Column

​یورپ کی گود سونی، مشرق کا دامن تنگ: ایک ہی زمین کے دو دکھ

نہال ممتاز:
​یورپ سے اٹھنے والا محبت کا تہوار آ کر گزر گیا لیکن اس فکر انگیز لہر کہ ساتھ کہ "محبت تو ہے مگر بچے نہیں”۔
یورپ کا یہ المیہ محض ایک براعظمی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر آبادی کے توازن میں پیدا ہونے والے اس بڑے بگاڑ کی علامت ہے جہاں دنیا دو واضح حصوں میں تقسیم نظر آتی ہے۔ ایک طرف وہ ترقی یافتہ مغربی معاشرے ہیں جو مادی آسائشوں اور انفرادی آزادیوں کی انتہا کو چھو کر اب خاموش آبادیاتی خودکشی کی طرف مائل ہیں، جہاں پنگھوڑے خالی ہو رہے ہیں اور سکولوں کی جگہ اولڈ ہومز آباد ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان جیسے ترقی پذیر مشرقی ممالک ہیں جہاں صورتحال اس کے بالکل برعکس اور اتنی ہی تشویشناک ہے؛ یہاں آبادی کا سیلاب تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور وسائل کی قلت کے باوجود بچوں کی پیدائش کی شرح میں کمی لانا کے ٹو سر کرنے جیسا چیلنج بن چکا ہے۔
​پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہاں آبادی پر کنٹرول محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ گہری مذہبی، سماجی اور نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہے۔ مغربی دنیا جہاں معاشی بوجھ کے خوف سے بچہ پیدا کرنے سے کتراتی ہے، وہاں پاکستان جیسے ممالک میں "بچہ اپنا رزق ساتھ لاتا ہے” جیسے روایتی بیانیے اور خاندانی منصوبہ بندی کو ایک غیر فطری عمل سمجھنے کے رجحانات نے آبادی کے دھماکے کو جنم دیا ہے۔ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اب ایک ایسے بوجھ میں بدل چکی ہے جو ملک کے تعلیمی ڈھانچے، صحت کی سہولیات اور روزگار کے مواقع کو نگل رہی ہے، جبکہ یہاں کی ریاست کے لیے اس بے ہنگم اضافے کو لگام دینا اس لیے بھی مشکل ہے کیونکہ یہ مسئلہ براہِ راست عوامی جذبات اور عقائد سے جڑا ہوا ہے۔
​دلچسپ اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا ایک حصہ آبادی بڑھانے کے لیے مراعات بانٹ رہا ہے جبکہ دوسرا حصہ اسے روکنے کی تگ و دو میں اپنی معیشت داؤ پر لگا چکا ہے۔ یورپ کی تنہائی اور مشرق کا ہجوم، دونوں ہی انتہائیں معاشرتی استحکام کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ اگر مغرب میں خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ اور مادی ترجیحات نے گود سونی کر دی ہے، تو مشرق میں شعور کی کمی اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے زندگی کو سستا اور ہجوم کو بے قابو کر دیا ہے۔ انسانیت کے لیے اصل چیلنج اب یہ ہے کہ وہ اس توازن کو کیسے تلاش کرے جہاں آبادی نہ تو اتنی کم ہو جائے کہ تہذیب ہی مٹ جائے اور نہ ہی اتنی بڑھ جائے کہ زمین کا سینہ اسے سنبھالنے سے قاصر ہو جائے۔

جواب دیں

Back to top button