Column

بصارت اور بصیرت

بصارت اور بصیرت
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔
انسان کی زندگی ایک دو سطحی جہان میں پروان چڑھتی ہے: ایک وہ سطح جو آنکھوں سے دیکھی جاتی ہے اور دوسری وہ سطح جو دل اور شعور کی روشنی میں محسوس ہوتی ہے۔ دنیا کو دیکھنا آسان ہے، مگر دنیا کو سمجھنا ایک فن، ایک علم، اور ایک بصیرت کا نتیجہ ہے۔ بصارت انسان کو مناظر دکھاتی ہے، مگر بصیرت انسان کو حقیقت سمجھنے کی طاقت عطا کرتی ہے۔
بصارت اور بصیرت کے درمیان فرق ظاہری اور باطنی نہیں بلکہ وجودی اور روحانی ہے: بصارت ، آنکھ کی صلاحیت کا نام ہے۔
جبکہ بصیرت ، دل و عقل کی صلاحیت، غور و فکر، عبرت، اور شعوری ادراک کا نام
ایک شخص قبر کو دیکھتا ہے لیکن اپنی زندگی نہیں بدلتا؛ یہ بصارت ہے۔ دوسرا شخص قبر کے بارے میں سنتا ہے اور اپنی زندگی بدل لیتا ہے؛ یہ بصیرت ہے۔
اسی طرح، ایک شخص زوال دیکھتا ہے مگر غرور نہیں چھوڑتا؛ یہ بصارت ہے۔ دوسرا شخص زوال کے امکان کو سمجھتا ہے اور عاجزی اختیار کر لیتا ہے، یہ بصیرت ہے۔
قرآنِ حکیم اس حقیقت کو واضح کرتا ہے: ’’ بے شک آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں‘‘۔
یہ آیت بتاتی ہے کہ اصل فہم دل اور شعور سے پیدا ہوتا ہے، نہ کہ صرف آنکھوں سے۔ جب دل غفلت میں مبتلا ہو اور شعور سو جائے، تب انسان سب کچھ دیکھ کر بھی کچھ نہیں دیکھتا۔
کلام مجید انسان کو بار بار غور و فکر اور تدبر کی دعوت دیتا ہے۔ کیونکہ بصیرت خودکار عمل نہیں، بلکہ ایک حاصل کی جانے والی صفت ہے۔
’’ کیا وہ زمین میں نہیں چلتے کہ ان کے دل ایسے ہو جائیں جن سے وہ سمجھیں، یا ان کے کان ایسے ہو جائیں جن سے وہ سنیں؟ بے شک آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں‘‘۔
یہ آیت انسانی شعور اور قلبی بیداری پر زور دیتی ہے۔ آنکھیں منظر دیکھتی ہیں، لیکن دل اور عقل ہی انسان کو حقیقت کی پہچان دلاتے ہیں۔
ایک اور مقام پر فرمایا: ’’ بے شک ان واقعات میں عقل والوں کے لیے عبرت ہے‘‘۔
گویا بصیرت حاصل کرنے کے لیے صرف دیکھنا کافی نہیں، عقل، تدبر اور غور و فکر ضروری ہے۔
سورہ الحجرات میں اللہ فرماتا ہے: ’’ یقیناً لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہے‘‘۔
یہ بصیرت کی اخلاقی جہت کو واضح کرتا ہے: حقیقی دانا وہ ہے جو خوفِ الٰہی کے تحت شعوری عمل کرتا ہے اور دنیاوی دھوکے میں نہیں آتا۔
رسولؐ اللہ نے انسان کو صرف ظاہری عبادت کی طرف نہیں بلکہ شعوری بیداری کی طرف بھی بلایا۔
’’ حقیقی دانا وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے، اور عاجز وہ ہے جو اپنی خواہشات کی پیروی کرے اور اللہ سے امید رکھے‘‘۔
یہ حدیث بصیرت کی تعریف پیش کرتی ہے۔ بصیرت انسان کو اپنی زندگی کی نگرانی، اعمال کا محاسبہ اور شعوری اصلاح سکھاتی ہے۔
’’ دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت ہے‘‘۔
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ بصیرت انسان کو دنیا کے فریب اور ظاہری خوشیوں سے محفوظ رکھتی ہے اور اسے حقیقت کے قریب لے آتی ہے۔
’’ کثرت سے موت کو یاد کیا کرو، کیونکہ یہ لذتوں کو ختم کرنے والی ہے‘‘۔
یہ یاد دہانی انسان کی بصیرت کو بیدار کرتی ہے اور اسے عاجزی و حقیقت پسندی کی طرف لے جاتی ہے۔
مولا علیؓ فرماتے ہیں ’’ عبرت کی جگہیں بہت ہیں، مگر عبرت حاصل کرنے والے کم ہیں‘‘۔
گویا دنیا میں ہر جگہ نشانات موجود ہیں، مگر انسان کی غفلت اکثر اسے نظر انداز کر دیتی ہے۔
آپ نے فرمایا: ’’ جس نے عبرت حاصل کی، اس کی بصیرت بڑھ گئی‘‘۔
یہ ظاہر کرتا ہے کہ بصیرت صرف مشاہدے سے نہیں بلکہ غور و فکر اور تجربے سے حاصل ہوتی ہے۔
آپ نے فرمایا: ’’ دنیا کو دیکھنے والا بہت ہے، مگر دنیا کو سمجھنے والا کم ہیں‘‘۔
یہ بصارت اور بصیرت کا بنیادی فرق واضح کرتا ہے کہ دیکھنا آسان ہے، سمجھنا مشکل اور نایاب۔
اسلامی تاریخ اور حقیقی زندگی میں کئی ایسے واقعات ہیں جو بصیرت کی مثال ہیں۔
1۔ جنازہ دیکھ کر عبرت: ایک شخص جنازے کے ساتھ گزرا اور بے توجہی دکھائی، مگر ایک صاحبِ بصیرت شخص نے وہی جنازہ دیکھا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ کسی نے پوچھا: ’’ آپ کیوں رو رہے ہیں؟‘‘، اس نے جواب دیا: ’’ یہ ایک انسان تھا، کل یہ چلتا اور بات کرتا تھا، آج یہ خاموش ہے۔ کل میں بھی اسی طرح خاموش ہو جائوں گا‘‘۔ یہی بصیرت ہے، دوسروں کے انجام میں اپنی زندگی دیکھنا اور اس سے سبق لینا۔
2۔ صحابہؓ اور اولیاء کرامؒ کی زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دنیا کی راحت اور دکھ دونوں ایک امتحان ہیں۔ جو انسان دل کی بصیرت سے دیکھتا ہے، وہ دنیاوی لذتوں اور مشکلات دونوں میں حقیقت دیکھ لیتا ہے۔ سچ ہے کہ سیرت انسان کی زندگی بدل دیتی ہے، عاجزی سکھاتی ہے، انسان طاقت اور غرور کی حقیقت جانتا ہے۔ انصاف سکھاتا ہے، وہ جانتا ہے کہ ہر عمل کا حساب دینا ہے۔ احتساب سکھاتی ہے، وہ اپنے انجام سے باخبر ہوتا ہے۔ یہ انسان کو اندھی تقلید سے نکال کر شعوری زندگی کی طرف لے جاتی ہے۔ بصیرت انسان کو ہر واقعے میں سبق، ہر زوال میں تنبیہ اور ہر انجام میں نصیحت دیکھنے کی قوت عطا کرتی ہے۔
انسان کی زندگی کا اصل مقصد محض دیکھنا یا جاننا نہیں، بلکہ سمجھنا اور اپنے اعمال کو شعوری طور پر درست کرنا ہے۔ بصارت انسان کو مناظر دکھاتی ہے، مگر بصیرت انسان کو ان مناظر کی حقیقت سمجھنی کی قوت عطا کرتی ہے۔مولا علیؓ فرماتے ہیں: ’’ دنیا کو دیکھنے والا بہت ہے، مگر دنیا کو سمجھنے والا کم ہے‘‘۔
یہ قول انسان کے اس فکری فاصلہ کو واضح کرتا ہے جو محض آنکھ کے مشاہدے اور دل کی بصیرت کے درمیان موجود ہے۔
احادیث نبویؐ اس حقیقت کو بار بار اجاگر کرتی ہیں:
’’ حقیقی دانا وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے‘‘۔
یہ حدیث انسان کو یاد دلاتی ہے کہ بصیرت صرف مشاہدے سے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ شعوری تجزیہ، خود کا محاسبہ، اور اعمال کے نتائج کو سمجھنے سے حاصل ہوتی ہے۔
یہی بصیرت ہے، دوسروں کے انجام میں اپنی زندگی دیکھنا اور اس سے سبق حاصل کرنا۔
انسان کی زندگی کا اصل سفر یہ ہے کہ وہ صرف دیکھنے والا نہ رہے، بلکہ سمجھنے والا، عبرت لینے والا، اور شعور رکھنے والا بنے۔ آنکھیں ہر انسان کے پاس ہیں، مگر بصیرت ہر انسان کے پاس نہیں۔
آنکھیں منظر دکھاتی ہیں، مگر بصیرت اسے معنی دیتی ہے۔
آنکھیں واقعہ دیکھتی ہیں، مگر بصیرت اسے زندگی کے سبق میں بدل دیتی ہے۔
آنکھیں عارضی حقیقت دکھاتی ہیں، مگر بصیرت دائمی اور اخلاقی حقیقت دکھاتی ہے۔
بصیرت انسان کی روحانی بیداری، اخلاقی فہم، اور عملی زندگی کی درستی کا ذریعہ ہے۔ جو انسان بصیرت حاصل کر لیتا ہے:
وہ دنیاوی فریب میں نہیں آتا۔
وہ ہر واقعے میں پیغام دیکھتا ہے۔
وہ ہر زوال میں تنبیہ سمجھتا ہے۔
وہ ہر انجام میں سبق حاصل کرتا ہے۔
اور جو انسان بصیرت سے محروم ہو جائے
وہ سب کچھ دیکھ کر بھی اندھا رہتا ہے۔
وہ اپنی غلطیوں سے نہیں سیکھتا۔
وہ دوسروں کے لیے عبرت بن جاتا ہے۔
کامیاب انسان وہ نہیں جو محض دیکھتا ہے، بلکہ وہ ہے جو دیکھ کر سمجھتا ہے، سمجھ کر سوچتا ہے، اور سوچ کر عمل کرتا ہے۔ بصارت سے بصیرت تک کا سفر انسان کی حقیقی کامیابی ہے، انسانی بلوغت اور روحانی ارتقاء کا راستہ ہییہ چند سطور ایک دعوت ہے کہ ہم محض دیکھنے والے نہ رہیں، بلکہ غور و فکر، شعور اور تدبر کی روشنی میں بصیرت کے حامل بنیں، تاکہ ہماری زندگی کا ہر لمحہ معنی خیز، ہر عمل بامعنی اور ہر انجام عبرت آموز ہو۔
سچ تو یہ ہے کہ عبرت حاصل نہ کرنے والے اکثر خود نمونہ عبرت بن جاتے ہیں
بقول شاعر
دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو

جواب دیں

Back to top button