سولر انرجی
سولر انرجی
شہر خواب ۔۔۔۔
صفدر علی حیدری
ایک وقت تھا جب پاکستان توانائی کے بدترین بحران کی لپیٹ میں تھا۔ لوڈ شیڈنگ کا جن بے قابو ہو چکا تھا اور بجلی کی آنکھ مچولی نے زندگی مفلوج کر کے رکھ دی تھی۔ صنعتوں کا پہیہ جام ہونا تو ایک طرف، گھریلو صارفین کے لیے پنکھے کے نیچے سکون کی نیند سونا بھی ایک خواب بن گیا تھا۔ اس تاریک دور میں عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت راستے تلاش کیے۔ پہلے ’’ جنریٹر کلچر‘‘ آیا جس کے شور اور مہنگے ایندھن نے رہی سہی کسر نکال دی، پھر ’’ یو پی ایس‘‘(UPS) کا دور آیا جس نے کچھ استحکام تو بخشا لیکن یہ بھی صرف چند گھنٹوں کا عارضی انتظام تھا۔ ان تمام تجربات کے بعد جب سولر ٹیکنالوجی عام ہوئی اور پینلز کی قیمتوں میں کمی آئی، تو عوام کو ایک مستقل اور سستا متبادل نظر آیا۔ لوگوں نے اسے ایک نجات دہندہ سمجھ کر اپنایا، مگر افسوس کہ کچھ ہی عرصے بعد موجودہ ’’ نیٹ بلنگ‘‘ پالیسی نے اس امید پر پانی پھیر دیا۔ حکومت کے ان اقدامات سے اب یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست کو عوامی ریلیف سے کوئی سروکار نہیں، وہ صرف اپنا فائدہ چاہتی ہے عوام کا نہیں۔
اس پورے معاملے کا سب سے تکلیف دہ پہلو وہ تفاوت ہے جو حکومت نے بجلی کی خرید و فروخت میں رکھا ہے۔ قدیم زمانے کی ساہوکاری میں بھی شاید اتنی بے رحمی نہ ہو جتنی جدید دور کے اس ’ نیٹ بلنگ‘ نظام میں نظر آتی ہے۔ ایک طرف حکومت عوام کو گرڈ سے بجلی فراہم کرتے وقت 40سے 50روپے فی یونٹ وصول کرتی ہے، لیکن وہی حکومت جب اسی صارف سے اس کی پیدا کردہ اضافی بجلی خریدتی ہے تو اس کی قیمت محض 11روپے مقرر کرتی ہے۔یہ تضاد صرف معاشی نہیں بلکہ اخلاقی بھی ہے۔ ایک عام شہری نے لاکھوں روپے کی سرمایہ کاری کی تاکہ وہ ملکی پیداوار میں حصہ ڈال سکے۔ مگر بدلے میں اسے کیا ملا؟ اس کی محنت کی کمائی ہوئی بجلی کو کوڑیوں کے دام خریدا جا رہا ہے اور اسے اپنی ہی ضرورت کے لیے چار گنا مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی کسان اپنی گندم حکومت کو سستے داموں بیچنے پر مجبور ہو اور جب اسے آٹے کی ضرورت پڑے تو وہی حکومت اسے عالمی منڈی کے نرخوں پر آٹا فراہم کرے۔2015ء سے نافذ نیٹ میٹرنگ کا نظام ایک منصفانہ سودا تھا۔ 1:1کے تناسب سے یونٹس کی ایڈجسٹمنٹ نے صارفین کو یہ سہولت دی تھی کہ وہ دن کے وقت اپنی اضافی بجلی گرڈ کو دیں اور رات کے وقت وہی یونٹس واپس لے لیں۔ اس سے بجلی کا بل تقریباً صفر ہو جاتا تھا اور سولر سسٹم پر آنے والی لاگت چار سے پانچ سال میں پوری ہو جاتی تھی۔
تاہم، فروری 2026ء کی نئی پالیسی نے اس پورے ڈھانچے کو زمین بوس کر دیا۔ نیٹ بلنگ کے تحت اب یونٹس کا تبادلہ نہیں ہوگا بلکہ نقد حساب کتاب ہوگا۔ اس کا براہِ راست نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جہاں ایک صارف کا بل پہلے صفر آتا تھا، اب اسی صارف کو 400یونٹ بیچنے اور 500یونٹ خریدنے پر تقریباً 18000روپے کا بل ادا کرنا پڑے گا۔ حکومت کا یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ وہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے اپنی نااہلیوں اور آئی پی پیز (IPPs)کے بھاری بھرکم کیپیسٹی چارجز کا بوجھ سولر صارفین پر منتقل کرنا چاہتی ہے۔
ریگولیٹری رکاوٹیں اور حد بندیاں
نئی پالیسی صرف قیمتوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں ایسی تکنیکی رکاوٹیں بھی ڈال دی گئی ہیں کہ نیا صارف سولر لگانے سے پہلے سو بار سوچے۔ اب کوئی بھی صارف اپنے منظور شدہ لوڈ (Sanctioned Load)سے زیادہ کا سسٹم نہیں لگا سکتا۔ منطقی طور پر حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی ترغیب دے تاکہ قومی گرڈ پر دبا کم ہو، لیکن یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ مقصد صرف یہ نظر آتا ہے کہ لوگ مجبور ہو کر گرڈ کی مہنگی بجلی خریدتے رہیں تاکہ سرکاری خزانے بھرتے رہیں۔
جب ریاست اپنے شہریوں کو دیوار سے لگا دیتی ہے، تو شہری متبادل راستے تلاش کرتے ہیں۔ ماہرینِ توانائی کا کہنا ہے کہ نیٹ بلنگ کے اس ظالمانہ نظام کے بعد اب عوام ’’ بیٹری اسٹوریج‘‘ اور ’’ آف گرڈ سسٹمز‘‘ کی طرف جائیں گے۔ لوگ اب اپنی اضافی بجلی حکومت کو 11روپے میں بیچنے کے بجائے اسے بیٹریوں میں محفوظ کریں گے تاکہ رات کو وہی بجلی استعمال کر سکیں۔
اگر یہ رجحان بڑھا تو وہ وقت دور نہیں جب کھاتے پیتے اور متوسط طبقے کے صارفین قومی گرڈ سے اپنا ناطہ بالکل توڑ لیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ گرڈ پر صرف وہ لوگ رہ جائیں گے جو سولر لگانے کی استطاعت نہیں رکھتے، اور یوں حکومت کا یہ خواب کہ وہ گرڈ کی کھپت بڑھا کر نان سولر صارفین پر بوجھ کم کرے گی، چکنا چور ہو جائے گا۔حکومت کا موقف ہے کہ نیٹ بلنگ کا مقصد قومی اوسط کے مطابق نرخ مقرر کرنا اور گرڈ کے استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت نے کبھی اپنی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs)کی نااہلی، بجلی چوری اور لائن لاسز پر قابو پانے کی سنجیدہ کوشش کی؟ جب سسٹم میں خرابی ہو تو اس کا ملبہ ان لوگوں پر ڈالنا جو قانون کے مطابق ٹیکس دے کر اور سرمایہ کاری کر کے اپنا بندوبست کر رہے ہیں، سراسر ناانصافی ہے۔ مہنگی بجلی کی وجہ سے صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور عام آدمی کی قوتِ خرید ختم ہو چکی ہے۔
موجودہ صورتحال میں سولر صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے پرانے معاہدوں کی قانونی حیثیت کی جانچ کریں۔ جن صارفین کے معاہدے ابھی باقی ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں کیوں کہ معاہدے کی مدت کے دوران شرائط میں ایسی بڑی تبدیلی قانونی طور پر چیلنج کی جا سکتی ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ پاکستان میں سولر انرجی کا مستقبل اب حکومت کی پالیسیوں کے بجائے عوامی خود انحصاری سے وابستہ ہے۔ حکومت نے نیٹ میٹرنگ کو ختم کر کے شاید عارضی طور پر چند ارب روپے کما لیے ہوں، لیکن اس نے عوام کا ریاست پر اعتماد ختم کر دیا ہے۔ جب لینے کے نرخ کچھ اور ہوں اور دینے کے کچھ اور، تو اسے تجارت نہیں بلکہ استحصال کہا جاتا ہے۔
یہ بات خوب وائرل ہوئی ہے کہ حکومت کی بجلی دیسی گھی سے بنتی ہے اور عوام کی ڈالڈا سے ، سو ریٹ کا فرق تو بنتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ’’ شہرِ خواب‘‘ کی یہ تعبیر بہت بھیانک ہوگی، جہاں روشنی تو ہوگی مگر وہ عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور ہو چکی ہو گی۔
عوام کو اتنا تو پتہ ہے کہ آئی پی پیز چونکہ اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے حکومت کو انہیں سیکڑوں ارب روپے بغیر بجلی پیدا کیے بھی ادا کرنے میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی، مگر یہی حکومت عام شہری کے ساتھ بالکل مختلف معیار اپناتی ہے۔ اگر کوئی عام آدمی اپنے سولر سسٹم سے چند یونٹ بجلی پیدا کر لے تو اسے وہی ریٹ دینے پر حکومت تیار نہیں ہوتی۔ یہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور، دکھانے کے اور والی مثال ہے، جہاں طاقتور کے لیے قانون نرم اور کمزور کے لیے سخت ہے۔ یہ سراسر ناانصافی اور ظلم پر مبنی نظام ہے، جس کے خلاف آواز اٹھانا اب ہماری اجتماعی ذمہ داری بن چکا ہے، کیوں کہ خاموشی بھی ایسے ظلم کی تائید کے مترادف ہوتی ہے
قتیل شفائی یاد آئے
دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا





