ColumnQadir Khan

بنگلہ دیش کا نیا جغرافیائی و سیاسی رخ

بنگلہ دیش کا نیا جغرافیائی و سیاسی رخ
قادر خان یوسف زئی
خطے کی سیاست میں جب بھی کوئی بڑی اور غیر متوقع تبدیلی رونما ہوتی ہے، تو اس کے اثرات محض سرحدوں کے پار تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ پوری تزویراتی بساط کو اس طرح الٹ کر رکھ دیتے ہیں کہ دہائیوں پر محیط روایتی بیانیے دم توڑنے لگتے ہیں۔ جنوبی ایشیا کی سیاست اس وقت ایک ایسے ہی تاریخی، حساس اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے جہاں پرانی وفاداریاں تاریخ کے اوراق میں گم ہو رہی ہیں اور نئے تزویراتی اتحاد ایک نئی صبح کا اعلان کر رہے ہیں۔ فروری 2026ء میں بنگلہ دیش کے عبوری چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس کی الوداعی تقریر نے درحقیقت نئی دہلی کے ایوانِ اقتدار میں ایک ایسا زلزلہ برپا کیا ، جس کے سیاسی اور سفارتی آفٹر شاکس شاید کئی دہائیوں تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ اٹھارہ ماہ پر محیط اس عبوری حکومت کے اختتام پر ان کا یہ بیان محض کوئی روایتی سیاسی تقریر نہیں تھا، بلکہ یہ ایک نئی، بیدار اور خود مختار ریاست کا وہ دو ٹوک بیانیہ تھا جس نے بھارت کی خطے میں نام نہاد بالادستی اور چودھراہٹ کو سیدھا چیلنج کیا ہے۔
ڈاکٹر یونس نے اپنی تقریر میں بڑی مہارت اور سفارتی نزاکت کے ساتھ بھارت کی ’’ سیون سسٹرز‘‘ یعنی ان سات شمال مشرقی ریاستوں جن میں اروناچل پردیش، آسام، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ اور تریپورہ شامل ہیں، کا ذکر جس تزویراتی اور اقتصادی پیرائے میں کیا، اس نے بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی راتوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے کھلے سمندر تک رسائی کو بنیاد بناتے ہوئے نیپال، بھوٹان اور ان بھارتی ریاستوں کے ساتھ تجارت کے جس روشن امکان کو اجاگر کیا، وہ بظاہر تو علاقائی روابط کا ایک معاشی خاکہ تھا، لیکن درحقیقت یہ ایک ایسی گہری تزویراتی حکمت عملی تھی جس نے بھارت کو یہ پیغام دیا کہ بنگلہ دیش اپنے جغرافیائی محل وقوع کو کس طرح اپنے مفاد میں استعمال کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اس بیان سے بھارت میں جو بے چینی اور کھلبلی پیدا ہوئی، وہ بلاوجہ نہیں تھی۔ بھارت کو بجا طور پر یہ خوف لاحق ہو گیا ہے کہ بنگلہ دیش اپنے اس شاندار جغرافیے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شمال مشرقی بھارت کے خطے میں اپنا معاشی اور سیاسی رسوخ بڑھا سکتا ہے، اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب ڈاکٹر یونس کے اٹھارہ ماہ کے دورِ حکومت میں بنگلہ دیش کے اندر بھارت مخالف جذبات اپنے عروج کو چھو رہے تھے۔
ڈاکٹر یونس نے واضح طور پر یہ اعلان کیا کہ بنگلہ دیش نے اپنی کھوئی ہوئی خودمختاری دوبارہ حاصل کر لی ہے اور اب وہ کسی بھی صورت میں بھارت کی ’’ مطیع اور فرمانبردار‘‘ ریاست بن کر نہیں رہے گا۔ اس کے ساتھ ہی، ڈھاکہ کا بیجنگ اور اسلام آباد کی طرف گرمجوشی سے بڑھتا ہوا جھکا اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ خطے کی سیاست میں ایک نیا محور جنم لے رہا ہے۔ اگر ہم اس صورتحال کو جغرافیائی حقائق کی عینک سے دیکھیں تو تصویر مزید واضح اور بھیانک ہو کر بھارت کے سامنے ابھرتی ہے۔ بنگلہ دیش بھارت کے ساتھ چار ہزار کلومیٹر سے طویل اور پیچیدہ زمینی سرحد شیئر کرتا ہے، جو خاص طور پر ان چار شمال مشرقی ریاستوں آسام، میگھالیہ، تریپورہ اور میزورم کو اپنے گھیرے میں لیتی ہے۔ یہ جغرافیائی محل وقوع ایک ایسا حصار بناتا ہے جس نے بھارت کو ہمیشہ ایک مستقل نفسیاتی اور عسکری دبا میں رکھا ہے۔ یہ دعویٰ بالکل بجا اور زمینی حقائق کے عین مطابق ہے کہ بنگلہ دیش کا چورانوے فیصد علاقہ کسی نہ کسی طرح بھارت سے جڑا ہوا محسوس ہوتا ہے، کیونکہ شمال، مشرق اور مغرب میں بھارتی سرحدیں اس کے سینے سے لگی ہیں اور صرف جنوب میں خلیج بنگال کی لہریں اسے کھلے پانیوں تک رسائی دیتی ہیں۔
اس سارے پیچیدہ منظر نامے میں بھارت کے لیی سب سے بڑی دکھتی رگ اور دفاعی کمزوری اس کا ’’ سلی گوڑی کوریڈور‘‘ ہے، جسے عام اصطلاح میں چکنز نیک (Chicken’s Neck)کہا جاتا ہے۔ یہ ایک انتہائی تنگ زمینی پٹی ہے جو شمال مشرقی ریاستوں کو بقیہ مین لینڈ بھارت سے جوڑتی ہے۔ اگرچہ یہ کوریڈور مکمل طور پر بھارتی کنٹرول میں ہے، لیکن اس کی تزویراتی نزاکت اور کمزوری نے ہمیشہ بھارتی پالیسی سازوں کو خوف میں مبتلا رکھا ہے۔ اس جغرافیائی حقیقت نے بنگلہ دیش کو شمال مشرق تک رسائی کے حوالے سے ایک کلیدی اور ناگزیر حیثیت دے دی ہے، جس کے تحت بھارت ہمیشہ سے بنگلہ دیش سے محفوظ تجارتی اور عسکری راہداریوں کا طالب رہا ہے۔ تاہم، سفارتی حلقوں میں یہ بحث بھی زوروں پر ہے کہ ڈھاکہ کی موجودہ استعداد اس نوعیت کی نہیں ہے کہ وہ تن تنہا اس پورے خطے کو تنہا کر سکے، کیونکہ بھارت کی عسکری برتری اور اس کوریڈور پر اس کا آہنی کنٹرول فی الحال اس کے حق میں ہے، لیکن جغرافیے کا جو جبر بھارت پر مسلط ہے، اس کا کوئی مستقل علاج نئی دہلی کے پاس نہیں ہے۔
بھارت نے سیون سسٹرز پر اپنا تسلط برقرار رکھنے اور وہاں اٹھنے والی آزادی اور علیحدگی کی تحریکوں کو کچلنے کے لیے وسائل کا بے دریغ استعمال کیا ہے۔ نئی دہلی نے ان خطوں میں ہونے والی سرمایہ کاری اور مرکزی حکومت کی جانب سے ملنے والے فنڈز کو علاقائی جی ڈی پی کے بیس سے پچپن فیصد تک پہنچا دیا ہے، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ بھارت اس خطے کی پسماندگی اور وہاں کے عوام کی محرومیوں سے کس قدر خائف ہے۔ اس بھاری مالی جھونک کے باوجود، وہاں بنیادی ڈھانچے کا فقدان، ریلوے اور ہوائی رابطوں کی کمی اور دہائیوں سے سلگتی ہوئی شورشیں ایک تلخ حقیقت ہیں۔ نئی دہلی کی ’’ ایکٹ ایسٹ پالیسی‘‘ (Act East Policy)کا بنیادی مقصد ہی آسیان ممالک کے ساتھ معاشی تعلقات کو مضبوط کر کے اس خطے کو تنہائی کے خطرے سے نکالنا تھا، جبکہ بنگلہ دیش کی سرحد کے تقریباً اناسی فیصد حصے پر باڑ لگا کر دراندازی کو روکنے کی کوشش کی گئی۔
ماضی کی بھارت نواز بنگلہ دیشی حکومتوں نے نئی دہلی کی خوشنودی کے لیے شمال مشرقی علیحدگی پسندوں، بالخصوص الفا (ULFA)کے کیمپوں کو تباہ کر کے بھارت کا بھرپور ساتھ دیا تھا، لیکن موجودہ سیاسی زلزلوں اور تبدیلیوں کے بعد اس تعاون کے مکمل طور پر ختم ہونے کے قوی امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ اگرچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ طاقت کے عدم توازن کی وجہ سے علیحدگی پسندوں کو پناہ دینے کی دھمکیاں محض بیان بازی ہو سکتی ہیں، لیکن آزاد بنگلہ دیش بذات خود بھارت کے لیے ایک بہت بڑا سیکیورٹی رسک بن چکا ہے۔ تزویراتی اعتبار سے دیکھا جائے تو، اب نئی دہلی کو یہ تلخ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ جنوبی ایشیا کی جغرافیائی و سیاسی سیاست میں اب دھونس، دبا اور ہٹ دھرمی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، اور ایک بیدار بنگلہ دیش اب خطے کی تقدیر کے فیصلے اپنے مفادات کی روشنی میں کرنے کا بھرپور اور جائز حق رکھتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button