ایک قیدی، ایک ریاست، اور انسانی وقار کا مقدمہ
ایک قیدی، ایک ریاست، اور انسانی وقار کا مقدمہ
تحریر : صفدر علی حیدری
انسانی تاریخ میں ریاست اور فرد کا تعلق ہمیشہ پیچیدہ رہا ہے ۔ ریاست نظم کی علامت ہے، اور فرد آزادی کی ۔ جب یہ دونوں ہم آہنگ ہوں تو معاشرہ ترقی کرتا ہے، مگر جب ان کے درمیان تصادم پیدا ہو جائے تو وہ لمحہ محض سیاسی نہیں رہتا بلکہ اخلاقی اور تاریخی بن جاتا ہے۔ عمران خان کی قید اور اس کے دوران ان کی صحت، خصوصاً بینائی کے نقصان کا معاملہ، اسی نوعیت کا ایک واقعہ ہے ، جو پاکستان میں قانون، سیاست اور انسانی حقوق کے درمیان موجود تنائو کو نمایاں کرتا ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک سابق وزیرِ اعظم کی قید کا نہیں، بلکہ یہ اس بنیادی سوال کا ہے کہ کیا ریاست اپنے زیرِ حراست فرد کے ساتھ انسانی وقار کے مطابق سلوک کر رہی ہے یا نہیں۔ کیوں کہ قید کا مطلب آزادی کا سلب ہونا ہے، صحت کا نہیں؛ سزا کا مطلب نقل و حرکت کی پابندی ہے، انسانی وقار کی نفی نہیں۔
دنیا کے ہر مہذب معاشرے میں یہ اصول تسلیم شدہ ہے کہ جب ریاست کسی فرد کو اپنی تحویل میں لیتی ہے تو وہ اس کی جان، صحت، اور بنیادی ضروریات کی مکمل ذمہ دار ہوتی ہے ۔ یہ ذمہ داری قانونی بھی ہے اور اخلاقی بھی۔ پاکستان کا آئین بھی انسانی وقار کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، اور عالمی انسانی حقوق کے منشور میں بھی واضح طور پر درج ہے کہ ہر قیدی کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
یہ اصول اس لیے اہم ہے کیوں کہ قیدی اپنی مرضی سے علاج نہیں کروا سکتا۔ وہ ریاست کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ اگر ریاست اس کی طبی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہو جائے، تو یہ محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ اخلاقی ناکامی بھی ہوتی ہے۔
عمران خان کے معاملے میں جب یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ ان کی آنکھ کی بینائی شدید متاثر ہو چکی ہے، اور تشخیص میں تاخیر ہوئی، تو یہ معاملہ ایک فرد کی بیماری سے بڑھ کر ریاستی ذمہ داری کا سوال بن گیا۔
بینائی انسان کی سب سے اہم حسی صلاحیتوں میں سے ایک ہے ۔ یہ نہ صرف جسمانی طور پر انسان کو دنیا سے جوڑتی ہے بلکہ نفسیاتی طور پر بھی اسے خود اعتمادی اور آزادی کا احساس دیتی ہے۔ جب ایک شخص اپنی بینائی کھونے لگتا ہے تو وہ صرف روشنی نہیں کھوتا، بلکہ وہ اپنی خود مختاری کا ایک حصہ بھی کھو دیتا ہے۔
عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی کا تقریباً 85فیصد متاثر ہونا ایک سنگین طبی مسئلہ ہے۔ طبی اصطلاح میں Central Retinal Vein Occlusion ایک ایسی حالت ہے جس میں ریٹینا کو خون کی فراہمی متاثر ہو جاتی ہے، اور اگر بروقت علاج نہ ہو تو نقصان مستقل ہو سکتا ہے۔
یہاں اصل سوال بیماری کا نہیں بلکہ ردعمل کا ہے۔ اگر ایک قیدی بار بار شکایت کرے اور اسے بروقت ماہر ڈاکٹر تک رسائی نہ دی جائے، تو یہ تاخیر محض ایک طبی معاملہ نہیں رہتی بلکہ ایک انتظامی اور اخلاقی سوال بن جاتی ہے۔قانونی فلسفے میں سزا اور اذیت کے درمیان واضح فرق کیا گیا ہے۔ سزا ایک قانونی عمل ہے، جس کا مقصد جرم کی اصلاح یا معاشرے کا تحفظ ہوتا ہے۔ مگر اذیت ایک غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے، جس کا مقصد محض تکلیف دینا ہوتا ہے۔
اگر کسی قیدی کو بنیادی طبی سہولیات فراہم نہ کی جائیں، تو یہ سزا نہیں بلکہ اضافی اذیت بن جاتی ہے۔ اور مہذب معاشروں میں اضافی اذیت کو قبول نہیں کیا جاتا۔
یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا ریاست کا مقصد صرف سزا دینا ہے، یا انصاف فراہم کرنا ہے؟ کیونکہ انصاف کا بنیادی اصول یہ ہے کہ سزا جرم کے مطابق ہو، نہ کہ اس سے زیادہ۔
عمران خان کے مقدمات کے حوالے سے دو متضاد بیانیے موجود ہیں۔ ریاست اور حکومت کا موقف ہے کہ یہ مقدمات قانونی عمل کا حصہ ہیں، جب کہ ان کے حامیوں اسے سیاسی انتقام کا نام دیتے ہیں ۔
حقیقت ان دونوں بیانیوں کے درمیان کہیں موجود ہو سکتی ہے، مگر انسانی حقوق کا اصول اس بحث سے بالاتر ہے۔ کیوں کہ چاہے کوئی شخص مجرم ہو یا بے گناہ، اس کے بنیادی انسانی حقوق برقرار رہتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں قیدیوں کے حقوق کو خاص اہمیت دی جاتی ہے، تاکہ ریاستی طاقت کا استعمال انسانی وقار کو مجروح نہ کرے۔
معاشروں میں بعض اوقات خاموشی بھی ایک پیغام بن جاتی ہے۔ جب ایک اہم شخصیت کے ساتھ کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آئے اور معاشرہ خاموش رہے، تو یہ خاموشی محض غیر جانبداری نہیں رہتی بلکہ ایک اجتماعی رویہ بن جاتی ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ کون کس کی حمایت کرتا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا انسانی ہمدردی بھی سیاسی وابستگی کی محتاج ہو گئی ہے؟
ایک معاشرے کی اخلاقی صحت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے کمزور یا زیرِ حراست افراد کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔
تاریخ کا ایک اصول ہے کہ وقتی طاقت ہمیشہ مستقل نہیں رہتی، مگر اخلاقی سچائی دیرپا ہوتی ہے۔ بہت سے افراد جو اپنے وقت میں طاقت ور تھے، تاریخ میں تنقید کا نشانہ بنے، جبکہ وہ افراد جو مظلوم تھے، تاریخ نے انہیں عزت دی۔یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ کون طاقتور ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون درست ہے۔ کیوں کہ طاقت وقتی ہو سکتی ہے، مگر سچائی مستقل ہوتی ہے۔
ریاست کی اصل طاقت اس کی فوج، معیشت، یا قوانین میں نہیں ہوتی، بلکہ اس کی اخلاقی ساکھ میں ہوتی ہے۔ جب ریاست اپنے مخالفین کے ساتھ بھی انصاف اور انسانی وقار کے مطابق سلوک کرے، تو اس کی اخلاقی طاقت بڑھ جاتی ہے۔
مگر جب انسانی حقوق کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگیں، تو ریاست کی اخلاقی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
یہ معاملہ عمران خان سے بڑھ کر پاکستان کے ریاستی نظام کی اخلاقی ساکھ کا معاملہ بن چکا ہے۔
ایک ادیب کا کام کسی سیاسی جماعت کی حمایت کرنا نہیں ہوتا، بلکہ سچ کی گواہی دینا ہوتا ہے۔ ادیب معاشرے کا ضمیر ہوتا ہے، اور اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسانی وقار اور انصاف کے اصولوں کا دفاع کرے۔
یہ دفاع کسی فرد کے لیے نہیں بلکہ اصول کے لیے ہوتا ہے۔
کیوں کہ جب اصول کمزور ہو جائیں، تو معاشرہ بھی کمزور ہو جاتا ہے۔
یہ معاملہ محض ایک فرد کی سزا کا نہیں، بلکہ ایک معاشرے کے ضمیر کا امتحان ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ تاریخ اس واقعے کو کس نظر سے دیکھے گی۔
کیا اسے قانون کی بالادستی کی مثال کہا جائے گا؟
یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مثال؟
یہ فیصلہ عدالتیں نہیں، تاریخ کرے گی۔
اور تاریخ ہمیشہ طاقت سے نہیں، سچ سے فیصلہ کرتی ہے۔
شاید اسی لیے شاعر نے کہا تھا:
مجھے کی گئی ہے یہ پیشکش کہ سزا میں ہوں گی رعایتیں
جو قصور میں نے کیا نہیں وہ قبول کر لوں دبائو میں
یہ شعر محض ایک فرد کی آواز نہیں، بلکہ ہر اس شخص کی آواز ہے جو طاقت کے سامنے جھکنے سے انکار کرتا ہے۔کیوں کہ جسم کو قید کیا جا سکتا ہے، مگر سچ کو نہیں۔
کپتان قید میں ہے۔
مگر یہ قید محض دیواروں اور سلاخوں کی قید نہیں، بلکہ یہ ایک عہد کی بے چینی کی قید ہے۔ یہ اس سچ کی قید ہے جسے سننے سے انکار کیا جا رہا ہے، اور اس آواز کی قید ہے جسے خاموش دیکھنے کی خواہش کی جا رہی ہے۔
انسانی تاریخ میں یہ کوئی نیا واقعہ نہیں۔ ہر دور میں کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں وقتی طور پر محدود کر دیا جاتا ہے، مگر وہ خاموش نہیں ہوتیں۔ ان کی خاموشی بھی بولتی ہے، اور ان کی تنہائی بھی ایک اجتماعی سوال بن جاتی ہے۔مجھے سچ میں وسیم اکرم، وقار یونس، عاقب جاوید اور معین خان جیسے لوگوں کی خاموشی پر دلی دکھ ہوا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسی کپتان کی قیادت میں عزت، وقار اور تاریخ حاصل کی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے وہ صرف ایک کپتان نہیں تھا، بلکہ ایک اعتماد، ایک یقین، اور ایک حوصلہ تھا۔
خاموشی کبھی کبھی الفاظ سے زیادہ بوجھل ہوتی ہے۔ ایک دعا، ایک جملہ، ایک انسانی ہمدردی کا اظہار، یہ سیاسی بیان نہیں ہوتا، یہ انسانی ہونے کا ثبوت ہوتا ہے۔
وقت ایک عجیب شے ہے۔
یہ کردار نہیں بدلتا، مگر کرداروں کی پہچان ضرور ظاہر کر دیتا ہے۔
کبھی یہ لوگ اپنے کپتان کے پیچھے کھڑے تھے، آج وقت ان کے سامنے کھڑا ہے، اور تاریخ خاموشی کو بھی یاد رکھتی ہے۔ ( مقام شکر ہے کہ ایک خان بول پڑا ہے ۔ وہ کپتان کے ساتھ کبھی کھیلا بھی نہیں ۔ یونس خان واقعی ایک بڑا انسان ہے) مگر شاید اصل سوال ان افراد کی خاموشی سے بھی بڑا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک انسان کو صرف اس لیے تنہا چھوڑ دیا جائے کہ وہ مشکل میں ہے؟ کیا وفاداری صرف طاقت کے زمانے کی چیز ہے؟ کیا احترام صرف اختیار کے دنوں تک محدود ہوتا ہے؟
یہ سوال صرف افراد کا نہیں، پورے معاشرے کا ہے۔
کپتان قید میں ہے، مشکل میں ہے، مگر حوصلوں میں ہے۔ کیونکہ حوصلہ جسم کی آزادی سے نہیں، ضمیر کی آزادی سے پیدا ہوتا ہے۔ اس نے کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں کیا۔ اس نے صرف یہ کہا ہے کہ اسے وہ سب کچھ دیا جائے جو ایک انسان کے زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ مطالبہ سیاسی نہیں، انسانی ہے۔ یہ کسی رعایت کا مطالبہ نہیں، بلکہ ایک بنیادی حق کا مطالبہ ہے۔
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں قید ایک جسمانی حالت سے بڑھ کر ایک علامت بن جاتی ہے۔ ایک ایسی علامت جو یہ یاد دلاتی ہے کہ طاقت جسم کو محدود کر سکتی ہے، مگر خیال کو نہیں؛ سلاخیں ہاتھوں کو روک سکتی ہیں، مگر سچ کو نہیں۔
اس کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک ہو رہا ہے، وہ دراصل اس جدوجہد کا حصہ ہے جو ہر اس شخص کو درپیش ہوتی ہے جو سر جھکانے سے انکار کرتا ہے۔ کیونکہ آزادی کی قیمت ہمیشہ آسان نہیں ہوتی، اور سچ کا راستہ ہمیشہ ہموار نہیں ہوتا۔
ایسے لمحوں میں قتیل شفائی کے الفاظ محض شعر نہیں رہتے، بلکہ حقیقت کا عکس بن جاتے ہیں:
ہو نہ ہو یہ کوئی سچ بولنے والا ہے قتیل
جس کے ہاتھوں میں قلم، پائوں میں زنجیریں ہیں
یہ زنجیریں وقتی ہو سکتی ہیں، مگر قلم کی طاقت وقتی نہیں ہوتی۔ کیونکہ قلم وقت کا گواہ ہوتا ہے، اور وقت کبھی جھوٹ کی گواہی نہیں دیتا۔
ریاستیں طاقت سے چلتی ہیں، مگر تاریخ سچ سے لکھی جاتی ہے۔ اور تاریخ کا قلم ہمیشہ اس سوال کو محفوظ رکھتا ہے کہ کون طاقتور تھا، اور کون درست تھا۔
شاید اسی لیے یہ مقدمہ کسی عدالت میں نہیں، بلکہ وقت کی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔
اور وقت کی عدالت میں نہ کوئی دبائو ہوتا ہے، نہ کوئی رعایت۔
وہاں صرف سچ ہوتا ہے۔
صفدر علی حیدری







