Column

ایک خطہ، کئی جنگیں، ایک ہمہ گیر بحران

ایک خطہ، کئی جنگیں، ایک ہمہ گیر بحران
تحریر : صفدر علی حیدری
مشرقِ وسطیٰ آج محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں رہا، بلکہ یہ عالمی سیاست، طاقت کے توازن، مذہبی جذبات اور معاشی مفادات کا ایک ایسا گنجلک میدان بن چکا ہے جہاں ہر دھاگہ دوسرے سے الجھا ہوا ہے۔ یہاں لڑی جانے والی جنگیں بظاہر مختلف دکھائی دیتی ہیں، مگر حقیقت میں یہ ایک ہی بڑے بحران کے مختلف چہرے ہیں۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں تاریخ زندہ ہے، عقائد سانس لیتے ہیں اور طاقت اپنی آخری حدوں کو چھوتی ہے۔ مگر افسوس کہ اسی خطے میں انسانیت سب سے زیادہ زخمی بھی ہوتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی کو سمجھنے کے لیے اس کے پس منظر میں جھانکنا ناگزیر ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان دشمنی محض سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی اور تہذیبی ہے۔ ایک طرف انقلابی اسلامی فکر ہے اور دوسری طرف صیہونی ریاست کا تصور، یہ تصادم وقت کے ساتھ گہرا ہوتا گیا۔ اسی طرح فلسطین کا مسئلہ اس پورے بحران کا مرکز ہے، ایک ایسا زخم جو دہائیوں سے رس رہا ہے اور ہر نئی جنگ اسے مزید گہرا کر دیتی ہے۔
ایران کا پراکسی نیٹ ورک، لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثی اور دیگر گروہ، اس جنگ کو ایک ’’ ملٹی فرنٹ‘‘ شکل دیتا ہے، جہاں اصل لڑائی کہیں اور ہوتی ہے مگر خون کسی اور زمین پر بہتا ہے۔ یہ جنگ اب ایک ملک یا ایک سرحد تک محدود نہیں رہی۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست حملے، لبنان میں جھڑپیں، یمن میں بحری خطرات اور عراق و شام میں پراکسی جنگ، یہ سب ایک ہی المناک داستان کے مختلف ابواب ہیں۔
ہر محاذ پر آج ایک ہی سوال گونجتا ہے: کیا یہ جنگ کبھی ختم ہوگی؟ یا یہ صرف اپنی شکل بدلتی رہے گی؟دنیا کی بڑی طاقتیں اس جنگ میں یا تو براہِ راست شریک ہیں یا پسِ پردہ اثر انداز ہو رہی ہیں۔ امریکہ، جو خود کو عالمی امن کا ضامن کہتا ہے، ایک فریق کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ روس اور چین اپنے اپنے مفادات کے تحت توازن قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خلیجی ممالک محتاط ہیں، مگر بے اثر نہیں۔ یہ سب مل کر ایک ایسا منظرنامہ تشکیل دیتے ہیں جہاں جنگ صرف بندوق سے نہیں، بلکہ سفارتکاری، معیشت اور میڈیا کے ذریعے بھی لڑی جا رہی ہے۔
تیل کی قیمتیں، عالمی مہنگائی اور تجارتی راستے، یہ سب اس جنگ سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے راستے اگر بند ہو جائیں، تو دنیا کی معیشت ہل سکتی ہے۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ جنگ کہاں ہو رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کا اثر کہاں تک جائے گا، اور جواب ہے: پوری دنیا! ہر جنگ کا سب سے بڑا نقصان عام انسان کو ہوتا ہے۔ وہ جو نہ پالیسی بناتا ہے، نہ فیصلے کرتا ہے، مگر سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ بچے، عورتیں اور بوڑھے، یہ سب اس جنگ کے اصل شکار ہیں۔ ان کے لیے جنگ کوئی ’’ جیو پولیٹیکل گیم‘‘ نہیں، بلکہ روز کا دکھ، خوف اور بقا کی جدوجہد ہے۔
آج کل کی جنگیں روایتی نہیں رہیں۔ ڈرون، سائبر حملے اور میزائل ڈیفنس سسٹمز، یہ سب جنگ کو زیادہ مہلک اور پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ اب دشمن کو دیکھنا ضروری نہیں، صرف نشانہ بنانا کافی ہے، اور یہی چیز جنگ کو مزید خطرناک بناتی ہے۔
یہ ایک تلخ سچ ہے کہ جنگیں میدان میں لڑی جاتی ہیں، مگر ان کا فیصلہ مذاکرات کی میز پر ہوتا ہے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ مذاکرات پہلے کیوں نہیں ہوتے؟ کیونکہ دنیا اصولوں پر نہیں، مفادات پر چلتی ہے۔ جب تک فریقین کو امید ہوتی ہے کہ وہ کچھ حاصل کر سکتے ہیں، وہ جنگ جاری رکھتے ہیں۔ مذاکرات تب ہوتے ہیں جب سب کچھ کھو چکے ہوتے ہیں، یا کھونے کے قریب ہوتے ہیں۔
اقوام متحدہ جیسے ادارے عالمی امن کے لیے بنائے گئے، مگر ان کی عملی حیثیت محدود ہے۔ ویٹو پاور، سیاسی مفادات اور طاقت کا عدم توازن، یہ سب اسے کمزور بنا دیتے ہیں۔ یہ ادارہ آواز تو اٹھا سکتا ہے، مگر فیصلہ مسلط نہیں کر سکتا۔ یہ ایک ایسا منصف ہے جس کے پاس فیصلہ تو ہے، مگر طاقت نہیں۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ جنگ صرف دور کی خبر نہیں، بلکہ معاشی، سفارتی اور داخلی چیلنج ہے۔ تیل کی قیمتیں، عالمی دبائو اور سفارتی توازن، یہ سب اس کے اثرات ہیں۔ دوسری جانب مسلم دنیا خود تقسیم کا شکار ہے، جس کی وجہ سے ایک مشترکہ موقف سامنے نہیں آتا۔
آخر میں سوال وہی رہ جاتا ہے جو ابتدا میں تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ گہرا ہو جاتا ہے۔ اگر یہ طے ہے کہ ہر جنگ کا اختتام مذاکرات پر ہوتا ہے، تو پھر یہ خون کیوں بہایا جاتا ہے؟ یہ شہر کیوں اجاڑے جاتے ہیں؟ یہ انسان کیوں مارے جاتے ہیں؟ شاید اس لیے کہ انسان ابھی تک یہ سیکھ نہیں سکا کہ فتح صرف دشمن کو ہرانے کا نام نہیں، بلکہ خود کو بچانے کا نام بھی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ آج ایک خطہ نہیں، ایک آئینہ ہے، جس میں پوری دنیا اپنا چہرہ دیکھ سکتی ہے۔ یہ جنگ ہمیں یہ بتا رہی ہے کہ ہم نے ترقی ضرور کی ہے، مگر حکمت نہیں سیکھی۔ ہم نے طاقت حاصل کی ہے، مگر توازن کھو دیا ہے۔ اور جب تک طاقت، انصاف سے بڑی رہے گی، تب تک جنگیں ختم نہیں ہوں گی، صرف اپنے نام اور شکل بدلتی رہیں گی۔ آخرکار فیصلہ میز پر ہی ہونا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم کبھی اس میز تک بغیر خون بہائے پہنچ سکیں گے؟
آخر میں ایک افسانہ پیش خدمت ہے ۔۔
مذاکرات ( افسانہ) ۔۔۔
شہر کے بیچوں بیچ ایک وسیع میدان تھا، خاک آلود، زخمی اور چیخوں سے بھرا ہوا۔ وہاں ہر طرف لوگ لڑ رہے تھے۔ کوئی جھنڈے کے لیے، کوئی عقیدے کے لیے اور کوئی صرف اس لیے کہ اسے بتایا گیا تھا کہ یہی اس کا فرض ہے۔میدان کے کنارے ایک لمبی میز رکھی تھی، سفید، صاف اور عجیب حد تک خاموش۔ مگر اس میز کے گرد کرسیاں خالی تھیں۔ ایک بوڑھا شخص، جس کی آنکھوں میں صدیوں کی تھکن بسی تھی، میدان اور میز کے درمیان کھڑا تھا۔ لوگ اسے’’ منصف‘‘ کہتے تھے۔ وہ بار بار پکارتا: ’’ آئو، بیٹھو، بات کرو، یہ جنگ ختم ہو سکتی ہے! ‘‘، مگر میدان میں مصروف لوگ اس کی آواز سنتے ہوئے بھی ان سنی کر دیتے تھے۔ ایک نوجوان، جس کے ہاتھ میں ہتھیار تھا، کچھ دیر کو رکا، اس نے میز کی طرف دیکھا، پھر اپنے زخمی دوست کی طرف، اور واپس لڑنے لگا۔ وقت گزرتا گیا۔ میدان لاشوں سے بھر گیا، زمین سرخ ہو گئی اور چیخیں آہستہ آہستہ سسکیوں میں بدل گئیں۔ پھر، آہستہ آہستہ لوگ رکنے لگے۔ ہتھیار ہاتھوں سے چھوٹنے لگے۔ آنکھوں میں جلتا ہوا غصہ اب تھکن میں ڈھلنے لگا۔ اور پھر، ایک ایک کر کے سب اس میز کی طرف آنے لگے۔ وہی میز، جو شروع سے وہیں تھی۔ وہ بیٹھے۔ بات کی۔ فیصلے کیے۔ بوڑھا منصف خاموش کھڑا دیکھتا رہا۔ اسی اثنا میں ایک بچہ، جو میدان کے ملبے سے نکل کر آیا تھا، اس کے قریب آ کر رک گیا۔ اس نے معصوم آنکھوں سے پوچھا: ’’ اگر بات یہیں کرنی تھی، تو ہم نے اتنا خون کیوں بہایا؟‘‘، بوڑھا مسکرایا، ایک ایسی مسکراہٹ، جس میں درد زیادہ تھا اور سکون کم۔ وہ بولا: ’’ کیونکہ انسان کو سچ سمجھنے کے لیے اکثر تباہی کی زبان سیکھنی پڑتی ہے‘‘۔ بچہ کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے میز کو دیکھا اور آہستہ سے کہا: ’’ کاش، ہم یہ زبان پہلے سیکھ لیتے‘‘۔
صفدر علی حیدری

جواب دیں

Back to top button