Column

پنکھا تبدیلی پروگرام ۔ امید کی کرن یا ایک اور آزمائش؟

پنکھا تبدیلی پروگرام ۔ امید کی کرن یا ایک اور آزمائش؟

تحریر: رفیع صحرائی

پاکستان میں توانائی کا بحران محض بجلی کی کمی کا نام نہیں بلکہ پالیسیوں کے اتار چڑھائو، بڑھتے ہوئے بلوں اور عوامی بے یقینی کا دوسرا نام بن چکا ہے۔ ایسے میں وزیرِ اعظم کی جانب سے متعارف کرایا گیا "پنکھا تبدیلی پروگرام” بظاہر ایک مثبت قدم دکھائی دیتا ہے کہ پرانے، زیادہ بجلی کھانے والے پنکھوں کی جگہ جدید، کم واٹ والے پنکھے لگائے جائیں تاکہ بجلی کی کھپت بھی کم ہو اور صارفین کے بلوں میں بھی کمی آئے۔ بلاشبہ اگر ایک عام گھر میں پانچ پنکھے لگے ہوں اور ہر پنکھا روایتی طور پر 120واٹ خرچ کرتا ہو جبکہ نیا پنکھا 50واٹ پر چلتا ہو تو اس سے ماہانہ بنیاد پر نمایاں بچت ممکن ہے۔ قومی سطح پر اگر لاکھوں پنکھے تبدیل ہوں تو ہزاروں میگاواٹ بجلی کی بچت بھی بعید از قیاس نہیں۔ ماحولیاتی لحاظ سے بھی یہ قدم کاربن کے اخراج میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عوام محض اعلانات پر یقین کر لیں؟ کیونکہ بدقسمتی سے ماضی قریب اور زمانہ حال میں اٹھائے گئے بعض اقدامات نے حکمرانوں کی نیک نیتی پر سوال اٹھا دیئے ہیں۔

حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل نے عوام کو محتاط بلکہ بدگمان بنا دیا ہے۔ کل تک نیٹ میٹرنگ کے فوائد کے سنہرے خواب دکھائے گئے، لوگوں کو قائل کیا گیا کہ سولرسسٹم ان کے لیے نہ صرف بجلی کے بلوں سے نجات کا ذریعہ ثابت ہو گا بلکہ وہ اپنی ضرورت سے زائد بجلی قومی گرڈ کو فروخت کر کے مستقل آمدنی بھی حاصل کر سکیں گے۔ لوگوں نے اربوں روپے خرچ کر کے سولر سسٹمز لگائے مگر پھر اچانک پالیسی میں تبدیلی کر دی گئی۔ نتیجہ یہ کہ صارفین مضطرب اور بے چین ہو گئے۔ پالیسی کی تبدیلی کا اتنا شدید ردعمل سامنے آیا کہ وزیراعظم کو مداخلت کر کے صارفین کو وقتی طور پر مطمئن کرنا پڑا۔ ویسے حکومتوں کو یہ بڑا فائدہ ہوتا ہے۔ اگر عوام کی گردن مروڑنے کے کسی منصوبے پر شدید ردعمل نہ آئے تو خزانہ بھرنے کا انتظام ہو جاتا ہے۔ اگر ردعمل شدید ہو تو وزیراعظم نوٹس لے لیتے ہیں۔ گویا وزیراعظم کو کسی بات کا پتا ہی نہیں تھا اور متعلقہ وزارت نے انہیں اندھیرے میں رکھ کر پالیسی بنائی تھی۔ اگر واقعی ایسا ہوتا ہے تو پھر گڈ گورننس کے دعوے غلط ثابت ہو جاتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے پالیسیوں میں عدم تسلسل نے عوام کو شکوک و شبہات کا شکار کر دیا ہے۔ موجودہ حکومت کی طرف سے ہی سرکاری ملازمین کے لیے مراعاتی پیکیجز اور سہولتیں راتوں رات تبدیل کر دی گئیں جس سے ہزاروں خاندان معاشی دبائو کا شکار ہوئے۔ جب ماضی میں پالیسیوں کا یہی حال رہا ہو تو آج اگر پنکھا تبدیلی کا سبز باغ دکھایا جا رہا ہے تو عوام کا سوال کرنا فطری ہے کہ کہیں یہ بھی وقتی نعرہ تو نہیں؟ کیونکہ ایک طرف توانائی بچت کی بات ہو رہی ہے، دوسری طرف امیر و غریب تمام صارفین پر فکسڈ چارجز عائد کر دئیے گئے ہیں۔ پہلے ہی بجلی کے بلوں میں ایک درجن کے قریب مختلف ٹیکس شامل ہیں۔ اب نئے چارجز کے ذریعے ہر ماہ اربوں روپے صارفین کی جیبوں سے نکلوانے کا بندوبست کیا گیا ہے۔ ایسے میں یہ یقین کرنا کہ حکومت نے صرف صارفین کے مفاد میں یہ فیصلہ کیا ہے بڑا مشکل نظر آ رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر حکومت کہتی ہے کہ پنکھا تبدیلی سے بل کم ہوں گے تو عوام کے ذہن میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا بچت واقعی صارف تک پہنچے گی یا کسی اور مد میں ایڈجسٹ ہو جائے گی؟ جیسا کہ عالمی سطح پر جب تیل کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو حکومت اس کا فائدہ صارفین کو دینے کی بجائے لیوی کی شرح بڑھا دیتی ہے۔

ایک اور خدشہ یہ بھی گردش کر رہا ہے کہ کہیں یہ منصوبہ محض چند صنعت کاروں کو نوازنے کا ذریعہ تو نہیں بن جائے گا۔ اگر پنکھوں کی خریداری مخصوص کمپنیوں تک محدود رہی، شفافیت نہ ہوئی یا معیار پر سمجھوتہ کیا گیا تو یہ پروگرام عوامی اعتماد کھو بیٹھے گا۔ اس لیے حکومت کو واضح کرنا ہو گا کہ:

پنکھوں کی فراہمی شفاف ٹینڈرنگ کے ذریعے ہو گی۔

معیار کی باقاعدہ جانچ اور وارنٹی کا نظام موجود ہو گا۔

قسطوں کی شرائط عام آدمی کے لیے واقعی آسان ہوں گی۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ مستقبل میں پالیسی اچانک تبدیل نہیں کی جائے گی۔

پنکھا تبدیلی پروگرام اپنی روح کے اعتبار سے ایک مثبت اور دور اندیش قدم ہو سکتا ہے۔ مگر پاکستان میں اصل بحران بجلی کا نہیں، اعتماد کا ہے۔ عوام اب نعروں سے نہیں، عملی استحکام اور پالیسی کے تسلسل سے مطمئن ہوں گے۔ حکومت اگر واقعی توانائی بچت اور عوامی ریلیف چاہتی ہے تو اسے اپنی نیت کا خلوص صرف بیانات سے نہیں بلکہ شفاف عمل، پالیسی کے تسلسل اور ٹیکسوں کے بوجھ میں حقیقی کمی سے ثابت کرنا ہو گا۔ ورنہ خدشہ یہی رہے گا کہ کہیں یہ بھی ماضی کی طرح ایک اور تجربہ نہ ثابت ہو، جس کی قیمت آخرکار عام آدمی کو ہی ادا کرنی پڑے۔

جواب دیں

Back to top button