اجازت کے بغیر شادی، عدالت کی گھنٹی

اجازت کے بغیر شادی، عدالت کی گھنٹی
تحریر: رفیع صحرائی
پاکستانی معاشرے میں شادی محض ایک نجی معاملہ نہیں بلکہ ایک سماجی، اخلاقی اور قانونی بندھن ہے۔ ہمارے ہاں اسے وقتی یا مدتی سنجوگ نہیں بلکہ زندگی بھر کا ساتھ سمجھا جاتا ہے۔ ہم اسلامی معاشرے میں رہتے ہیں جہاں شادی کو مقدس بندھن کی حیثیت حاصل ہے۔ ہمارے دین نے بھی جہاں زوجین کے فرائض متعین کیے ہیں وہیں پر ان کے حقوق کا تعین بھی کر دیا ہے۔ جب کوئی شخص اس بندھن کو اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق موڑنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں رہتے۔ اس کا اثر ایک سے زائد خاندانوں اور کئی زندگیوں پر پڑتا ہے۔ حالیہ دنوں میں دیا جانے والا لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ اسی حقیقت کی یاددہانی ہے۔
عدالت عالیہ نے واضح کر دیا ہے کہ اگر شوہر پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرتا ہے تو وہ محض ایک اخلاقی لغزش نہیں، بلکہ ایک قانونی ذمہ داری بھی اوڑھ لیتا ہے۔ فیصلے کے مطابق شوہر پہلی بیوی کو فوری طور پر حقِ مہر ادا کرنے، طلاق موثر ہونے تک ماہانہ خرچ دینے اور جہیز کی مالیت کے مطابق رقم ادا کرنے کا پابند ہوگا۔ یہ فیصلہ محض اعداد و شمار یا رقوم کا اعلان نہیں، بلکہ عورت کے معاشی تحفظ اور عزتِ نفس کی ضمانت ہے۔ ہمارے ہاں اکثر ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ شوہر دوسری شادی کرنے کے بعد اپنے بیوی بچوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیتا ہے۔ وہ خود دوسری بیوی کے ناز اٹھاتا اور اس کی ضروریات پوری کرنے میں مگن ہو جاتا ہے جبکہ پہلی بیوی محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتی ہے۔ محنت، مشقت اور محرومیاں اس کا مقدر بن جاتی ہیں۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ واقعی اس نکتے کو سمجھنے کے لیے تیار ہے کہ شادی دو افراد کے درمیان اعتماد کا معاہدہ ہوتی ہے؟ بدقسمتی سے ہمارے ہاں دوسری شادی کو اکثر ’’ مرد کا حق‘‘ کہہ کر جواز دیا جاتا ہے مگر اسی حق کے ساتھ جڑی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ قانون نے برسوں پہلے یہ طے کر دیا تھا کہ پہلی بیوی کی اجازت اور متعلقہ کونسل کی منظوری کے بغیر دوسری شادی نہ صرف غلط بلکہ قابلِ سزا عمل ہے مگر سماجی روایات نے قانون کو کاغذ تک محدود کر دیا۔ یہاں تو چِٹے ان پڑھ اور جاہل بھی یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ مرد کو چار شادیوں کا حق ہے لیکن اس حق سے جڑی شرائط اور ذمہ داریوں کا انہیں پتا ہی نہیں ہوتا
لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ عورت کو محض ہمدردی نہیں، عملی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ حقِ مہر کی فوری ادائیگی اور ماہانہ خرچ کا حکم دراصل اس سوچ کی نفی ہے کہ عورت کو مشکل وقت میں تنہا چھوڑ دیا جائے۔ یہ فیصلہ مردوں کو بھی یہ پیغام دیتا ہے کہ آزادی کے نام پر کیے گئے فیصلوں کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔
اصل امتحان اب یہ ہے کہ کیا اس فیصلے کے بعد سماج اپنی سوچ بدلے گا؟ کیا نکاح نامہ محض رسمی کاغذ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ معاہدہ سمجھا جائے گا؟ اور کیا مرد حضرات یہ تسلیم کریں گے کہ شادی کے فیصلے میں یکطرفہ طاقت نہیں بلکہ باہمی رضا مندی بنیادی اصول ہے؟
شادی کے بعد جب میاں بیوی میں اختلاف پیدا ہوتا ہے اور دونوں کا اکٹھے رہنا ناممکن ہو جاتا ہے تو اکثر جہیز کی واپسی پر جھگڑا ہو جاتا ہے۔ مرد کی طرف سے پورا جہیز کم ہی واپس کیا جاتا ہے۔ اکثر چیزوں کی واپسی سے یہ کہہ کر انکار کر دیا جاتا ہے کہ جہیز میں یہ چیزیں دی ہی نہیں گئیں۔ اگر نکاح نامے کی پشت پر جہیز کے سامان کی تفصیل لکھنا لازمی کر دیا جائے تو سالوں تک لٹکنے والے جہیز واپسی کے کیسز اور گواہان کے نخروں و خرچے سے لڑکی والوں کو نجات مل جائے گی۔ اس طرح کرنے سے پہلی پیشی پر ہی کیس کا فیصلہ بھی ہو جایا کرے گا۔
عدالت نے دوسری شادی کی صورت میں پہلی بیوی کے حقوق طے کر کے اپنا کام کر دیا، اب باری سماج کی ہے۔ اگر ہم نے اس فیصلے کو محض ایک خبر سمجھ کر بھلا دیا تو یہ ناانصافی ہوگی۔ لیکن اگر اسے ایک مثال بنا کر قانون اور اخلاق دونوں کو مان لیا گیا تو شاید آنے والے وقت میں بہت سی عورتیں مالی اور ذہنی اذیت سے بچ سکیں۔ یہی کسی بھی عدالتی فیصلے کی اصل کامیابی ہوتی ہے۔




