروع کر دیں گے۔ اس حکمت عملی نے سیاسی کلچر کو بے حس اور کھوکھلا کر دیا ہے۔ آن لائن ٹرولنگ جو کبھی انفرادی سطح پر محض دل آزاری یا وقت گزاری کا نام تھا، اب ایک منظم، باقاعدہ فنڈڈ اور پیشہ ورانہ انڈسٹری میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اس منظم مہم کو غیر مستند اور مربوط رویہ کہا جاتا ہے۔ مزید برآں، کئی ممالک میں تنقید کو دبانے کے لیے ’’ فیک نیوز‘‘ کے انسداد کے نام پر ایسے کالے قوانین نافذ کیے جاتے ہیں جن کا اصل مقصد سیاسی مخالفین، صحافیوں اور آواز اٹھانے والوں کو قانونی شکنجے میں کسنا ہوتا ہے۔ بعض اوقات یہ ریاستیں براہِ راست سنسرشپ کے بجائے معلومات کے سیلاب میں غیر متعلقہ اور بظاہر غیر جانبدار خبروں کی اس قدر بھرمار کر دیتی ہیں کہ عوام کی توجہ حقیقی اور منفی خبروں سے مکمل طور پر ہٹ جائے اور ریاستی بیانیہ خاموشی سے مسلط ہو جائے، جسے سائنسی تحقیق میں ’’ ڈائیورژن‘‘ کی حکمت عملی کہا جاتا ہے۔
اس گندے کھیل اور پراپیگنڈے کا دائرہ محض ترقی پذیر ریاستوں کے اندرونی معاملات تک محدود نہیں ہے، بلکہ عالمی سطح پر اور سپر پاورز کے ایوانوں میں بھی تنقید کو اپنے سٹریٹجک اور جیو پولیٹیکل مفادات کا مکمل تابع کر لیا گیا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں تنقید بالخصوص انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار اب کوئی آفاقی اخلاقی فریضہ نہیں رہا، بلکہ یہ ’’ شارپ پاور‘‘ نامی جدید سفارتی حکمت عملی کا ایک انتہائی خطرناک حصہ بن چکا ہے۔ لیکن جب بات اپنے اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ یا عالمی منڈیوں پر اجارہ داری کی ہو تو بدترین جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی کھلم کھلا پامالیوں پر بھی مجرمانہ اور شرمناک خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ تمام تر بیانیے کی جنگ میں سب سے زیادہ نقصان اس عام آدمی کا ہو رہا ہے جو سچ اور جھوٹ کی تمیز کھو چکا ہے۔ وہ عام شہری جو مہنگائی، بے روزگاری اور عدم مساوات کی چکی میں پس رہا ہے، اسے ان متنازع اور مصنوعی بحثوں میں الجھا کر اس کے حقیقی مسائل سے غافل کیا جا رہا ہے۔ اس اندھیر نگری میں ریاستیں اور مقتدر حلقے اپنے شہریوں کے تحفظ اور معاشی بحالی پر توجہ دینے کے بجائے، انہیں ایک لامتناہی ڈیجیٹل جنگ کا ایندھن بنا رہے ہیں۔
اگر ہم اس سارے منظرنامے کا گہرائی سے تجزیہ کریں تو ایک انتہائی تلخ اور پریشان کن حقیقت آشکار ہوتی ہے۔ ہم ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں جہاں سچ، دلیل اور تعمیری سوچ کی جگہ شور، اشتعال اور کھوکھلے بیانیوں نے مکمل طور پر لے لی ہے۔ تنقید، جو کبھی معاشرے کے زخموں پر مرہم رکھنے، خامیاں سدھارنے اور اجتماعی شعور بیدار کرنے کا ایک انتہائی معتبر ذریعہ تھی، آج ایک ایسا میٹھا زہر بن چکی ہے جسے باقاعدہ لیبارٹریوں اور فیکٹریوں میں تیار کر کے عوام کی رگوں میں اتارا جا رہا ہے۔ چاہے وہ چند ڈالرز اور ویوز کے لیے اپنا ضمیر بیچنے والا سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہو، اقتدار اور طاقت کی ہوس میں مبتلا کوئی کرپٹ سیاستدان ہو، یا دنیا پر اپنی حکمرانی کے خواب دیکھنے والی بے رحم سپر پاورز ہوں، سب نے اس مقدس فریضے کو اپنے اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ کیا ہم بحیثیت مجموعی ایک ایسے بے حس اور روبوٹک ہجوم میں تبدیل ہو چکے ہیں، جسے کوئی بھی اپنے مقاصد کے لیے چند جھوٹی خبروں اور کھوکھلے نعروں کے ذریعی آسانی سے استعمال کر لے؟ یہ وہ کڑا سوال ہے جس کا جواب ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر اور اپنی صفوں میں احتساب کر کے تلاش کرنا ہوگا۔ جب تک ہم اس مصنوعی غصے، ہائبرڈ وارفیئر اور پراپیگنڈے کی اصل حقیقت کو سمجھ کر اس کے خلاف شعوری اور فکری مزاحمت نہیں کریں گے، تب تک تنقید کے نام پر یہ گھنائونا کاروبار اسی طرح چلتا رہے گا، اور ہمارے معاشرے اخلاقی، سماجی اور فکری طور پر مسلسل کھوکھلے ہوتے رہیں گے۔





