ColumnImtiaz Aasi

مہنگائی اور رمضان ساتھ ساتھ

مہنگائی اور رمضان ساتھ ساتھ
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
عجیب تماشا ہے حکومت مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی ایکٹ میں ترامیم کرنے کی بجائے پیرا فورس کو مہنگائی پر قابو پانے کی ہدایت کر رہی ہے۔ سوال ہے کیا مہنگائی صرف رمضان المبارک میں ہوتی ہے یا پورا سال رہتی ہے۔ عوام کو بیوقوف بنانے کے ایک اچھا طریقہ ہے سستے بازار لگا دیں اور پیرا فورس کو مہنگائی کرنے والے دکانداروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کر دیں۔ عوام کی بدقسمتی ہے انہیں ایسے حکمرانوں سے واسطہ پڑا ہے جو بذات خود کاروباری ہیں لہذا وہ مہنگائی کا سبب بنانے والے تاجروں کے خلاف کیا اقدامات کرے گی؟ ہم کیسے مسلمان ہیں رحمتوں، مغفرتوں اور دوزخ سے نجات کا ذریعہ بننے والے ماہ مقدس میں عوام کو لوٹنے سے باز نہیں آتے۔ یوں تو ہم کئی کئی حج اور عمرے کرتے ہیں وطن واپسی کے بعد وہ پہلے سے زیادہ عوام کو لوٹتے ہیں۔ مہنگائی صرف موجودہ دور میں نہیں بلکہ عوام کے ووٹوں یا فارم 47کے نتیجے میں وجود میں آنے والی حکومت ہو مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہی ہیں۔ ہاں البتہ دور آمریت میں سر سری عدالتوں سے سزائوں کے خوف سے اشیائے خورونوش کی قیمتیں اعتدال میں رہتی ہیں ورنہ ہر حکومت کے دور میں عوام کو ہوشربا مہنگائی کا سامنا ہوتا ہے۔ پورپی ملکوں میں مذہبی تہواروں کے مواقع پر اشیائے ضرورت آدھی قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں لیکن مسلمانوں کے تہواروں پر مسلمان کاروباری لوٹ مار سے باز نہیں آتے۔ گو بہت سے عرب ملکوں میں بادشاہت ہے کیا مجال کوئی دکاندار مقررہ نرخوں سی مہنگی چیز فروخت کر سکے۔ موجودہ حکومت نے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے آئین میں ترمیم کر لی ہے نجانے مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی ایکٹ میں ترمیم کرکے مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کا موجب بننے والے دکانداروں کو زیادہ سے زیادہ سزائیں دینے سے کیوں گریزاں ہے۔ نگران دور میں موجودہ وزیراعظم نے کے پی کے میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا وہ اپنے کپڑے بیچ کر عوام کو سستا آٹا فراہم کریں گے جس کے نتیجہ میں آج آٹے کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ نصف صدی قبل ملک میں راشن کارڈ کا نظام رائج تھا عوام کو چینی اور آٹا راشن ڈپووں سے ملتا تھا وقت گزرنے کے ساتھ راشن سسٹم کا خاتمہ کرنا پڑا جس کا مقصد آٹے اور چینی سے حکومتی کنٹرول کا خاتمہ تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور تک راشن ڈپووں کا نظام جاری رہا بعد ازاں راشن سسٹم کا خاتمہ کرنا پڑا۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ہمارا ملک گندم میں خود کفیل ہونے کے باوجود عوام کو آٹا مہنگے داموں کیوں خریدنا پڑ رہا ہے۔ پنجاب حکومت نے ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے آٹے کے تھیلے پر وزیراعلی مریم نواز کی تصویر چھاپی ہے حالانکہ اگر حکومت بازار سے کم نرخوں پر لوگوں کو آٹا مہیا کرنے کی خواہاں ہے تو وزیراعلیٰ کی آٹے کی تھیلے پر تصویر چھاپنے کا کیا مقصد ہے؟ اگر وزیراعلیٰ پنجاب واقعی عوام کی خدمت سے سرشار ہیں تو انہیں اپنی تصاویر چھاپنے سے کیا حاصل ہے؟ ہم یہ نہیں کہتے وزیراعلیٰ کام نہیں کر رہی ہیں بلکہ وہ ہمہ وقت صوبے میں ترقیاتی کاموں پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کو کنٹرول کرنے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی ایکٹ میں ترامیم کرکے مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیں تو صوبے میں اشیائے ضرورت کے نرخ کنٹرول کئے جا سکتے ہیں۔ آج ملک کے عوام کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی اور بے روزگاری کا ہے۔ چلیں روزگار کے مواقع علیحدہ بات ہے مگر بااختیار حکومت کے ہوتے ہوئے غریب عوام کو مہنگائی کا سامنا ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ الحمدللہ اس کالم نگار کا کسی سیاسی جماعت اور کسی سیاسی رہنما سے کوئی شناسائی نہیں ہے جب سے صحافت کو اپنایا ہے حتمی المقدور کوشش رہی ہے سچ کو زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنایا جائے۔ ملک کے عوام کو جن جن مسائل کا سامنا ہے اس کا ذمہ دار کوئی ایک سیاست دان نہیں ہے بلکہ اقتدار میں رہنے والی تمام سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین ہیں۔ عوام کی بدقسمتی دیکھئے وہ ووٹ کسے دیتے ہیں اقتدار میں کوئی اور آجاتا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں عوام کے مینڈیٹ کے ساتھ جو کھلواڑ ہوا نظریں شرم سے جھک جاتی ہیں۔ تعجب ہے جنہیں عوام نے منتخب نہیں کیا وہ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو کر بلند بانگ دعوے کر تے ہیں۔ اگرچہ وزیراعلیٰ نے پیرا فورس کو مہنگائی پر قابو پانے کی ذمہ داری دی ہے سوال ہے پیرا فورس مہنگائی کے جن کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو جائے گی؟ ماہ مقدس میں لوگ حق تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی کے طلبگار ہوتے ہیں جب کے اس کے برعکس کاروباری طبقہ مہنگائی کرکے اپنے گناہوں میں اضافے میں لگے ہوتے ہیں۔ غریب عوام کی ماہانہ آمدن پرانی ہے مہنگائی کئی گنا زیادہ ہے جس نے غریب عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔ حکومت صدق دل سے عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کی خواہاں ہے تو اشیائے خورونوش میں سبسڈی دے کر بھی عوام کو سستی اشیاء مہیا کی جا سکتی ہیں۔ ہم پنجاب ہی کی بات کریں تو نئے نئے ٹیکسوں نے عوام کے لئے نت نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ شہروں اور محلوں کی صفائی بلدیات کی ذمہ داری رہی ہے پانی کو عشروں سے عوام کو فری میسر تھا اس کے بلوں میں ہر چھ ماہ بعد اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ صفائی کے عملہ کی تنخواہوں کو پورا کرنے کے لئے شہریوں پر ماہانہ ٹیکس نافذ ہو چکا ہے۔ عوام جائیں تو کہاں جائیں کوئی فریاد سننے والا نہیں ہے۔ جس ملک کے سیاست دان عوام کے مسائل کا تدارک کرنے کی بجائے اپنے اثاثوں میں اضافہ کرنے کو مطمع نظر بنا لیں ایسے ملکوں کے عوام کے مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔ ہمارے ملک کو راست باز قیادت کی اشد ضرورت ہے جو ذاتی مفادات سے نکل کر ملک و قوم کے مسائل کو فوقیت دیں۔ جو ملک غیرقانونی مہاجرین کو ملک سے نکالنے میں ناکام رہے ایسے ملک کے عوام کو حکومت سے اپنے مسائل کو حل کرنے کی توقع رکھنا عبث ہے۔ مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کے خاتمے کی دو صورتیں ہیں تاجر طبقہ خوف خدا کو مدنظر رکھے یا حکومت مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کے مرتکب لوگوں کو جیلوں میں ڈالے۔

جواب دیں

Back to top button