ColumnImtiaz Aasi

عمران رہائی فورس اور سہیل آفریدی

عمران رہائی فورس اور سہیل آفریدی

نقارہ خلق

امتیاز عاصی

جمہوری معاشروں میں سیاسی جماعتوں کا پرامن جدوجہد جمہوریت کا حسن ہوتا ہے۔ وہ جمہوریت ہی کیا جس میں سیاسی جماعتوں کو پرامن سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہ ہو۔ بلاشبہ پی ٹی آئی عوام کی مقبول ترین جماعت ہے جسے عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ پی ٹی آئی بانی کی رہائی کے لئے پرامن جدوجہد کرتی ہے وہ اس کا قانونی اور آئینی حق ہے جس سے اسے کسی صورت محروم نہیں رکھا جانا چاہیے۔ کے پی کے نوجوان وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ترنگ میں بعض اوقات ایسی باتیں کر جاتے ہیں جس سے معاملات پہلے سے زیادہ خراب ہو جاتے ہیں۔ پی ٹی آئی کو اس وقت سب سے بڑا مسئلہ جو درپیش ہے وہ عمران خان کی رہائی کا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما جس انداز سے بانی کی رہائی کے لئے کوشاں ہیں رہائی ممکن دکھائی نہیں دیتی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عمران خان رہائی فورس کے قیام کا اعلان کرکے ایک نئی بحث چھڑ دی ہے۔ عمران خان رہائی فورس کا اعلان کرتے وقت ان کا جو لب و لہجہ تھا وہ معاملات کو سلجھانے کی بجائے مزید بگڑنے کی طرف کے مترادف تھا۔ بھلا یہ بات کہنے کی کیا ضرورت تھی گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلا تو ٹیڑھی انگلی سے نکالیں گے۔ سہیل آفریدی صاحب کو یہ بات ذہین نشین رکھنی چاہیے ریاست کے ساتھ ٹکرائو سے وہ مقاصد حاصل نہیں ہوں گے جس کے لئے وہ جدوجہد کر رہے ہیں۔ یہ درست ہے بانی پی ٹی آئی نے ان پر اعتماد کرکے وزارت اعلیٰ کے لئے منتخب کیا ہے وہ آفریدی صاحب کے لئے اعزاز کی بات ہے۔ چلیں عمران خان کی آنکھ کا مسئلہ تو اب ہوا ہے اس سے پہلے پی ٹی آئی کو بانی کے لئے جو جدوجہد کرنی چاہیے تھی اس کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا بانی اور سابق وزیراعظم موت کی سزا پانے والے قیدیوں کے سیلوں میں رکھا ہوا ہے حالانکہ قانونی طور پر بی کلاس قیدیوں کے لئے مختص کمروں میں رکھا جانا چاہیے۔ اللہ کے بندوں عمران خان کی آنکھ سزائے موت کے سیلوں کے لوہے کے جنگلے صبح شام دیکھ دیکھ کر خراب ہوئی ہے۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو پی ٹی آئی میں اس وقت اتحاد کا فقدان ہے ہر کوئی اپنی ڈفلی بجا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے ووٹ بنک سے انکار ممکن نہیں مگر سانحہ ڈی چوک کے بعد پی ٹی آئی کارکن سڑکوں پر آنے کو تیار نہیں۔ پی ٹی آئی کے ورکرز جو کبھی احتجاج کے لئے سڑکوں پر آتے تھے سڑکوں پر آنے سے گریزاں ہیں۔ پی ٹی آئی رہنمائوں نے اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کی ہے ؟ سانحہ نو مئی اور ڈی چوک میں جن پارٹی ورکرز کو گرفتار کیا گیا ہے وہ جیلوں میں کسمپرسی کے دن گزار رہے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ پارٹی ورکرز کو قانونی امداد کے لئے در بدر ہونا پڑے دوسرے ورکرز کی حوصلہ شکنی قدرتی بات ہے۔ ہم ماضی کی طرف جائیں تو بانی پی ٹی آئی عمران خان نے دارالحکومت اسلام آباد میں ملکی تاریخ کا سب سے طویل دھرنا دیا کیا نواز شریف کی حکومت ختم ہو گئی تھی؟ پی ٹی آئی کو اس وقت جس چیز کی اشد ضرورت ہے وہ طاقتور حلقوں کے ساتھ معاملات کو سدھارنے کی ہے نہ مزید خراب کرنے کی۔ ہمیں بہت سے سی باتوں کا علم ہے جنہیں کالم کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتوں پر پابندی ویسے تو نہیں لگی ہے آخر اس کی کوئی وجہ تو ہوگی۔ بانی پی ٹی آئی کی اہل خانہ سے ملاقاتیں ابھی تک بند ہیں لہذا بانی کے ملاقاتیوں نے ہی معاملات کو بگڑا ہے ورنہ معمول کے مطابق ان کی ہمشیرگان ملاقات کر لیا کرتی تھیں۔ بانی کی ہمشیرہ عظمیٰ خان کو جیلر نے منع کیا تھا جو باتیں عمران خان کے ساتھ ہوں ان کا تذکرہ باہر آکر نہیں کرنا لیکن انہوں نے ان کے مشورے پر عمل نہیں کیا، جس کا نقصان عمران خان اور ان کے اہل خانہ کو ہو رہا ہے۔ اگرچہ عمران خان بڑے مضبوط اعصاب رکھتے ہیں اور مشکل میں گھبرانے والے نہیں ہیں۔ ایک جیلر سے ہم نے استفسار کیا ان کی ملازمت کے دوران سب سے زیادہ جواں مردی سے جیل میں کس نے وقت گزارا ہے تو اس کا جواب تھا ایک رانا ثناء اللہ اور دوسرا عمران خان ہے۔ بانی پی ٹی آئی جذبات میں بہت کچھ کہہ جاتے ہیں جس کا انہیں فائدے کی بجائے الٹا نقصان ہورہا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایسے تو نہیں کہا تھا ملک میں دو وزیراعظم ہوتے ہیں ایک جیلر اور دوسرا ملک کا وزیراعظم۔ ایک وقت تھا جب پیپلز پارٹی ملک کی سب سے بڑی جماعت تھی لیکن بھٹو کی گرفتاری اور پھانسی کے پھندے تک جانے تک کچھ کر نہیں سکی تھی لہذا یہی صورت حال پی ٹی آئی کی ہے وہ حقیقت میں عمران خان کی رہائی کے لئے کچھ کرنے سے قاصر ہے۔ پاکستان جیسے ملک کی سیاست طاقتور حلقوں کی مرہون منت ہے جو سیاسی جماعتیں طاقتور حلقوں کے ساتھ بگاڑ پیدا نہیں کرتیں وہ حکمرانی کے مزے لوٹ رہی ہوتی ہیں اور عمران خان جیسے سیاست دان قید و بند کی زندگی گزار رہے ہیں۔ بلاشبہ اس میں دو آراء نہیں جیل جانے کے بعد عمران خان پہلے سے زیادہ مقبول ہوئے ہیں۔ وہ نواز شریف کی طرح ملک چھوڑنے کو تیار نہیں، نہ ہی طاقتور حلقوں سے کسی قسم کی ڈیل کے لئے تیار ہیں، جو ان کے اپنے موقت پر ڈٹ جانے کی واضح دلیل ہے۔ عمران خان قوم کو غلامی سے نجات دلانے کے خواہاں ہیں اس کے برعکس عوام کسی قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یہ بات درست ہے پاکستان کے عوام دلی طور پر بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں مگر وہ کسی قسم کا انقلاب لانے والے نہیں ہیں۔ درحقیقت جن قوموں میں کرپشن سریت کر جائے وہاں کے عوام کبھی انقلاب نہیں لا سکتے۔ ہمیں تو پی ٹی آئی رہنمائوں کی سمجھ نہیں آتی وہ ملاقاتوں کے لئے مطالبہ کرتے ہیں لیکن بانی پی ٹی آئی کوبی کلاس قیدیوں کے لئے مختص جگہ پر رکھنے کا مطالبہ کرنے سے بھلا کیوں قاصر ہیں؟۔

جواب دیں

Back to top button