جنگوں کے دوران ثالثی اور اقوام متحدہ

جنگوں کے دوران ثالثی اور اقوام متحدہ
تحریر : روشن لعل
جنگ ، چاہے دنیا کے کسی سپر پاور ملک اور کمزور ترین ریاست کے درمیان کیوں نہ لڑی جارہی ہو، اس جنگ کے لیے بھی یہ بات اٹل حقیقت سمجھی جائے گی کہ ’’ جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے ، جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی‘‘۔ جنگ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا نتیجہ کسی بھی فریق کی ظاہری فتح یا شکست کی صورت میں برآمد ہو سکتا ہے لیکن اس جنگ کے باب کو کسی کی ثالثی کے ذریعے طے ہونے والے معاہدے کے بعد ہی حتمی طور پر ختم سمجھا جاتا ہے۔ کسی بھی جنگ کے دوران لڑنے والے فریقوں کے لیے ان کے حامی خاص اہمیت کے حامل ہوتے ہیں لیکن جنگ کے بعد اس شخصیت، ادارے یا ریاست کو سب سے زیادہ سراہا جاتا ہے جس نے جنگ رکوانے کے لیے ثالث کا کردار ادا کیا ہو۔ جنگ رکوانے کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنے والوں کو ، جنگ لڑنے والے فریقین میں سے کسی ایک کا حامی نہیں بلکہ سب کا ہمدرد سمجھا جاتا ہے۔ ثالث، متحارب ملکوں کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتے ہوئے پہلے فائر بندی اور پھر معاہدہ طے ہونے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
ایک مستند تاریخی حوالے کے مطابق ، 209قبل مسیح میں میسیڈونیا اور ایٹولیا کے علاقے میں بسنے والوں کے درمیان جاری جنگ کو ارد گرد کی ریاستوں کے سفیروں نے ثالثی کرتے ہوئے ختم کروایا تھا۔ سال 1493میں پوپ الیگزینڈر ششم کی ثالثی کی بدولت ،سپین اور پرتگال کے درمیان جنگ کا امکان اس وقت ختم ہوا جب کولمبس کے امریکہ دریافت کرنے کے بعد پرتگال ، ایک سابقہ معاہدے کے تحت نئی دریافت شدہ زمین کو اپنا حق قرار دے کر سپین کے ساتھ جنگ لڑنے کے لیے تیار ہو چکا تھا ۔ امریکہ کی دریافت سے پہلے ہی یورپی طاقتیں پوری دنیا میں اپنی نوآبادیاں قائم کرنے کے لیے جنگوں کا آغاز کر چکی تھیں۔ یورپی ایمپائرز نے یہ جنگیں صرف نوآبادیوں کے مقامی حکمرانوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ ان نوآبادیوں کواپنے زیر تسلط رکھنے کے لیے آپس میں بھی لڑیں۔ یہ جنگیں کیونکہ زیادہ تر یورپ سے دور ایشیا، افریقہ اور شمالی و جنوبی امریکہ میں لڑی گئیں ، اس لیے ان جنگوں کی تباہ کاریوں کے یورپ پر براہ راست اثرات مرتب نہ ہوئے۔ یورپ سے دور یہ جنگیں ویسے بھی ریاستوں کی باقاعدہ فوجوں کے درمیان نہیں بلکہ ان ریاستوں کی تجارتی کمپنیوں کے لشکروں کے ذریعے لڑی گئی تھیں ۔ایسی جنگوں کے نتیجے میں جب یورپی ایمپائرز نے مختلف علاقوں میں اپنی نوآبادیاں قائم کر لیں تو ان پر اپنا قبضہ مستحکم کرنے کے لیے ایک دوسرے کی نو آبادیوں میں عدم مداخلت کے معاہدے کرنا شروع کر دیئے تھے۔ ایسے معاہدوں کی راہ ہموار کرنے کے لیے اس دور کے مسیحی مبلغ ثالث کا کردار ادا کرتے رہے۔
نوآبادیاتی دور میں جو علاقہ جس یورپی ایمپائر کے زیر تسلط آیا، نہ صرف اس کا خام مال استعمال کرنے پر ایمپائر کی اجارہ داری قائم ہوئی بلکہ یہ علاقہ جبراً صرف اسی ایمپائر کی صنعتی پیداوار کی منڈی بھی بنا دیا گیا۔ نوآبادیاتی دور کے آغاز میں جو یورپی ممالک، ایشیا، افریقہ اور امریکہ میں اپنی نوآبادیوں کو وسعت نہ دے سکے ان کی صنعتی پیداوار کے لیے منڈیاں نایاب ہو گئیں۔ ان ممالک نے منڈیوں کے حصول کے لیے جو کارروائیاں کیں اس کے نتیجے میں پہلی جنگ عظیم کا آغاز ہوا۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران ، امریکہ اس دور کا واحد طاقتور ملک تھا جس نے جنگ کے پہلے تین برس غیر جانبدار رہتے ہوئے ثالث بن کر جنگ ختم کرانے کی کوشش کی، لیکن جرمنی کے میکسیکو کا اتحادی بننے کی خبریں سامنے آنے کے بعد امریکہ بھی جرمنی کے خلاف جنگ لڑنے والے اتحاد کا حصہ بن گیا۔ امریکہ کے علاوہ اس دور کے پوپ بینی ڈکٹ نے بھی جنگ رکوانے اور قیام امن کے لیے کردار ادا کرنے کی کوششیں کیں، لیکن ان کی کوششوں کو جنگ کے کسی بھی فریق نے اہمیت دینا مناسب نہ سمجھا۔ یوں جنگ عظیم اول جرمنی کے اتحادیوں کی شکست اور برطانیہ و فرانس کے اتحادیوں کی فتح پر منتج ہوئی۔
جنگ عظیم اول کی تباہ کاریوں نے دنیا کی بڑی طاقتوں کو آئندہ کے لیے جنگوں سے گریز کی پالیسیاں تیار کرنے کی طرف مائل کیا۔ جنگ سے گریز کی پالیسی کے تحت اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے ’’ لیگ آف نیشنز‘‘ کے نام سے ادارہ قائم کیا گیا۔ قیام امن کے مقصد کے تحت بنایا گیا ’’ لیگ آف نیشنز‘‘ کا ادارہ دوسری جنگ عظیم کو شروع ہونے سے روکنے میں ناکام رہا۔ ’’ لیگ آف نیشنز‘‘ کا جو ادارہ قبل ازیں سپین کی خانہ جنگی اور چائنہ و جاپان کی جنگ رکوانے میں ناکام ہو چکا تھا اس نے دوسری جنگ عظیم کے دوران کوئی کردار کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ ’’ لیگ آف نیشنز ‘‘ کے قیام امن کی کوششوں میں ناکام ثابت ہونے کے بعد دنیا میں کوئی بھی ایسا ملک ، شخصیت یا ادارہ باقی نہیں رہا تھا جو دوسری جنگ عظیم رکوانے کے لیے موثر کردار ادا کر سکے۔ دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کے ہٹلر نے اپنی ابتدائی کامیابیوں کے بعد برطانیہ کے وزیراعظم ونسٹن چرچل کو سخت ترین شرائط پر جنگ بندی کی پیشکش کی جنہیں چرچل نے ذلت آمیز قرار دیتے ہوئی رد کردیا اور جنگ لڑتے رہنے کو ترجیح دی۔ سوویت یونین کے ہاتھوں جرمن فوجوں کے پچھاڑے جانے کے بعد سال1943 میں ہٹلر کی شکست نوشتہ دیوار بن چکی تھی ، اس موقع پر اتحادیوں نے کاسا بلانکا کانفرنس کے بعد ہٹلر کو غیر مشروط طور پر ہتھیار پھینکنے کی صورت میں جنگ بندی کی پیشکش کی جسے اس نے مسترد کر دیا۔ یوں دوسری جنگ عظیم ، پہلی جنگ عظیم سے کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہونے کے بعد ہٹلر کی شرمناک شکست پر ختم ہوئی۔
اقوام عالم کی طرف سے قیام امن کو ترجیح قرار دیئے جانے کے باوجود پہلی اور دوسری جنگ عظیم کو شروع ہونے سے روکا نہیں جا سکا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد، دنیا کو آئندہ ، جنگوں کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنے کی غرض سے اقوام متحدہ کا ادارہ قائم کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے قیام کے بعد خاص طور پر یورپ میں پہلی اور دوسری جنگ عظیم جیسی کوئی تباہ کن جنگ تو نہیں لڑی گئی لیکن اس کی بجائی ایک ایسی سرد جنگ کا آغاز ہوا جس میں جدید اسلحہ تیار کرنے کی دوڑ میں نہ صرف بڑی طاقتیں بلکہ چھوٹے ملک بھی اپنے حریفوں سے آگے نکلنے کے لیے کوشاں نظر آئے۔ اقوام متحدہ کے قیام کے بعد گوکہ دنیا میں کوئی ایسی جنگ نہیں ہوئی جسے تیسری جنگ عظیم کا نام دیا جاسکے لیکن یہ ادارہ بھی جنگوں کے امکانات ختم کرانے میں موثر ثابت نہیں ہو سکا۔
گوکہ، اقوام متحدہ کا ادارہ دنیا میں جنگوں کو شروع ہونے سے روکنے میں ناکام رہا لیکن شروع ہو چکی جنگوں کو جلد از جلد بند کرانے میں کہیں نہ کہیں اس کا کردار نظر آتا رہا۔ فی الوقت، دنیا کا المیہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کا جو ادارہ عالمی سطح پر قیام امن کے لیے بنایا گیا تھا اس کا، امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کو رکوانے میں کسی بھی قسم کا ثالثی کردار نظر نہیں آرہا۔ ایسا ہونے پر کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ اقوام متحدہ بھی لیگ آف نیشنز کی طرح ایک ناکام ادارہ ثابت ہو چکا ہے۔





