فوج مخالف بیانیوں سے ہر ذی شعور اور محب وطن پاکستانی فکر مند ہے

فوج مخالف بیانیوں سے ہر ذی شعور اور محب وطن پاکستانی فکر مند ہے
شہادت راجہ
شاہد رشید
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی کا کہنا ہے کہ رافیل طیارے بنانے والی کمپنی نے بھی پاکستان کی جانب سے بھارتی رافیل طیارے گرانے کی تصدیق کر دی ہے۔ بلا شبہ پاک فوج نے یہ ثابت کیا ہے کہ ہم کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے سکتے ہیں۔ ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’’ رافیل کمپنی نے پاکستان کی طرف سے بھارتی رافیل طیارے گرائے جانے کی معلومات کی توثیق کی ہے‘‘۔ متعلقہ کمپنی کی یہ تصدیق و توثیق جو اندرابی صاحب بتلا رہے ہیں بجا ہے لیکن اس سے قبل بہت سے بین الاقوامی ادارے متعدد بار اور عالمی میڈیا بھی بار بار اس حقیقت کو تسلیم کر چکا ہے، کاش ہم اہل پاکستان کی حب الوطنی اور پاکستانیت کا بھی یہ چلن اور لیول ہو کے ہم ایسے حقائق و سچائیوں کو تسلیم کر کی ایک دوسرے کے سنگ سنگ چلیں۔ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا فوج کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ بیان دینا ، اپنی قومی و وفاقی فورس کو چار اضلاح کی فوج قرار دینا اور اوپر سے یہ کہنا کہ اپنے بیان پر قائم ہوں ، یہ انتہائی افسوسناک بات ہے ۔ موصوف اپنے افکار و اوصاف کا نہ سہی کم از کم اپنے منصب کا ہی کچھ لحاظ کر لیتے ۔ اس طرح اداروں پر حملے کرنا کسی طور پہ بھی بجا اور درست نہیں ہو سکتا ۔ ایسے خیالات بیانیوں کو سن کر نہ صرف ہر فوجی بھائی کا بلکہ ہر ذی شعور اور محب وطن پاکستانی کا دل دکھتا ہوگا۔ ان کے اس موقف کی تائید یقیناً تحریک انصاف بھی نہیں کرے گی جس کے ووٹ سپورٹ سے محمود خان اچکزئی جی اپوزیشن لیڈر بن بیٹھے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کے زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے ، مشکل حالات و خطرات کو بھانپتے ہوئے اور عصری تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ہر ادارہ اور ہر سیاستدان فیڈریشن و اتحاد کا ہی بیانیہ بولے اور وفاق کی مضبوطی کی بات کرے ۔ گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز نے بلوچستان کا دورہ کیا اور کہا کہ ’’ ہم بلوچستان کے ساتھ ہیں، دہشت گردی کا خاتمہ قومی یکجہتی سے ہی ممکن ہوگا، پنجاب کے وسائل حاضر ہیں، اس صوبے کی عوام اور حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں، آپریشن میں ہر ممکن تعاون کریں گے‘‘۔ CMپنجاب نے سیکیورٹی فورسز کے لیے 10ارب روپے معاونت کا اعلان کیا تو وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ یہ معاونت مثبت اور قابل تحسین اقدام ہے۔ اس پر مریم نواز نے کہا کہ ’’ فنڈز مہیا کرنا کوئی احسان یا فیور نہیں بلکہ بلوچستان کا حق ہے، ایف سی کے جوان ملک و قوم کے لیے لڑتے ہیں، ان کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے‘‘۔ انہوں نے نہایت ہی عمدہ بات یہ کی کہ ہمیں تقسیم کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے ، میرے خیال میں ہر مسلم اور ہر پاکستانی کی یہی سوچ ہونی چاہیے ، ایسے ہی پھول کھلیں گے تو خوشبو ہوگی اور یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی ۔ محترمہ مریم نواز کے ایسے نظریات اور اس عمل میں صوبائیت اور علاقائی و لسانی تعصب کی نفی ہے ، اس کے علاوہ یہ وفاقیت و حب الوطنی اور خلوص و ہمدردی کی ایک عمدہ مثال ہے، اس پہ سب صوبوں اور سب جماعتوں کو ضرور سوچنا چاہیے، ملک و قوم کو درپیش تمام تر چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کا متحد ہونا ضروری ہے۔ چہار سو مسائل و مشکلات ہیں ، انتہائی مشکل ترین حالات ہیں ۔ دو سال میں بجلی کے ترسیلی نقصانات 600ارب روپے سے تجاوز کر جانے کا انکشاف ہوا ہے، دسمبر 2025ء تک ملک بھر میں نیٹ میٹرنگ کی استعداد 7ہزار میگا واٹ تک پہنچ گئی، 2ہزار 223 فیڈرز پر 10گھنٹے سے زائد لوڈ شیڈنگ کا اعتراف یہ حکومت خود کر رہی ہے ۔ تازہ ترین شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق حکومتی قرض 80کھرب روپے سے تجاوز کر گیا، سود کی ادائیگیاں 8اعشاریہ 9کھرب تک پہنچ گئیں ، 2025ء کے اختتام تک اندرونی قرض 54.6ارب روپے جبکہ بیرونی قرض 26.0کھرب روپے رہا۔ مہنگائی غربت اور بیروزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، اشیائے ضروریہ تک کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ایک عام انسان کی تو زندگی ہی اجیرن ہو گئی ، غریب عوام پریشان حال اور فکرمند ہیں کہ ہمارا مستقبل کیا ہوگا۔ اگر یہ سیاستدان آپس میں اسی طرح سینگ پھنسائے کھڑے رہے تو ملک و قوم کا کیا ہوگا۔ ان لڑائیوں کا کوئی فائدہ نہیں نقصان ہی نقصان ہے ۔ اس کمر توڑ مہنگائی سے بچنے اور اقتصادی بحران سے نکلنی کے لیے تمام سیاسی جماعتیں ، ادارے اور حکومت و اپوزیشن آپس میں تعاون بڑھائیں اور افہام و تفہیم سے چلیں تاکہ ملک و قوم کی ترقی و کامرانی ممکن ہو ۔ اور اس میں پہل کرنا ہمیشہ حکومت ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ سیاست حاضرہ کے ضمن میں مسلم لیگ نون کے معزز و معتبر رہنما خواجہ سعد رفیق نے انتہائی عمدہ اور صد فی صد درست باتیں کی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ عمران خان کے دور حکومت میں سیاسی مخالفین سے بدسلوکی کے واقعات دہرانا اعلیٰ ظرف نہیں، عمران خان کے اہل خانہ سے ان کی ملاقات کرائی جائے، ان کی مرضی کے مطابق ڈاکٹرز کو ان تک رسائی دی جائے اور ان کے بہترین علاج کے لیے تمام ممکن اقدامات کیے جائیں‘‘۔
کیا حکومت کو اپنے مسلم لیگی بھائی کی بات پر توجہ دے گی۔۔۔؟





