ColumnImtiaz Ahmad Shad

گھبرانا نہیں

گھبرانا نہیں

امتیاز احمد شاد

انسانی زندگی آزمائشوں، مشکلات اور نشیب و فراز کا مجموعہ ہے۔ کوئی بھی انسان ایسا نہیں جس کی زندگی میں کبھی پریشانی، دکھ یا رکاوٹ نہ آئی ہو۔ کبھی معاشی مسائل انسان کو گھیر لیتے ہیں، کبھی بیماری اسے کمزور کر دیتی ہے، کبھی تعلقات میں دراڑیں دل کو بے چین کر دیتی ہیں اور کبھی مستقبل کا خوف اسے گھبراہٹ میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ایسے مواقع پر انسان کا سب سے پہلا ردِعمل عموماً گھبراہٹ ہوتا ہے۔ دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، ذہن منفی خیالات سے بھر جاتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر راستہ بند ہو گیا ہو۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ گھبراہٹ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جب انسان پر کوئی مشکل آئے تو اسے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ صبر، حوصلہ اور حکمت سے کام لینا چاہیے۔

مشکلات دراصل زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ اگر زندگی میں آزمائشیں نہ ہوں تو نہ انسان کو اپنی صلاحیتوں کا اندازہ ہو اور نہ ہی اس کی شخصیت میں نکھار پیدا ہو۔ جب کوئی مشکل پیش آتی ہے تو وہ انسان کو سوچنے، سمجھنے اور خود کو بہتر بنانے کا موقع دیتی ہے۔ گھبراہٹ کی حالت میں انسان درست فیصلے نہیں کر پاتا کیونکہ اس کا ذہن منتشر ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ خود کو پرسکون رکھے تو وہ حالات کا بہتر تجزیہ کر سکتا ہے اور مناسب حل تلاش کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کامیاب لوگ مصیبت کے وقت صبر اور استقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور یہی صفت انہیں دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بڑے سے بڑے انسانوں نے شدید مشکلات کا سامنا کیا مگر گھبراہٹ کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا۔ مثال کے طور پر حضرت محمد ٔ کی زندگی آزمائشوں سے بھرپور تھی۔ آپ ٔ نے بچپن میں یتیمی دیکھی، جوانی میں معاشی تنگی کا سامنا کیا اور نبوت کے بعد شدید مخالفت اور ظلم برداشت کیا، مگر ہر موقع پر صبر، حوصلہ اور اللہ پر کامل یقین کا مظاہرہ کیا۔ اسی طرح حضرت ایوب علیہ السلام نے طویل بیماری اور آزمائش کے باوجود صبر کی مثال قائم کی۔ ان عظیم ہستیوں کی زندگیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ مشکلات وقتی ہوتی ہیں مگر صبر اور استقامت دائمی کامیابی کا ذریعہ بنتی ہیں۔

جب انسان گھبراتا ہے تو اس کی توانائی ضائع ہوتی ہے۔ وہ مسئلے کے حل کے بجائے مسئلے کے خوف میں مبتلا رہتا ہے۔ گھبراہٹ انسان کو مایوسی کی طرف لے جاتی ہے اور مایوسی انسان کی قوتِ ارادی کو کمزور کر دیتی ہے۔ اس کے برعکس اگر انسان مشکل وقت میں خود کو سنبھال لے، گہری سانس لے، حالات کو قبول کرے اور مرحلہ وار حل تلاش کرے تو وہ نہ صرف مسئلہ حل کر لیتا ہے بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط بن کر ابھرتا ہے۔ زندگی میں کامیابی کا راز بھی یہی ہے کہ انسان ناکامی یا مشکل کو اپنی شکست نہ سمجھے بلکہ اسے ایک سبق کے طور پر قبول کرے۔

آج کے دور میں ذہنی دبائو اور پریشانی عام ہو چکی ہے۔ تعلیمی مقابلہ بازی، معاشی غیر یقینی صورتحال اور سماجی توقعات نے نوجوان نسل کو خاص طور پر متاثر کیا ہے۔ امتحانات میں ناکامی، ملازمت نہ ملنا یا کاروبار میں نقصان اکثر نوجوانوں کو گھبراہٹ اور مایوسی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ایسے وقت میں ضروری ہے کہ وہ یہ سمجھیں کہ ایک ناکامی پوری زندگی کا فیصلہ نہیں ہوتی۔ دنیا کے کئی مشہور افراد نے بارہا ناکامیوں کا سامنا کیا مگر گھبراہٹ کے بجائے ثابت قدمی اختیار کی۔ مثال کے طور پرتھامس ایڈیسن نے بلب ایجاد کرنے سے پہلے ہزاروں تجربات کیے اور ناکام ہوئے، لیکن انہوں نے ہر ناکامی کو ایک نیا سبق سمجھا۔ اگر وہ گھبرا کر ہار مان لیتے تو شاید دنیا آج اس سہولت سے محروم ہوتی۔

اسی طرح نیلسن مینڈیلا نے ستائیس سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں مگر اپنے مقصد سے پیچھے نہ ہٹے۔ انہوں نے مشکلات کے باوجود حوصلہ اور امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ ان کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ صبر اور استقامت انسان کو تاریخ میں زندہ کر دیتی ہے۔ یہ تمام مثالیں ہمیں یہی سکھاتی ہیں کہ مشکل وقت میں گھبراہٹ کے بجائے حوصلہ اپنانا چاہیے۔

مشکل وقت میں انسان کو سب سے پہلے اپنے اندر ایمان اور یقین کو مضبوط کرنا چاہیے۔ اللہ پر بھروسا انسان کو اندرونی سکون عطا کرتا ہے۔ جب انسان یہ یقین رکھتا ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے تو اس کا دل مطمئن ہو جاتا ہے۔ دعا اور عبادت انسان کو ذہنی سکون فراہم کرتی ہیں اور اس کی پریشانی کم کرتی ہیں۔ اسی طرح مثبت سوچ بھی نہایت اہم ہے۔ اگر انسان ہر مسئلے میں صرف اندھیرا دیکھے گا تو اس کی ہمت ٹوٹ جائے گی، لیکن اگر وہ روشنی کی کرن تلاش کرے گا تو اسے ضرور کوئی راستہ مل جائے گا۔

گھبراہٹ سے بچنے کے لیے عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ سب سے پہلے مسئلے کی نوعیت کو سمجھنا چاہیے اور اسے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے حل تلاش کرنا چاہیے۔ قابلِ اعتماد لوگوں سے مشورہ کرنا بھی مفید ہوتا ہے کیونکہ بعض اوقات دوسروں کا تجربہ ہمارے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ وقت کا درست استعمال اور منصوبہ بندی بھی مشکلات کو کم کر دیتی ہے۔ اگر انسان منظم انداز میں قدم اٹھائے تو بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی عبور کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اوقات انسان اپنی غلطیوں کی وجہ سے مشکلات میں گھِر جاتا ہے۔ ایسے موقع پر گھبرانے کے بجائے اپنی غلطی تسلیم کرنی چاہیے اور اس کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ غلطی سے سیکھنا ہی اصل کامیابی ہے۔ جو لوگ اپنی ناکامیوں کا ذمہ دوسروں پر ڈال دیتے ہیں وہ آگے نہیں بڑھ پاتے، لیکن جو اپنی کوتاہیوں کو تسلیم کر کے خود کو بہتر بناتے ہیں وہی ترقی کرتے ہیں۔

مشکلات انسان کی شخصیت کو مضبوط بناتی ہیں۔ جب انسان بار بار آزمائشوں سے گزرتا ہے تو اس میں برداشت، ہمت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ یہی صفات اسے ایک پختہ اور بااعتماد شخصیت میں ڈھال دیتی ہیں۔ اگر زندگی میں کبھی کوئی مشکل نہ آئے تو انسان کمزور اور نازک مزاج رہ جائے۔ اس لیے ہمیں مشکلات کو دشمن نہیں بلکہ استاد سمجھنا چاہیے جو ہمیں کچھ نہ کچھ سکھانے آتی ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ گھبراہٹ ایک فطری کیفیت ہے، مگر اسے خود پر حاوی ہونے دینا کمزوری کی علامت ہے۔ سمجھداری اسی میں ہے کہ مشکل وقت میں اپنے حواس قائم رکھے جائیں، اللہ پر بھروسا کیا جائے، مثبت سوچ اپنائی جائے اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ ہر رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے اور ہر اندھیرے کے بعد روشنی نمودار ہوتی ہے۔ اگر انسان صبر اور حوصلے کے ساتھ مشکلات کا سامنا کرے تو وہ نہ صرف انہیں شکست دے سکتا ہے بلکہ اپنی زندگی کو ایک نئی سمت بھی دے سکتا ہے۔ لہٰذا جب بھی زندگی میں کوئی مشکل آئے تو گھبرانے کے بجائے ثابت قدمی اختیار کریں، کیونکہ یہی رویہ انسان کو کامیابی، سکون اور حقیقی اطمینان کی طرف لے جاتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button