پاک، امارات تعلقات کا نیا باب

اداریہ۔۔۔۔
پاک، امارات تعلقات کا نیا باب
پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر کا یہ بیان کہ متحدہ عرب امارات کی سلامتی اور استحکام پاکستان کی سلامتی کا لازمی جزو ہے، محض سفارتی جملہ نہیں بلکہ خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی حقیقتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ابوظہبی میں شیخ طحنون بن زاید النہیان سے ملاقات کے دوران دئیے گئے اس پیغام نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کی اس گہرائی کو اجاگر کیا جو محض رسمی سفارت کاری سے کہیں آگے ہیں۔ عالمی اور علاقائی سیاست ایک ایسے دور میں داخل ہوچکی ہے جہاں سلامتی کا تصور صرف سرحدوں کے دفاع تک محدود نہیں رہا۔ اقتصادی استحکام، توانائی کی فراہمی، سرمایہ کاری، سمندری راستوں کا تحفظ اور انسدادِ دہشت گردی جیسے عوامل اب قومی سلامتی کے بنیادی ستون بن چکے ہیں۔ ایسے میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات جیسے قریبی شراکت دار ممالک کے درمیان ہم آہنگی محض مفاد نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت ہے۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کی بنیاد محض سفارتی روابط پر نہیں بلکہ عوامی سطح کے گہرے روابط پر بھی قائم ہے۔ لاکھوں پاکستانی امارات میں مقیم ہیں اور وہ دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط انسانی پُل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ترسیلاتِ زر کی صورت میں یہ تعلق پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ امارات کی قیادت نے مختلف ادوار میں پاکستان کی اقتصادی معاونت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں میں تعاون فراہم کیا۔ یہی پس منظر اس بیان کو معنویت دیتا ہے کہ امارات کا استحکام پاکستان کی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔ خلیج کا خطہ عالمی تجارت اور توانائی کا اہم مرکز ہے۔ یہاں کسی بھی قسم کا عدم استحکام نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی معیشت کو متاثر کر سکتا ہے۔ پاکستان، جو خود بھی توانائی کی ضروریات اور بیرونی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے، خلیجی استحکام کو اپنے مفاد سے جدا نہیں دیکھ سکتا۔ ملاقات میں معیشت، سرمایہ کاری اور سلامتی امور پر گفتگو اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ جدید ریاستوں کے لیے دفاع اور معیشت ایک دوسرے سے الگ نہیں۔ پاکستان اس وقت معاشی استحکام کی جستجو میں ہے۔ ایسے میں متحدہ عرب امارات جیسے شراکت دار کی سرمایہ کاری نہ صرف معیشت کو سہارا دے سکتی ہے بلکہ روزگار کے مواقع اور صنعتی ترقی کو بھی فروغ دے سکتی ہے۔ دوسری جانب، امارات کے لیے بھی ایک مستحکم پاکستان اہمیت رکھتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام، بحیرہ عرب کے سمندری راستوں کی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی دونوں ممالک کے مفادات کو یکجا کرتی ہے۔ اس تناظر میں دفاعی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ جیسے اقدامات خطے میں توازن برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا اس وقت پیچیدہ جغرافیائی سیاست سے گزر رہے ہیں۔ بڑی طاقتوں کی مسابقت، توانائی کی سیاست اور علاقائی تنازعات نے سلامتی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان قریبی رابطہ ایک اسٹرٹیجک ضرورت بن چکا ہے۔ مستقل مشاورت اور اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ دونوں ممالک مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہم آہنگ پالیسی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کو اگر تزویراتی شراکت داری قرار دیا جائے تو یہ مبالغہ نہیں ہوگا۔ دفاعی تربیت، مشترکہ مشقیں، اقتصادی معاہدے اور سفارتی ہم آہنگی اس شراکت داری کے مختلف پہلو ہیں۔ تاہم، وقت کا تقاضا ہے کہ اس تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دی جائے تاکہ یہ کسی ایک دور یا قیادت تک محدود نہ رہے بلکہ مستقل پالیسی کا حصہ بن جائے۔ مزید برآں، دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی، فوڈ سیکیورٹی اور انفرا سٹرکچر کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ اگر ان امکانات کو موثر منصوبہ بندی کے ساتھ بروئے کار لایا جائے تو یہ شراکت داری صرف سلامتی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ خطے میں ترقی اور استحکام کا نمونہ بن سکتی ہے۔ ریاستی سطح کے معاہدے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن پائیدار تعلقات کی اصل بنیاد عوامی روابط ہوتے ہیں۔ امارات میں مقیم پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور خیر سگالی کا ذریعہ ہے۔ اسی طرح تعلیمی اور ثقافتی تبادلے اس رشتے کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔ میڈیا اور علمی حلقوں کو بھی اس مثبت تعلق کو اجاگر کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیے، تاکہ عوامی سطح پر اعتماد میں اضافہ ہو۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کا بیان دراصل ایک وسیع تر وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک ایسا وژن جس میں قومی سلامتی کو علاقائی استحکام سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا موجود ہے، مگر اس اعتماد کو ٹھوس نتائج میں بدلنے کے لیے شفاف معاہدوں، موثر عمل درآمد اور باہمی احترام پر مبنی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ اگر یہ عناصر برقرار رہتے ہیں تو پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی شراکت داری نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے استحکام کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ فیلڈ مارشل کا بیان کہ متحدہ عرب امارات کی سلامتی پاکستان کی سلامتی کا لازمی جزو ہے، دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جدید دنیا میں ریاستیں تنہا نہیں رہ سکتیں۔ سلامتی، معیشت اور استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات اسی باہمی انحصار کی عملی مثال ہیں۔ اگر اس شراکت داری کو دانش مندی، شفافیت اور دور اندیشی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو یہ نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ پورے خطے کے امن اور ترقی کے لیے ایک مثبت مثال ثابت ہوسکتی ہے۔
شذرہ۔۔۔۔
پاکستانی پاسپورٹ میں بہتری
پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ میں حالیہ بہتری ملک کی سفارتی کامیابیوں اور بین الاقوامی تعلقات میں مثبت پیش رفت کی واضح عکاسی کرتی ہے۔ فروری 2026ء کے ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ اب دنیا کے 97ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے، جو گزشتہ سال کے 103ویں اور جنوری 2026ء کے 98ویں نمبر کے مقابلے میں واضح ترقی کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ 6 درجے کی بہتری ایک سال کے اندر حاصل کرنا ایک اہم سنگ میل ہے، جو پاکستانی شہریوں کے عالمی سفر کے امکانات کو بڑھانے کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ کی قدر میں اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ ملک کی سفارتی محاذ پر کی جانے والی کوششیں نتائج دے رہی ہیں۔ خاص طور پر گیمبیا کے ساتھ دوبارہ قائم ہونے والے سفارتی تعلقات اور ویزا معاہدے کے بعد، پاکستانی شہری اب دنیا کے 32ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول کے ذریعے داخل ہوسکتے ہیں۔ اس میں 11ممالک میں ویزا فری داخلہ شامل ہے، جیسے بارباڈوس، کوک آئی لینڈز، ڈومینیکا، ہیٹی، مائیکرونیشیا، مونٹسیراٹ، روانڈا، سینٹ ونسنٹ اینڈ گریناڈائنز، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو، وانواتو اور گیمبیا۔ مزید 18ممالک میں پاکستانی شہریوں کو ایئرپورٹ پہنچنے پر ویزا جاری کیا جاتا ہے، جن میں قطر، مالدیپ، نیپال، سیرا لیون اور دیگر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، کینیا، سیچلس اور سری لنکا کے لیے آن لائن ای ٹی اے (Electronic Travel Authorization) کی سہولت بھی موجود ہے، جو سفر کو مزید آسان بناتی ہے۔ یہ پیش رفت صرف پاکستانی شہریوں کے لیے آسانی نہیں بلکہ ملک کی بین الاقوامی تصویر کے لیے بھی اہم ہے۔ ایک مضبوط پاسپورٹ عالمی برادری میں اعتماد، سفارتی تعلقات کی گہرائی اور اقتصادی و سیاسی استحکام کی نشانی ہے۔ دنیا میں سب سے طاقتور پاسپورٹ سنگاپور کا ہے، جس سے 192ممالک تک رسائی ممکن ہے، اور جاپان، سویڈن، یو اے ای، فرانس، جرمنی، اٹلی اور اسپین جیسے ممالک کے پاس بھی پاکستانی پاسپورٹ سے زیادہ سفر کی سہولت حاصل ہے۔ لیکن پاکستانی پاسپورٹ کی حالیہ ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کی سفارتی محنت پاکستانی شہریوں کے لیے بین الاقوامی نقل و حرکت بڑھانے میں مثر ثابت ہو رہی ہے۔ یہ رینکنگ پاکستان کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام بھی ہے کہ اگر ملکی سطح پر مزید مضبوط سفارتی تعلقات قائم کیے جائیں، تو یہ درجہ بندی مستقبل میں اور بہتر ہو سکتی ہے۔ پاکستانی شہری اب نہ صرف دنیا کے مختلف ممالک کا ویزا آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں بلکہ یہ ملک کی بین الاقوامی ساکھ میں بھی اضافہ کرے گا۔ اس مثبت رجحان کو جاری رکھنے کے لیے پاکستان کو اپنی سفارتی حکمت عملی، معاشی تعلقات اور بین الاقوامی شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ آخرکار، یہ خوش آئند خبر نہ صرف پاکستانی شہریوں کی لیے آسان سفر کے امکانات پیدا کرتی ہے بلکہ یہ ایک عالمی شناخت بھی ہے، جو پاکستان کو مثبت انداز میں دنیا کے نقشے پر نمایاں کرتی ہے۔





