Column

فریاد جو سنی نہیں جا رہی

فریاد جو سنی نہیں جا رہی
تحریر: رفیع صحرائی
آٹھ دن گزر چکے ہیں۔ پنجاب کے سرکاری ملازمین جن میں اساتذہ، کلرک، ٹیکنیکل اسٹاف اور دیگر محکموں سے وابستہ ہزاروں افراد اپنے جائز مطالبات کے لیے لاہور کی سڑکوں پر ہیں مگر ایوانِ اقتدار میں ان کی شنوائی نہیں ہو رہی۔ ”پنجاب کی ماں” ہونے کی دعویدار وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا دل اپنے ان بچوں کو سڑکوں کے کناروں پر سوتا دیکھ کر بھی نہیں پگھل رہا جس سے یہ تاثر گہرا ہو رہا ہے کہ ، ”ماں ہونے اور ماں ہونے کا دعویٰ کرنے میں بڑا فرق ہے”
ملازمین کا آٹھ دن سے جاری دھرنا کوئی وقتی ہجوم نہیں، نہ ہی سیاسی ایجنڈے کا شور؛ یہ اُن لوگوں کی اجتماعی فریاد ہے جو ریاستی مشینری کے بنیادی پرزے ہیں، مگر خود بنیادی سہولتوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے ان مطالبات پر سنجیدگی دکھانے کے بجائے روایتی حربہ اختیار کیا: ملازم تنظیموں کے درمیان اختلافات کو ہوا دینا، وقت گزارنا اور تھکن کے سہارے ’’ فتح‘‘ سمیٹنے کی کوشش کرنا۔ یہ وہی حکمتِ عملی ہے جو ماضی میں بھی اپنائی جاتی رہی مگر ہر بار ریاست اور ملازم کے اعتماد کو مزید کمزور کرتی رہی۔
اگر خالصتاً مطالبات کا جائزہ لیا جائے تو لیو ان کیشمنٹ، پنشن اصلاحات کے نام پر گریجویٹی و پنشن میں کٹوتی، اور ڈسپیریٹی الائونس جیسے مطالبات ناجائز نہیں۔ یہ مطالبات نہ تو غیر آئینی ہیں، نہ ہی غیر اخلاقی۔ یہ ملازمین کے وہ حقوق ہیں جو انہیں حاصل تھے اور موجودہ حکومت نے بیک جنبشِ قلم ان سے واپس لے لیے ہیں۔ ملازمین کسی نئے حق کی مانگ نہیں کر رہے۔ وہ صرف اپنے سلب کیے گئے حقوق اور مراعات کی واپسی اس حکومت سے چاہتے ہیں جس نے اپنے ایم پی ایز، مشیاران اور وزراء کی تنخواہوں اور مراعات میں کئی سو فیصد اضافہ کیا ہے۔
مہنگائی کے اس طوفان میں جب متوسط طبقہ دن بدن دب رہا ہے، تو تنخواہ دار طبقے سے مزید قربانی مانگنا دانشمندی نہیں ہے۔
یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ یہ ملازمین پُرامن ہیں۔ آٹھ دن سے کھلے آسمان تلے سڑکوں پر سو رہے ہیں۔ نہ تو توڑ پھوڑ، نہ ہنگامہ آرائی، صرف مطالبہ، دلیل اور استقامت۔ سوال یہ ہے کہ کیا فلاحی ریاست کے دعوے ایسے ہی نبھائے جاتے ہیں؟
رمضان شریف کا مقدس مہینہ سر آن پہنچا ہے۔ ایسے میں صبر، ہمدردی اور انصاف کی توقع بڑھ جاتی ہے مگر حکومت کی بے حسی نے ملازمین کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ احتجاج کو پورے پنجاب تک پھیلائیں۔ یہ فیصلہ کسی ضد کا نتیجہ نہیں بلکہ ناگزیر حالات کا شاخسانہ ہے۔
اسی تناظر میں اگیگا پاکستان کے پلیٹ فارم سے لاہور میں جاری دھرنے کے آئندہ لائحہ عمل کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت چیف کوآرڈینیٹر رحمان علی باجوہ نے کی۔ تمام شریک تنظیموں کے اتفاقِ رائے سے یہ طے پایا کہ دھرنا بدستور جاری رہے گا اور 17فروری بروز منگل پورے پنجاب میں تعلیمی اداروں میں صبح 10سے دوپہر 12بجے تک تعلیمی بائیکاٹ جبکہ سرکاری دفاتر میں قلم چھوڑ ہڑتال ہوگی۔
یہ اعلان دراصل ایک وارننگ نہیں بلکہ اس حکومت کے دروازے پر آخری دستک ہے، جو خود کو عوام دوست کہتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سرکاری ملزمین نے رحمان باجوہ کی ہدایات پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا صوبائی حکومت اس دستک کو سن پائے گی؟، یا پھر روایت کے مطابق اسے وقتی شور سمجھ کر نظرانداز کر دے گی؟۔
حقیقت یہ ہے کہ ریاست اور اس کے ملازمین آمنے سامنے ہوں تو نقصان صرف ملازم کا نہیں، پورے نظام کا ہوتا ہے۔ سکول بند ہوں گے، دفاتر ٹھپ ہوں گے، اور عوام، جن کے نام پر حکومت کی جاتی ہے، سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ اس لیے دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ حکومت طاقت کے بجائے مکالمہ، اور ضد کے بجائے ہمدردی کا راستہ اپنائے۔ یہ ملازمین فریاد لے کر آئے ہیں، بغاوت لے کر نہیں۔ ایک فلاحی حکومت کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ کمزور کی آواز سنے نہ کہ اسے تھکا کر خاموش کر دے۔ اگر آج یہ فریاد نہ سنی گئی تو کل اس کی گونج کہیں زیادہ بلند ہو گی اور پھر شاید سنبھالنا ممکن نہ رہے۔

جواب دیں

Back to top button