پانی کو ہتھیار بنانے کی

پانی کو ہتھیار بنانے کی
بھارتی کوشش ناکام رہے گی
وزیرِاعظم شہباز شریف نے حال ہی میں اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے ساتھ تعاون کے معاہدوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے سامنے موجود داخلی اور عالمی چیلنجز کی تفصیل بیان کی۔ اُن کی تقریر میں سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، ماحولیاتی دبائو، نوجوان آبادی کے مواقع اور عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کی اہمیت کے نکات شامل تھے، جو نہ صرف ملکی حکمت عملی کے لیے رہنما خطوط ہیں بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی واضح پیغام رکھتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزی اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی کی نشان دہی کی۔ یہ موضوع نہ صرف پاکستان کے جغرافیائی اور اقتصادی مفادات سے جڑا ہوا ہے بلکہ خطے میں سلامتی، استحکام اور خوراک و پانی کی سیکیورٹی کے تناظر میں بھی انتہائی سنجیدہ ہے۔ پانی کسی بھی ملک کے لیے بنیادی ضرورت ہے اور اگر اسے جغرافیائی یا سیاسی دبائو کے آلے کے طور پر استعمال کیا جائے تو نہ صرف معاشی ترقی متاثر ہوتی ہے بلکہ عام شہریوں کی زندگی بھی شدید خطرے میں آجاتی ہے۔ وزیراعظم کا اشارہ یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اس مسئلے کو فوری طور پر اجاگر کرنا اور اقوام متحدہ جیسے فورمز پر پاکستان کے موقف کو مضبوطی سے پیش کرنا ناگزیر ہے۔ خطاب میں وزیراعظم نے عالمی ماحولیاتی دبائو اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر بھی روشنی ڈالی۔ پاکستان عالمی کاربن کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے، لیکن اسی کم حصے کے باوجود وہ دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ 2022ء کے سیلاب کی تباہ کاریاں آج بھی ذہنوں میں تازہ ہیں، جو یہ بتاتی ہیں کہ ملک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پہلے سے زیادہ مضبوط اور موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار ترقی ہی وہ واحد راستہ ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر امن اور استحکام کی ضمانت دے سکتا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی نوجوان آبادی ہے، جسے وزیراعظم نے ترقی کا عظیم موقع قرار دیا۔ نوجوانوں کو تعلیم، تربیت، روزگار اور عالمی معیار کی مہارتوں سے لیس کرنا نہ صرف ملکی معیشت کی بنیاد مضبوط کرے گا بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر موثر کردار ادا کرنے کے قابل بھی بنائے گا۔ وزیراعظم کی تقریر میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا ذکر اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ مستقبل کی ترقی ان شعبوں سے جڑی ہوئی ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ یہ وسائل صرف مخصوص طبقات تک محدود نہیں رہنے چاہئیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے دستیاب ہونا ضروری ہیں۔ خطاب میں اقوام متحدہ کے کردار پر بھی زور دیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج کی کثیر قطبی دنیا کے تقاضوں کے مطابق اقوام متحدہ کو زیادہ فعال اور مضبوط بنایا جانا چاہیے، تاکہ عالمی مسائل کے حل کے لیے بروقت اور موثر اقدامات ممکن ہوں۔ ان کے مطابق، دنیا کے زخموں پر محض عارضی مرہم رکھنے سے کام نہیں چلے گا، بلکہ انہیں جڑ سے ختم کرنا ہوگا، جو عالمی قیادت اور تعاون کی حقیقی ضرورت ہے۔ تقریب میں دستخط کیے گئے معاہدے بھی اس وژن کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ان میں یونیڈو (UNIDO)پروگرام برائے کنٹری پارٹنرشپ پاکستان 2025 تا 203، یو این او ڈی سی (UNODC)کنٹری پروگرام پاکستان اور انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن اینڈ آنکالوجی لاہور (INMOL)اور IAEAکے مابین تعاون شامل ہیں۔ یہ معاہدے نہ صرف پاکستان کے صنعتی، طبی اور سائنسی شعبے کی ترقی کو تقویت دیں گے بلکہ عالمی معیار کے مطابق پالیسی سازی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے بھی راہیں ہموار کریں گے۔ وزیراعظم کی تقریر اور معاہدوں کی نوعیت ایک پیغام دیتی ہے۔ پاکستان اپنے داخلی مسائل، موسمیاتی خطرات اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ نہ صرف ملکی سطح پر اصلاحات لائی جائیں بلکہ عالمی سطح پر اپنے حقوق اور مفادات کا دفاع بھی کیا جائے۔ سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزی کے حوالے سے ان کے بیان نے یہ واضح کر دیا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کو کسی طور برداشت نہیں کیا جائے گا اور پاکستان ہر فورم پر اپنے موقف کو اجاگر کرے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے جس سمت میں ملکی اور عالمی پالیسی کا نقشہ کھینچا ہے، وہ مستقبل کے لیے ایک رہنما اور بصیرت افروز اقدام ہے۔ یہ تقریر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ پاکستان کو نہ صرف پانی، موسمیاتی تبدیلی اور نوجوانوں کے مواقع کے حوالے سے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے بلکہ عالمی برادری کے ساتھ تعاون کے ذریعے اپنے مفادات اور استحکام کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔
صنعتوں کیلئے بجلی سستی
حکومت نے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 4روپے 4پیسے فی یونٹ کمی کا نوٹیفکیشن جاری کرکے صنعتوں کے لیے خوشخبری دی ہے۔ یکم فروری سے اس کا اطلاق ہوگا، جس سے ملک کی صنعتی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف صنعتوں کے براہِ راست اخراجات میں کمی کا سبب بنے گا، بلکہ کاروباری ماحول کو مستحکم کرنے اور ملک میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی اہم ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، بجلی کی قیمت میں کمی سے صنعتوں پر 101 ارب روپے کے کراس سبسڈی کے بوجھ کو ختم کر دیا گیا ہی۔ بنیادی ٹیرف 33 روپے 58 پیسے سے کم ہوکر 29 روپے 54 پیسے مقرر کیا گیا جب کہ صنعتوں کا ٹیرف ساڑھے 11 سینٹ فی یونٹ تک پہنچ گیا ہے۔ اس اقدام سے صنعتیں اپنے پیداواری اخراجات کم کرسکیں گی، جس کا براہِ راست فائدہ ملکی معیشت اور برآمدات پر پڑے گا۔ صنعتیں گزشتہ کئی ماہ سے بجلی کی بلند قیمتوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار تھیں۔ بڑھتے ہوئے توانائی کے اخراجات نے مصنوعات کی لاگت میں اضافہ کیا اور مسابقتی صنعتوں کے لیے دبا پیدا کیا۔ بجلی کی قیمت میں یہ کمی صنعتی شعبے کے لیے ایک نیا سانس ثابت ہوگی، جس سے چھوٹے اور درمیانے کاروبار بھی اپنی پیداوار بڑھاسکیں گے اور ملازمت کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔ اس کمی کے نفاذ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھے گا۔ جب بجلی جیسے بنیادی شعبے میں سہولت فراہم کی جائے گی تو ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہیں کھلیں گی۔ پاور ڈویعن نے انڈسٹری کے تحفظات پر نیپرا میں درخواست دائر کی تھی اور 11فروری کو نیپرا کی سماعت کے بعد حکومت کو فیصلہ موصول ہوا، جس پر فوری عمل درآمد کردیا گیا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت صنعتوں کی ضروریات اور ملکی معیشت کے توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے بروقت اقدامات کر رہی ہے۔ بجلی کے نرخوں میں کمی کا اثر نہ صرف صنعتوں بلکہ صارفین کی مجموعی معیشت پر بھی پڑے گا۔ کم قیمت پر توانائی کی دستیابی سے مصنوعات کی قیمتیں مستحکم رہیں گی اور مہنگائی کے دبا میں کمی آئے گی۔ اس کے علاوہ برآمدات کی مسابقت بھی بڑھ سکتی ہے، جس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوں گے۔ یہ فیصلہ صنعتوں کے لیے عملی مدد کے ساتھ سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے اور معیشت کو مستحکم کرنے کا پیغام بھی دیتا ہے۔ اگر حکومت اسی طرح توانائی کے شعبے میں پالیسی اصلاحات اور سہولتیں جاری رکھے تو پاکستان کی صنعتی ترقی میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔





