CM RizwanColumn

آگ لگا کر تپش تو سہنا پڑتی ہے

جگائے گا کون؟
آگ لگا کر تپش تو سہنا پڑتی ہے
تحریر: سی ایم رضوان
ایک آگ تو وہ ہے جو عام طور پر کھانا پکانے یا کسی جائز صنعتی مقصد کے لئے لگائی جاتی ہے جس کا فائدہ یا مثبت مقصد حاصل کر کے اس آگ کو بجھا دیا جاتا ہے کیونکہ اس پر آگ جلانے والے کا مکمل کنٹرول ہوتا ہے لیکن ایک آگ ایسی بھی ہے جو زبان سے لگائی جاتی ہے اور یہ آگ دوسرے یا مخالف سوچ رکھنے والے انسانوں کے دل و دماغ کو لگائی جاتی ہے جو اگر لگ جائے تو اس پر لگانے والے کا کنٹرول نہیں ہوتا پھر وہ حالات و واقعات اور اس انسان کے رحم و کرم پر ہوتی ہے جس کے سینے میں یہ جل رہی ہوتی ہے اگر اس انسان میں برداشت اور تحمل کا مادہ اگر مطلوبہ حد تک ہو تو ٹھیک ورنہ پھر وہ انسان یہ ارادہ کر لیتا ہے کہ جب تک میں اس آگ لگانے والے کو جلائوں گا نہیں میرے دل میں لگی آگ نہیں بجھے گی۔ پچھلی دو دہائیوں میں پاکستان میں مذہب اور سیاست کے میدان میں کچھ کردار ایسے ابھرے ہیں کہ جن کا کام ہی آگ لگانا اور اسے مسلسل بھڑکاتے رہنا ہے۔
متنازع اور آگ لگا دینے والے بیانات اور تقریریں جاری کرنے والے ان مذہبی کرداروں میں سے ایک انجینئر محمد علی مرزا ہیں جن کی باتوں اور بیان کردہ متنازع حقائق کو جان یا مان کر پاکستان کے لاکھوں لوگوں کے دلوں میں اتفاق یا اختلاف دونوں طرح کے جذبات اس شدت اور کرختگی کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں کہ شدت کی دو انتہائوں پر انسان مرنے مارنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔
انجینئر محمد علی مرزا ایک شہرت یافتہ یو ٹیوب مبلغ اور قابل توجہ عالم دین ہیں جنہیں کسی بھی مذہبی مکتبہ فکر کا کوئی بھی شخص دوسرے مکتبہ فکر یا حتیٰ کہ عالمی استعماری قوتوں کا ’’ ایجنٹ‘‘ قرار دینے میں ذرا بھی تامل سے کام نہیں لیتا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ پچھلے چند سالوں سے انجینئر محمد علی مرزا نے تاریخ اسلام میں صدیوں سے موجود بعض باعث نزع اعتقادی، فقہی اور نظریاتی تضادات کو بڑی بیدردی سے بیان کرنا شروع کر رکھا ہے جس سے شیعہ، سنی اور اہلحدیث سبھی فرقوں کے ماننے والوں کی جزوی دل آزاری مسلسل ہوتی رہتی ہے ساتھ ہی ساتھ وہ مولانا خادم حسین رضوی اور مولانا الیاس قادری جیسے لاکھوں عقیدت مندوں کے قائدین کے بیان کردہ بعض دینی مسائل کی اس بیدردی سے مخالفت کرتے ہیں کہ مخالف نظریات کے حامل مذہبی لوگوں کے دلوں میں یہ جذبہ شدت کے ساتھ پیدا ہو جاتا ہے کہ ہو نہ ہو میں اس مرزا کو فوری طور پر ’’ جہنم واصل‘‘ کر دوں۔ بظاہر ہلکے پھلکے انداز میں مسکراتے ہوئے شدید اعتقادی آگ لگا دینے والی بات کرنے والے انجینئر محمد علی مرزا اپنے انہی غیر روایتی اور متنازع نظریات کی بنا پر اکثر زیرِ بحث بھی رہتے ہیں۔ خاص طور پر وہ یہاں صدیوں سے لاکھوں لوگوں کے مرجع و مرشدین اولیاء کرام کے بارے میں یہ کہہ کر ان کے مذہبی جذبات کو کچل کے رکھ دیتے ہیں کہ ’’ بابے تے شے ای کوئی نئیں ‘‘ یعنی اولیاء تو کچھ بھی نہیں ۔ گو کہ ان کی اس رائے سے کسی کو اتفاق بھی ہو سکتا ہے لیکن یہ بات بھی اس ضمن میں انتہائی اہم ہے کہ جنوبی ایشیا کے کروڑوں لوگوں کی عقیدت ان اولیاء کرام سے وابستہ ہی۔ یوں جہاں جہلم سے تعلق رکھنے والے اس انجینئر محمد علی مرزا کے پرستار اور ہم خیال سوشل میڈیا پر موجود ہیں وہیں ان سے شدید مذہبی و اعتقادی اختلاف رکھنے والوں کی بھی کمی نہیں جو ہمہ وقت مرنے مارنے پر آمادہ رہتے ہیں۔ خاص طور پر مولانا خادم حسین رضوی کے لاکھوں فدائین تو اس ’’ کار ثواب‘‘ کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں جبکہ مرزا ایک دوسری انتہا پر براجمان رہ کر مختلف مذہبی پہلوں پر ایسی کاٹ دار گفتگو کرتے ہیں کہ الامان الحفیظ۔ اس دوران لوگوں کے سوالوں کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے اور ان کے جواب بھی آن ایئر ہوتے رہتے ہیں۔ گزشتہ روز یعنی اتوار کو بھی وہ ایسے ہی ایک تبلیغی درس کے بعد فوٹو سیشن کر رہے تھے کہ ان پر حملہ ہو گیا۔ جہلم کے تھانہ سٹی میں اس قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کرنے کے الزام میں خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے 26سالہ ملزم کے خلاف اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ اُن کی ’’ قرآن و سنت ریسرچ اکیڈمی‘‘ کے کور کمیٹی کے ایک رکن کی مدعیت میں درج کرایا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا کہ اتوار کے روز لیکچر کے اختتام پر فوٹو سیشن کے دوران ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انجینئر محمد علی مرزا پر حملہ کرتے ہوئے اُن کے عمامہ ( پگڑی) کو زمین پر پٹخ دیا اور اُن کے گلے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے دبوچ کر اُن کا سانس روکنے کی کوشش کی۔ ایف آئی آر کے مطابق اس موقع پر حملہ آور نے بلند آواز میں نعرے بازی کی اور مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے نعرے لگاءے۔ تاہم ٹی ایل پی نے اس معاملے پر تاحال کوئی ردعمل جاری نہیں کیا انہیں رد عمل دینے کی ضرورت بھی نہیں ہے کیونکہ ماشاء اللّٰہ سے انہوں نے لاکھوں لوگوں کی ذہن سازی اس نہیج پر کر دی ہے کہ وہ ایسے نزاعی معاملات پر فوری مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر موجود افراد نے ملزم کو پکڑا اور اکیڈمی کی ڈیوٹی پر معمور پولیس اہلکاروں کے حوالے کیا۔ یہ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 324( اقدام قتل) کے تحت درج ہوا ہے۔
انجینئر محمد علی مرزا پر مارچ 2021ء میں بھی چاقو سے حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں اُن کے بازو پر زخم آیا تھا تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔ اسی طرح 2017ء میں ہونے والے ایک قاتلانہ حملے میں بھی وہ محفوظ رہے تھے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال مرزا کو مبینہ توہین مذہب کے مقدمے میں بھی گرفتار کیا گیا تھا تاہم دسمبر 2025ء میں انہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ تازہ واقعہ کے متعلق انجینئر محمد علی مرزا کے وکیل محمد طاہر ایوبی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ جہلم میں محمد علی مرزا کی اکیڈمی میں ہر اتوار کو درس و تدریس اور سوال جواب کا سیشن ہوتا ہے جس میں ملک بھر سے بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہیں۔ اکیڈمی کی یہ پالیسی ہے کہ اگر کوئی شخص ایک بار اس سیشن میں شریک ہو تو وہ دوسری بار شامل نہیں ہو سکتا، اس پالیسی کا مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ سیشن میں شریک ہو سکیں۔ بہرحال قاتلانہ حملے کے واقعے کے بعد پولیس اور انتظامیہ نے اکیڈمی میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ چیک کیا جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم اتوار کی صبح نو بجے اکیڈمی میں داخل ہوا تھا اور یہ اکیلا ہی یہاں موجود رہا تھا۔ اتوار کے روز درس و تدریس کا سیشن صبح 10بجے شروع ہوا تھا جو کہ کسی وقفے کے بغیر قریبا ڈیڑھ بجے تک جاری رہا اور یہ شخص پورے سیشن میں موجود رہا، سیشن ختم ہونے کے بعد مرکزی ہال سے منسلک ایک کمرہ الگ سے مختص کیا گیا ہے جہاں دوسرے شہروں سے آنے والے لوگ محمد علی مرزا کے ساتھ تصاویر بنواتے ہیں۔ مذکورہ شخص بھی تصویر بنوانے کے لئے اُس کمرے میں آیا اور اس نے وہاں کمرے میں موجود انتظامیہ کے ایک شخص کو اپنا موبائل فون پکڑا کر کہا کہ میری انجینئر صاحب کے ساتھ تصویر بنا دو تاکہ یادگار رہے۔ جونہی ملزم مرزا کے قریب ہوا تو اُس نے اُن پر اچانک حملہ کر دیا اور دونوں ہاتھوں کی مدد سے اُن کا گلہ دبانے کی کوشش کی۔ اس سے پہلے اس نے نعرہ لگایا لبیک یا رسول اللہ۔
اس اچانک پیش آنے والے واقعے پر وہاں شور مچ گیا اور ہال کے اندر اور باہر موجود لوگ اس کمرے میں پہنچے جنہوں نے حملہ آور شخص کو قابو پا لیا اور اسے حوالہ پولیس کیا۔ اس واقعہ کے فوری بعد اکیڈمی کے تمام دروازے بند کر دیتے گئے تاکہ اگر حملہ آور کا کوئی ساتھی یہاں موجود ہے تو اس کو بھی پکڑا جا سکے، پولیس کی ٹیموں اور اکیڈمی کے سٹاف نے تمام لوگوں کی فرداً فرداً چیکنگ کی جس کے بعد دروازے کھول دیتے گئے اور لوگوں کو باہر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ مقامی پولیس کے مطابق ملزم کی جیب سے اس کا شناختی کارڈ بھی برآمد ہوا ہے جس کے مطابق اس کی عمر 26سال ہے، وہ خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد سے تعلق رکھتا ہے۔
اسلامی تاریخ اور شرعی احکام میں موجود فرقہ وارانہ اور عقیدہ جاتی اختلافات کو ہوا دے کر تینوں چاروں اطراف سے انتہا پسندی کو آگ دکھا کر مرزا جیسے عالم دین کا اس آگ کی تپش سے محفوظ رہنا بعید از قیاس ہے۔ ہمیں مرزا کے خیالات سے کوئی سروکار نہیں لیکن ان خیالات کی بنیاد پر پیدا ہو جانے والی اس نازک صورتحال پر حکومت وقت کو چاہئے کہ وہ مرزا کو حفاظتی تحویل میں رکھے اور ان کے یو ٹیوب پر اپ لوڈ کئے گئے متنازع ویڈیوز کو فوری ڈیلیٹ کروا دے تا کہ یہ آگ مزید نہ پھیلے۔ ورنہ ایسے واقعات کا تدارک ناممکن ہے۔

جواب دیں

Back to top button