ColumnQadir Khan

افغانستان اور بھارت کا مکھوٹا

افغانستان اور بھارت کا مکھوٹا

تحریر ، قادرخان یوسف زئی

بین الاقوامی سیاست کے خارزار میں جب ریاستیں اپنی بقا اور قومی مفادات کی جنگ لڑتی ہیں، تو اکثر اوقات سفارتکاری کے خوبصورت مکھوٹوں کے پیچھے سازشوں کے وہ بھیانک چہرے چھپے ہوتے ہیں جو خطے کے امن کو دائو پر لگا دیتے ہیں۔ افغانستان کی حالیہ تاریخ اور اس کے تناظر میں پاکستان کا موقف ایک ایسی ہی داستان ہے جہاں خیر سگالی کے لبادے میں چھپی دشمنی اور تزویراتی گہرائی کے نام پر رچائے گئے کھیل نے نہ صرف کابل بلکہ اسلام آباد کو بھی دہائیوں تک لہو لہان کیے رکھا۔ پاکستان، جس نے چالیس سال تک افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی اور اپنی معیشت و معاشرت کی قیمت پر پڑوسی کا ساتھ دیا، آج خود کو ایک ایسے چوراہے پر کھڑا پاتا ہے جہاں بین الاقوامی برادری کے دوہرے معیار اور کابل کے بدلتے تیور اس کی مخلصانہ کوششوں پر سوالیہ نشان کھڑے کر رہے ہیں۔افغانستان کا مسئلہ محض ایک سرحد کا تنازع نہیں بلکہ یہ عالمی طاقتوں کی رسہ کشی اور علاقائی حریفوں کی اس ‘پراکسی وار’ کا شاخسانہ ہے جس کا ایندھن ہمیشہ پاکستان بنتا رہا ہے۔ نائن الیون کے بعد جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان میں قدم رکھے، تو پاکستان کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا گیا جو اس کی اپنی نہیں تھی۔ ‘فرنٹ لائن سٹیٹ’ کا خطاب دے کر پاکستان سے وہ قربانیاں مانگی گئیں جن کا صلہ اسے دہشت گردی، خودکش دھماکوں اور تباہ حال معیشت کی صورت میں ملا۔ لیکن اس تمام عرصے میں سفارتکاری کا مکھوٹا پہنے بھارت جیسے علاقائی کھلاڑیوں نے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف ‘دوسرے محاذ’ کے طور پر استعمال کیا۔ این ڈی ایس (NDS) اور را(RAW) کا گٹھ جوڑ کابل کے ایوانوں میں بیٹھ کر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بدامنی کے بیج بوتا رہا، جبکہ دنیا کے سامنے یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ بھارت وہاں صرف سڑکیں اور پارلیمنٹ ہاس تعمیر کر رہا ہے۔پاکستان کا موقف ہمیشہ سے واضح اور دو ٹوک رہا ہے کہ افغانستان کا حل فوجی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔ اسلام آباد نے بارہا عالمی برادری کو خبردار کیا کہ طاقت کا استعمال مزید نفرت اور مزاحمت کو جنم دے گا، مگر اس وقت کے ’سفارتکار‘ اسے پاکستان کی دوغلی پالیسی قرار دیتے رہے۔ تاہم، وقت نے ثابت کیا کہ دوحہ مذاکرات اورافغان طالبان کی کابل واپسی کے لیے پاکستان نے جو سہولت کار کا کردار ادا کیا، وہ درحقیقت خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کی مخلصانہ کوشش تھی۔ پاکستان نے اپنی سرزمین کو افغان امن عمل کے لیے وقف کیا،افغان طالبان اور امریکہ کو میز پر لایا، اور ایک پرامن انتقالِ اقتدار کی راہ ہموار کی۔ یہ وہ چہرہ ہے جو پاکستان نے دنیا کو دکھایا، لیکن اس کے بدلے میں اسے کیا ملا؟ کابل میں حکومت بدلنے کے باوجود، کالعدم ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانے اور سرحد پار سے ہونے والے حملے آج بھی پاکستان کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہیں۔

افغانستان کے تناظر میں پاکستان کے حق میں سب سے مضبوط دلیل یہ ہے کہ کوئی بھی دوسرا ملک اپنے پڑوس میں اتنی بڑی انسانی تباہی کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ جب کابل میں اشرف غنی کی حکومت ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور غیر ملکی افواج تیزی سے نکلیں، تو پاکستان نے ایک بار پھر اپنی سرحدیں انسانی ہمدردی کے لیے کھول دیں۔ لیکن یہاں سازش کا وہ چہرہ نمودار ہوتا ہے جو پاکستان کو ‘قربانی کا بکرا’ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ مغربی ممالک اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دینا چاہتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کی تعمیرِ نو کے نام پر اربوں ڈالر کی امداد کرپشن اور غیر ملکی ایجنڈوں کی نذر ہو گئی۔ سازش کا ایک اور پہلو وہ’ڈیورنڈ لائن‘ کا نام نہاد تنازع ہے جسے افغان حکمران، خواہ وہ جمہوری ہوں یا عبوری، قوم پرستی کے نام پر ہوا دیتے رہے ہیں۔ پاکستان کا موقف ہے کہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحد کی باڑ لگانا اس کا قانونی حق ہے تاکہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکی جا سکے۔ لیکن بدقسمتی سے، کابل کے حکمران اس معاملے کو اپنی داخلی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان نے سی پیک کے ذریعے افغانستان کو وسطی ایشیا سے جوڑنے کا جو وعن پیش کیا، وہ خطے کی تقدیر بدلنے والا منصوبہ ہے، مگر سازشی قوتیں نہیں چاہتیں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان معاشی انحصار اتنا بڑھ جائے کہ سیاسی اختلافات کی اہمیت ختم ہو جائے۔

آج جب دنیا افغانستان کو فراموش کر چکی ہے، پاکستان اب بھی وہاں کے عوام کے لیے خوراک، ادویات اور سفارتی رسائی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ افغان عوام کو ان کی حال پر چھوڑنا ایک اور انسانی المیے کو جنم دے گا جس کے اثرات پوری دنیا تک پہنچیں گے۔ مگر سفارتکاری کے مکھوٹے پہنے کئی ممالک آج بھی افغان اثاثوں کو منجمد کیے بیٹھے ہیں، جس کا براہ راست اثر عام افغان شہری پر پڑ رہا ہے۔پاکستان کے خلاف حالیہ برسوں میں جو بیانیہ بنایا گیا، اس میں سب سے بڑا کردار ان ‘سازشی چہروں’ کا ہے جو نہیں چاہتے کہ خطے میں امن قائم ہو۔ بھارت نے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف اسٹریٹجک گہرائی کے طور پر استعمال کیا، دہشت گرد گروہوں کی مالی معاونت کی اور پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے ‘فیک نیوز’ کا سہارا لیا۔ کلبھوشن یادیو کا کیس اس سازش کا زندہ جاوید ثبوت ہے کہ کس طرح ایک پڑوسی ملک، دوسرے پڑوسی کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے تیسرے ملک میں تخریب کاری کرتا ہے۔ پاکستان نے ان تمام شواہد کو دنیا کے سامنے رکھا، مگر عالمی ضمیر کی خاموشی اس امرکی غمازی کرتی ہے کہ یہاں انصاف نہیں بلکہ مفادات کی حکمرانی ہے۔

افغانستان کی دلدل میں پاکستان نے جو قیمت چکائی ہے، وہ کسی بھی دوسرے ملک کے تصور سے باہر ہے۔ پچاسی ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ اور ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا معاشی نقصان محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک قوم کے خون اور پسینے کی داستان ہے۔ پاکستان کا حق ہے کہ ااس کی قربانیوں کا اعتراف کیا جائے۔ سازش کے چہرے چاہے کتنے ہی مکار کیوں نہ ہوں، سچائی یہ ہے کہ افغانستان کا امن پاکستان کے امن سے جڑا ہے، اور پاکستان نے ہمیشہ اس امن کے لیے مکھوٹوں کے بغیر، کھلے دل سے کام کیا ہے۔ اب وقت ہے کہ عالمی برادری اپنے مکھوٹے اتارے اور پاکستان کے جائز تحفظات کو تسلیم کرتے ہوئے افغانستان میں ایک پائیدار اور حقیقی امن کے لیے اس کا ساتھ دے۔

جواب دیں

Back to top button