ٹرمپ کی عیسیٰؑ سے مماثلت کا دعویٰ، پوپ کا اختلاف

ٹرمپ کی عیسیٰؑ سے مماثلت کا دعویٰ، پوپ کا اختلاف
تحریر : راجہ شاہد رشید
نوبل امن انعام ( Nobel Peace Prize) دنیا کا معتبر ترین اعزاز ہے، جو ہر سال ناروے کی نوبل کمیٹی کے ذریعے ایسے افراد یا اداروں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے اقوام عالم کے درمیان بھائی چارہ بڑھانے، انسانیت کی بھلائی، میزائل، بم، بارود، جنگ و جدل اور افواج میں کمی کرنے یا امن کے قیام کے لیے سب سے زیادہ کام کیا ہو۔ یہ 1901ء سے ہر 10دسمبر کو اوسلو میں دیا جاتا ہے اور اس بار امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل پرائز کے لئے نامزد کیا گیا۔ ان شاء اللہ مستقبل میں سارے عالم کی اقوام کی لکھی گئی تاریخ ضرور اس بات کی گواہی دے گی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کبھی بھی قیام امن کے لیے کام، کوششیں کرنے والے نہیں تھے، بلکہ وہ ایک غیر ذمہ دار اور جنونی جنگجو تھے، جن کی ہر بات، سب بیانات دھمکیوں سے شروع ہوتے تھے اور دھمکیوں پر ہی ختم ہوتے تھے۔ بفضل اللہ تاریخ یہ شہادت بھی ضرور دے گی کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتہائی نالائق و ناکام جنگجو ثابت ہوئے تھے۔ چند دن قبل وائٹ ہائوس کی ایک تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مذہبی مشیر پائولا وائٹ کین نے اپنے خطاب میں ٹرمپ کو حضرت عیسیٌٰ سے تشبیہ دے دی، جس پر شدید تنازع کھڑا ہو گیا، مذہبی مشیر نے کہا کہ ٹرمپ کو بھی دھوکہ دیا گیا، ان پر الزامات لگے اور وہ مشکلات سے گزرے، جو حضرت عیسیٌٰ کی زندگی سے مماثلث رکھتے ہیں، اس بیان کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں سخت رد عمل دیکھنے میں آیا، کئی افراد نے اسے مذہبی طور پر نامناسب اور توہین آمیز قرار دیا، ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے حساس مذہبی معاملات کو سیاسی شخصیات سے جوڑنا ناقابل اعتراض ہے، جبکہ اس بیان کے بعد وائٹ ہائوس کو بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیٹھ نے بھی ایران پر حملوں کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی اور کہا کہ امریکی فوجی حضرت عیسیٌٰ کے لیے لڑ رہے ہیں، جنگ جیتنے کے لیے پیٹ ہیگسیٹھ نے حضرت عیسیٌٰ کے واسطے سے پوپ لیو کو دعا کی درخواست بھی کی، جبکہ دوسری جانب امریکی درخواست پر کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا کا اختلاف بھی سامنے آگیا ہے، پوپ لیو نے اس طرح کی دعا سے اعلان لاتعلقی کر دیا اور کہا کہ غلبے کے لیے کرسچن مشن کو مسخ کیا جا رہا ہے، ایسی باتیں حضرت عیسیٌٰ کے طریقہ کار سے بالکل ہٹ کر ہیں، خدا نے زندگیاں تباہ کرنے کی نہیں بلکہ زندگیاں بچانے اور بنانے کی ترغیب دی ہے۔ واضح رہے کہ 100سے زائد امریکی قانونی ماہرین نے بھی ایران پر حملے جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی، انہوں نے کھلا خط جاری کرتے ہوئے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں اور بیانات پر تحفظات کا اظہار کیا، ماہرین نے اسکولوں، ہسپتالوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس پالیسی کو فوری طور پہ تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا، غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے سو سے زائد بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کو ممکنہ جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے کھلے خط میں شدید تشویش کا اظہار کیا، جس میں کہا گیا کہ جنگ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت کے بغیر شروع کی گئی اور ایران کی جانب سے خطرات کا کوئی ثبوت بھی موجود نہیں تھا۔ الغرض ان ٹرمپ جہالتوں نے امریکہ کو تکبر و تنزلی کے زہریلے راستوں پر ڈال دیا ہے اور سارے عالم میں امریکہ کی سبکی ہو رہی ہے، تذلیل ہو رہی ہے ۔ اب تو امریکی عوام اور سرکاری ادارے بھی اس ’’ ٹرمپ گردی‘‘ سے تنگ آ گئے ہیں، کئی سرکاری عہدیدار مستعفی ہو رہے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جنہیں ٹرمپ احکامات نہ ماننے پر برطرف کر دیا گیا ہے۔ وائٹ ہائوس کے سابق چیف آف سٹاف راہم ایمینوئل کہتے ہیں نیتن یاہو نے بل کلنٹن، باراک اوباما، جارج بش اور جوبائیڈن سمیت ہر صدر سے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کرنے کی بات کی، مگر تمام سابق صدور نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد انکار کیا، انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرانا دراصل امریکی صدر کی آئینی ذمہ داری سے فرار ہے، امریکہ کا نظام یہ ہے کہ صدر منتخب ہونے کے بعد بائبل پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھاتا ہے اور کمانڈر انچیف بنتا ہے، فوجیوں کی جانوں کا فیصلہ وہی کرتا ہے، اب دو بچوں کے باپ، جن کے سات ماہ کے دو جڑواں بچے ہیں وہ کبھی بھی اپنے والد کو نہیں دیکھ سکیں گے۔ کاش صدر ٹرمپ اس بات کو سوچتے اور سمجھتے جو خود بھی صاحب اولاد ہیں، صدر ٹرمپ کے بیٹوں کی کمپنی ان دنوں خلیجی ممالک کو ڈرون انٹر سپٹرز بیچنے کی کوشش میں ہے، وائٹ ہائوس کے ایک وکیل بتلاتے ہیں کہ یہ مفاد پرستی کا معاملہ پہلی بار ہوا کہ صدارتی خاندان جنگ سے مالی فائدہ اٹھا رہا ہے، گارڈین کی رپورٹ کے مطابق ایریک اور ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کی معاونت یافتہ کمپنی پاورس ایران کے حالیہ حملوں کے دوران خلیجی ممالک کو دفاعی ڈرون انٹر سپٹرز بیچنے کی کوشش میں ہے۔ ایران کی مظلومیت، امن پسندی، سچے جذبوں، قربانیوں اور دیانتداری کو دیکھ کر آج سارا عالم اسلام اور یہاں تک کہ غیر مسلم بھی ان کی تائید کر رہے ہیں جبکہ ٹرمپ کے پلے ذلالت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں بچا۔ امریکی انٹیلی جنس کے حالیہ جائزے کے مطابق ایران اب بھی نمایاں میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کا حامل ہے، پانچ ہفتے سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی فوجی اہداف پر مسلسل حملے کیے گئے، لیکن اس کے باوجود بھی ایران کے قریباً نصف میزائل لانچرز اب بھی محفوظ ہیں، جبکہ ہزاروں ڈرونز اور میزائل زیر زمین بھی موجود ہیں، جو خطے میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔





