CM RizwanColumn

علاج ہو گا، ڈیل یا ریلیف نہیں

جگائے گا کون؟
علاج ہو گا، ڈیل یا ریلیف نہیں
تحریر: سی ایم رضوان
بانی پی ٹی آئی کو اگر پچھلے چھ سالوں سے پاکستان کو درپیش مصیبت نمبر ون قرار دیا جائے تو بیجا نہ ہو گا۔ یہاں تک کہ آج بھی جبکہ عام پاکستانی اس امر پر نوحہ کناں ہے کہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی حکومت نے بجائے کوئی اضافی ریلیف دینے کے عوام پر مزید مہنگائی مسلط کرنے کا خصوصی بندوبست اور پکا پکا انتظام کرتے ہوئے عام بجلی صارفین پر مجموعی طور پر 132ارب روپے کا اضافی بوجھ لاد دیا ہے مگر ملک کے وزیر اعظم سے لے کر ایک تھانے کے ایس ایچ او تک پوری حکومتی مشینری اور تمام تر اپوزیشن کی ترجیح اڈیالہ جیل کا وہ قیدی ہے جس کو نہ تو اب حکومت میں آنا ہے اور نہ ہی اس نے اب عوام کے لئے کوئی سیاست کرنی ہے بلکہ وہ اپنے اقتدار کے لئے سارے پاپڑ بیلنے کے باوجود ناکام و نامراد ہو رہا ہے۔ لوگوں کو اس سزا یافتہ قیدی کی فضول اور انتشاری پروگرام میں الجھا چھوڑ کر وفاقی حکومت نے ملک بھر کے بجلی صارفین پر 132ارب روپے اضافی ٹیکس کا بجلی بم گرا دیا ہے۔ نیپرا نے پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ دونوں قسم کے گھریلو صارفین پر اتنا بڑا اضافی ٹیکس لگاتے ہوئے یہ بھی نہیں سوچا کہ اگر پہلے سے مہنگائی کی چکی میں پستے ہوئے عام شہری سڑکوں پر آ گئے تو حکمرانوں کا کیا ہو گا۔ شاید اسے یقین ہے کہ پاکستانی عوام میں یہ ہمت نہیں کہ وہ کسی حکومتی ظلم کے خلاف سڑکوں پر آ جائیں۔
بہرحال پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ بجلی کے نظام کے بڑے حصے پر فکسڈ لاگت آتی ہے جبکہ موجودہ نظام میں وصولی زیادہ تر یونٹس کے استعمال پر مبنی ہے۔ اسی طرح شمسی توانائی کے بڑھتے استعمال اور صارفین کے بدلتے رویے کے باعث یہ ضروری ہو گیا تھا کہ فکسڈ اور متغیر چارجز میں توازن پیدا کیا جائے تاکہ نظام مالی طور پر پائیدار رہ سکے۔ بیدردی اور سنگ دلی کی انتہا تو یہ ہے کہ حکومت نے صرف اپنا حساب کتاب اور عیش و عشرت جاری رکھنے کے لئے عوام کی گردنوں پر ایک چھری اور چلا دی ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے ہی حکمران آئی پی پیز کو سالانہ 2 ہزار ارب دے رہے ہیں جبکہ یہ مفت تعلیم کے لئے 500ارب روپے بھی نہیں دے سکتے۔
عوام کے خون پسینے کی کمائی سے اربوں روپے کے ضیاع کی ایک اور خبر یہ ہے کہ آج وزارت خزانہ نے نفع و نقصان میں چلنے والے حکومتی ملکیتی اداروں کی فہرست جاری کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق حکومتی کمپنیوں نے مالی سال 25۔2024ء میں سرکاری خزانے کو 833ارب روپے کا نقصان پہنچایا ہے جبکہ اس سے پچھلے مالی سال میں 851ارب کا مجموعی نقصان ہوا تھا۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال کے دوران این ایچ اے کو 295ارب اور کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کو 112ارب 70کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ پیسکو کو 92ارب 70کروڑ روپے، ریلویز کو 60ارب، نیشنل پاور پارکس کمپنی 46ارب اور نیلم جہلم پاور کمپنی کو 29ارب 40کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان اسٹیل مل کو 26 ارب، سیپکو 25 ارب 31 کروڑ، پاکستان پوسٹ کو 19 ارب 30 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ پاسکو کو 19 ارب، حیسکو کو 13 ارب، لیسکو کو 12 ارب 70 کروڑ، جنکو ٹو کو 10 ارب، نیشنل انشورنس کارپوریشن کو 3 ارب اور سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کو 2 ارب روپے کے نقصانات ہوئے ہیں۔ دوسری طرف پورٹ قاسم کو 35 ارب، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی کو 170 ارب روپے کا منافع جبکہ پاکستان پٹرولیم کو 90 ارب، واپڈا کو 56 ارب 70 کروڑ، گورنمنٹ ہولڈنگ کو 48 ارب، کراچی پورٹ ٹرسٹ کو 35 ارب 50 کروڑ روپے منافع ہوا لیکن یہ منافع نقصان سے بہت کم ہے۔
افسوس صد افسوس کہ پاکستانی عوام پر ان مظالم سے صرفِ نظر کرتے ہوئے سارے حکمران اور اپوزیشن سمیت تمام اے کلاس کے تجزیہ کار اور انسانی و شہری حقوق کے نام نہاد پرچارک اڈیالہ جیل میں قید ایک جالندھری پٹھان کی مبینہ 85 فیصد بینائی کو لے کر بننے والے بیانیے پر اپنی ساری توانائیاں اور ذہانتیں صرف کر رہے ہیں۔ یہ سارا شور گزشتہ روز ایک فرینڈ آف سپریم کورٹ کی عدالت میں پیش کردہ اس رپورٹ کے پبلک ہونے کی وجہ سے برپا ہوا ہے ورنہ تو اس قیدی کو ملک بھر کے قیدیوں سے زیادہ سہولیات ملی ہوئی ہیں۔ مشقتی اور خدمت گار بھی میسر ہیں ٹی وی اور اخبار بھی ملتے ہیں اور اپنی بیوی بشریٰ بی بی سے بھی ملنے کی اجازت ہے۔ رہی بات آنکھوں کی بیماری کی تو وہ کسی بھی قیدی یا آزاد بندے کو 72سال کی عمر میں لاحق ہو سکتی ہے اور اس کا علاج بھی جاری ہے اور ہونا بھی چاہئے۔ اس معاملے پر قومی اسمبلی کی پارلیمنٹ بلڈنگ کے اندر اور پشاور میں صوبائی اسمبلی کی بلڈنگ کے اندر چند ممبران اسمبلی کے دو عدد چھوٹے چھوٹے دھرنوں کے علاوہ کوئی بڑا عوامی احتجاج بھی نہیں ہو سکا اور نہ ہی اس معاملے کو عوامی توجہ مل سکی ہے۔ اس معاملے کو لے کر ٹویٹر پر چھوڑے گئے اس شوشہ پر اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ جب یہ قیدی وزیر اعظم تھا تو اپنے سیاسی مخالفین کو کیا کیا اذیتیں اس نے نہیں دی تھیں اور اس پوری جماعت نے کون سی اخلاقی قدروں کو پامال نہ کیا تھا کہ اب عدالتوں کی طرف سے مجرم قرار دیئے گئی اس قیدی کے لئے قومی وقت، سرمایہ اور توانائی خرچ کی جائے۔ یقیناً اس ایک قیدی کے مسائل پورے ملک کے لاکھوں عام قیدیوں سے زیادہ اہم نہیں ہو سکتے اور نہ ہی اس حوالے سے پورے نظام کو مفلوج کیا جا سکتا ہے کیونکہ ملک بھر کی جیلوں میں عام قیدیوں کے ساتھ آج بھی نو آبادیاتی دور جیسا غیر انسانی سلوک، تضحیک و توہین، مار پیٹ، لوٹ مار اور انسانی حقوق کی ہر طرح کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ پورے ملک کے جیل خانوں کے قیدیوں کے ساتھ جانوروں سے بدتر اس سلوک کے عوض ہر سپرنٹنڈنٹ جیل کو ہزاروں بد دعائوں کے ساتھ ساتھ لاکھوں روپے ماہانہ رشوت وصول ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ کے سپرنٹینڈنٹ کو جیل کے اندر سے ماہانہ 55لاکھ روپے آمدن ہوتی ہے جبکہ اس کی کمائی کے باقی کھاتے علیحدہ سے ہیں۔ وہ اوپر کیا دیتا ہو گا اور اس کے نیچے کیا ہوتا ہو گا یہ وزیر جیل خانہ جات پنجاب مریم نواز کو معلوم کر لینا چاہیے اور نہ صرف پنجاب بلکہ ملک کے دوسرے صوبوں کی حکومتوں کو بھی اس معاملے پر فوری توجہ دینی چاہئے کہ ایک جیلر جو کہ ہمارے مروجہ نظام میں جیل کا خدا تصور ہوتا ہے وہ ملک کے اندر قائم اپنی اس بادشاہت میں انسانوں کو کس قدر ذلیل کر رہا ہے اور چند سالوں میں خود کروڑ پتی ہونے کے عوض سسٹم کو کیسی افرادی قوت مہیا کر رہا ہے۔ اس نازک معاملہ پر وفاقی حکومت کو بھی فوری توجہ دینی چاہئے اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی دیکھنا چاہیے کہ عام قیدیوں کو کیسے جرائم کی دلدل میں پھنسا دیا جاتا ہے۔ راہداری پر آئے اور سزا یافتہ قیدیوں کو کس طرح دونوں ہاتھوں سے لوٹا جاتا ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے یہ امر بھی بالخصوص مدنظر رکھا جائے کہ قیدیوں کے معاملے میں پاکستان اقوام متحدہ کے معیار کی توثیق کر چکا ہے جس کے مطابق اس ملک کے جیل نظام میں قید کی زندگی اور آزادی کے ساتھ زندگی میں فرق کو کم سے کم کیا جانا چاہئے اور کسی جرم میں کسی کو سزا دینے کا مقصد جرم کرنے والے کی اصلاح ہونا چاہئے لیکن بدقسمتی سے ہمارے نظام میں کسی عام پاکستانی کو جیل بھیجنے کا مقصد اسے عذاب میں ڈالنا سمجھ لیا گیا ہے۔ عام قیدیوں کو بات بات پر گالی گلوچ، مار پیٹ اور منظور شدہ سہولتوں سے محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عام قیدیوں کو کھانا اس طرح کا دیا جاتا ہے کہ جو وہ کھا نہیں سکتے اور اگر اس کے وارثان ملاقات میں اسے کچھ دے جائیں تو وہ اس تک پہنچتا ہی نہیں۔ جس سے قیدی کی اصلاح سے زیادہ اس میں دوران قید مزید بڑے جرائم کے نئے وائرس کی پیدائش و پرورش ہوتی رہتی ہے چنانچہ وہ عموماً جیل سے باہر آ کر پہلے سے زیادہ خطرناک جرائم کا مرتکب ہوتا ہے۔ موجودہ حکمرانوں کی آنکھیں کھول دینے کیلئے یہ امر ہی کافی ہونا چاہیے کہ جرم تب تک کم نہیں ہوں گے جب تک جیلیں اصلاح کے مراکز نہیں بنیں گی۔
قیدی نمبر 804سے متعلق بینائی بیانیہ بننے کے بعد پی ٹی آئی قیادت ایک بار پھر خوش فہمی کا شکار ہو گئی ہے اور خواب دیکھ رہی ہے کہ جس طرح سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کی کمی کو جواز بنوا کر اسے جیل سے سیدھا لندن بھیج دیا تھا شاید اب ہماری گالیوں سے گھبرا کر موجودہ حکومت یا سیٹ اپ نے بانی کو بھی ریلیف دینے کا پروگرام بنا لیا ہے جس کے تحت سپریم کورٹ کی جانب سے فرینڈ آف کورٹ کی تقرری اور اڈیالہ یاترا کروائی گئی ہے اور پھر یہ کہ ہمدردی کارڈ کے حصول کے لئے پیش کردہ رپورٹ پبلک بھی کر دی ہے۔ اسی خواب کی بنا پر تازہ پیش رفت ان کی جانب سے یہ سامنے آئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ بلغاری سیٹ کیس میں ضمانت کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کر دی گئی ہے۔ فرینڈ آف کورٹ جھٹ سے فرینڈ آف خان بن کر بیرسٹر سلمان صفدر نے اور خالد یوسف چودھری ایڈووکیٹ نے اپنے توسط سے دائر کی گئی درخواست میں استدعا کی ہے کہ اپیل پر حتمی فیصلے تک بانی پی ٹی آئی کی سزا معطل کر کے قیدی کو رہا کیا جائے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ قیدی نمبر 804کی دائیں آنکھ میں خون کا لوتھڑا بننے کی وجہ سے بینائی صرف 15فیصد رہ گئی ہے اور جیل میں اس کا علاج ممکن نہیں، جیسا کہ پمز ہسپتال کے ڈاکٹر محمد عارف کی رپورٹ میں بھی ذکر ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ قیدی کی عمر 73سال ہے اور مسلسل قید صحت کے لئے سنگین خطرہ ہے، اسپیشل جج سینٹرل ون اسلام آباد نے 20دسمبر 2025ء کو انہیں غیر قانونی طور پر سزا سنائی، جس میں دفعہ 409پی پی سی کے تحت 10سال قید اور 1کروڑ 64لاکھ 25ہزار 650روپے جرمانہ اور کرپشن کی روک تھام کے قانون کی دفعہ 5(2)کے تحت 7سال قید شامل ہے۔ یہ بھی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایک ہی الزام میں دو مختلف قوانین کے تحت سزائیں دینا قانون کی خلاف ورزی اور ڈبل جیپرڈی کے زمرے میں آتا ہے اور بانی پی ٹی آئی پبلک سرونٹ نہیں ہیں، اس لئے دفعہ 409 کا اطلاق غلط ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ توشہ خانہ پالیسی کے تحت تحائف کی قیمت کا 50فیصد ادا کر کے وہ قانونی طور پر اپنے پاس رکھے گئے تھے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ سیاسی مخالفین کے ایما پر ایف آئی اے اور نیب جیسے اداروں کو سیاسی انتقام کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ وعدہ معاف گواہ صہیب عباسی اور گواہ انعام اللہ شاہ کے بیانات میں تضادات پائے گئے ہیں۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں 190ملین پائونڈ کیس کی سزا معطلی کیلئے بھی درخواست کر دی گئی جبکہ کیس جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے کی متفرق درخواست بھی دائر کی گئی ہے۔
بینائی بیانیہ اور حکومتی رویہ میں تھوڑی لچک کی بناء پر عجلت میں دی گئی اس درخواست پر فیصلہ جو بھی آئے یہ عدالت کی صوابدید ہے مگر سردست لگتا یہ ہے کہ اتنی جلدی اور اس قدر بے اعتبارے قیدی سے ڈیل یا خلاف قانون ریلیف والا کوئی معاملہ نہیں ہو گا البتہ علاج بالکل درست اور تمام تر طبی تقاضوں کے مطابق ہو گا۔

جواب دیں

Back to top button