ColumnImtiaz Ahmad Shad

عوامی رائے کا احترام

عوامی رائے کا احترام

امتیاز احمد شاد

کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی میں رائے عامہ بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ جن ممالک میں جمہوری طرز حکمرانی ہے وہاں یقینی طور پر جمہور کی منشا کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ بنگلہ دیش کے حالیہ عام انتخابات نے ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا ہے، کیونکہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک اقتدار سے دور رہنے والی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے غیر معمولی اکثریت کے ساتھ واپسی کرتے ہوئے سیاسی منظرنامے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے، اور اس کامیابی نے نہ صرف داخلی سیاست بلکہ علاقائی توازنِ قوت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرنے کی بنیاد رکھ دی ہے۔ اس انتخابی نتیجے نے واضح کر دیا ہے کہ بنگلہ دیشی عوام سیاسی جمود سے نکل کر ایک نئی قیادت اور نئے طرزِ حکمرانی کو آزمانا چاہتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب گزشتہ برسوں میں جمہوری عمل، حزبِ اختلاف کی سرگرمیوں اور انتخابی شفافیت کے حوالے سے بحث جاری رہی۔ اس کامیابی کو اس تناظر میں دیکھنا ضروری ہے کہ 2000ہزار کی دہائی کے بعد یہ جماعت بتدریج اقتدار سے دور ہوتی گئی تھی جبکہ اس کی مرکزی قیادت کو قانونی اور سیاسی دبائو کا سامنا بھی رہا، تاہم اس بار عوام نے بھرپور اکثریت دے کر نہ صرف جماعت کو بحال کیا بلکہ اس کے سیاسی موقف کو بھی تقویت بخشی ہے۔

جماعت کے قائد طارق رحمان جو طویل عرصہ بیرونِ ملک مقیم رہے اور جن پر مختلف نوعیت کے مقدمات قائم ہوئے، اب ایک ایسے مرحلے پر کھڑے ہیں جہاں انہیں انتخابی کامیابی کو موثر حکمرانی میں بدلنا ہوگا، کیونکہ واضح اکثریت بلاشبہ قانون سازی میں آسانی پیدا کرتی ہے مگر اس کے ساتھ عوامی توقعات میں بھی نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس نتیجے کو سابق حکمران جماعت عوامی لیگ کے لیے ایک بڑے سیاسی جھٹکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ طویل عرصے تک ریاستی نظم و نسق سنبھالنے کے بعد اقتدار سے محرومی نہ صرف جماعتی تنظیم بلکہ اس کے سیاسی بیانیے کے لیے بھی ایک آزمائش ہے؛ تاہم جمہوری نظام کا حسن یہی ہے کہ اقتدار کی منتقلی عوامی رائے کے مطابق ہو اور سیاسی قوتیں پارلیمانی دائرے میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں۔ اس تبدیلی سے ملکی سیاست میں طاقت کا توازن بدل جائے گا اور ایوان میں قانون سازی کا عمل نسبتاً تیز ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر حکومت اپنی عددی برتری کو عوامی فلاح، شفاف احتساب اور معاشی اصلاحات کے لیے استعمال کرے۔

بنگلہ دیش کی معیشت گزشتہ برسوں میں برآمدات، ترسیلاتِ زر اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی بدولت خطے میں ایک نمایاں مثال کے طور پر پیش کی جاتی رہی ہے، مگر مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر اور عالمی منڈی کی غیر یقینی صورتِ حال جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں، لہٰذا نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا امتحان یہی ہوگا کہ وہ سیاسی استحکام کو معاشی استحکام میں کیسے ڈھالتی ہے۔ واضح اکثریت رکھنے والی حکومتیں عمومی طور پر پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہیں، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ حزبِ اختلاف کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے کے بجائے باہمی گفت و شنید کی فضا قائم رکھیں تاکہ سیاسی تقسیم مزید گہری نہ ہو۔

اس انتخابی نتیجے کے علاقائی اثرات بھی نہایت اہم ہیں، کیونکہ جنوبی ایشیا پہلے ہی تزویراتی مسابقت، معاشی شراکت داریوں اور سفارتی صف بندیوں کا مرکز بنا ہوا ہے؛ بنگلہ دیش کی نئی قیادت کو بھارت، چین، امریکہ اور مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات میں توازن پیدا کرنا ہوگا تاکہ ملک کی ترقی کی رفتار برقرار رہ سکے۔ ماضی میں اس جماعت کو نسبتاً مختلف خارجہ ترجیحات سے جوڑا جاتا رہا ہے، اس لیے یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا نئی حکومت علاقائی روابط میں کسی بڑی تبدیلی کی طرف جاتی ہے یا عملی ضرورتوں کے تحت پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھتی ہے۔ خاص طور پر پاکستان کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا تاریخی تنا کے باوجود تجارت، ثقافتی تبادلے اور سفارتی روابط میں بہتری کی کوئی نئی راہ نکل سکتی ہے؛ اگرچہ 1971ء کے واقعات دونوں ممالک کی تاریخ کا حساس باب ہیں، مگر بدلتے ہوئے معاشی تقاضے اور علاقائی تعاون کی ضرورت مستقبل میں زیادہ عملی سوچ کو جنم دے سکتی ہے۔ نئی قیادت کے لیے داخلی سطح پر سب سے بڑا چیلنج سیاسی مفاہمت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی ہوگا، کیونکہ مضبوط جمہوریت محض انتخابی کامیابی سے نہیں بلکہ اداروں کے درمیان توازن اور آئینی عملداری سے قائم ہوتی ہے۔ عوام نے جس بھاری اکثریت کے ذریعے تبدیلی کی خواہش ظاہر کی ہے، وہ دراصل بہتر طرزِ حکمرانی، شفافیت اور معاشی مواقع کی امید کا اظہار ہے۔ اگر یہ توقعات پوری نہ ہو سکیں تو یہی اکثریت آئندہ انتخابات میں سوال بھی بن سکتی ہے۔ اس پس منظر میں نئی حکومت کو فوری نوعیت کے اقدامات، مثلاً سرمایہ کاری کے فروغ، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور سماجی بہبود کے منصوبوں کو وسعت دینا ہوگی تاکہ انتخابی وعدے عملی صورت اختیار کریں۔

اس کے ساتھ ذرائع ابلاغ کی آزادی، عدالتی خودمختاری اور شہری حقوق کا تحفظ بھی وہ عناصر ہیں جو عالمی سطح پر کسی بھی حکومت کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں، لہٰذا قیادت کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ جمہوری اقدار کے احترام کا عملی مظاہرہ کرے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ انتخابی نتیجہ بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک اہم موڑ کی علامت ہے، جہاں ایک جماعت کی طویل غیر موجودگی کے بعد واپسی نے ثابت کیا ہے کہ عوامی رائے ہی اصل طاقت ہے اور اقتدار کا سرچشمہ عوام کا اعتماد ہوتا ہے؛ اگر نئی حکومت اس اعتماد کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہے تو نہ صرف داخلی استحکام کو فروغ ملے گا بلکہ علاقائی سطح پر بھی بنگلہ دیش ایک فعال اور متوازن کردار ادا کر سکے گا، یوں یہ انتخاب محض حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ سیاسی سمت کی ازسرِ نو تعیین کے طور پر تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button