Column

ترقی کی جانب بڑھتے قدم

ترقی کی جانب بڑھتے قدم

حکومت نے حالیہ دنوں میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کئی اہم اقدامات کیے ہیں جن سے نہ صرف ملک کی معیشت مستحکم ہورہی ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی عالمی شراکت داری مضبوط ہورہی ہے۔ پاکستان اور امریکا نے دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مزید فروغ دینے اور کان کنی، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک کو داخلی سلامتی اور معاشی ترقی دونوں میں توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے اور حکومت نے اس میدان میں شاندار قیادت کا مظاہرہ کیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری اور جنوبی و وسطی ایشیائی امور کے لیے امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری جان مارک پومرائے کے درمیان ہونے والی ملاقات نے دونوں ممالک کے تعلقات میں اعتماد اور شراکت داری کو مزید مستحکم کیا۔ اس موقع پر امریکی سفیر نتالی بیکر کی موجودگی نے بھی اس بات کی نشان دہی کی کہ امریکا پاکستان کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔اجلاس کے دوران اسلام آباد اور کوئٹہ میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور متاثرین سے تعزیت کا اظہار کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک داخلی سلامتی کے چیلنجز کے خلاف مشترکہ اقدامات کے لیے پُرعزم ہیں۔ حکومت کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف تعاون اور داخلی سلامتی کے شعبے میں بہتری کے اقدامات ملک اور عوام کی زندگیوں کی حفاظت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی شراکت داری ناگزیر ہے اور اس میں امریکا کے ساتھ تعلقات کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ مثبت اقدام ملک میں استحکام اور امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، جس سے ملکی سرمایہ کاری اور معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔ دوسری جانب حکومت نے ملکی اقتصادی ترقی کے شعبے میں بھی قابلِ ذکر اقدامات کیے ہیں۔ کان کنی، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور شراکت داری کو فروغ دینے کا مقصد نہ صرف ملکی معیشت کو مستحکم کرنا ہے بلکہ روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور بیرونی سرمایہ کاری کو پاکستان کی جانب راغب کرنا بھی ہے۔ وزیر داخلہ نے امریکی سرمایہ کاروں کو یقین دہانی کرائی کہ انہیں پاکستان میں محفوظ ترین ممکنہ ماحول فراہم کیا جائے گا، جو ملک میں سرمایہ کاری کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔ حکومت کی اقتصادی حکمت عملی میں چین اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ چین نے گزشتہ ماہ پاکستان کے کان کنی، معدنیات اور قیمتی پتھروں کے شعبے میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی تھی جب کہ سعودی عرب نے بھی ان شعبوں میں تعاون بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ بین الاقوامی شراکت داری پاکستان کی برآمدات میں اضافہ اور سالانہ اربوں ڈالر کی آمدن کے امکانات کو مضبوط کرتی ہے۔ 20جنوری کو چینی وزیر مشیر یانگ گوانگ یوان نے وزیرِاعظم کے خصوصی معاون برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ اقتصادی تعاون کے مواقع، برآمدات، مینوفیکچرنگ، کان کنی، معدنیات اور قومی صنعتی پالیسیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نہ صرف ملکی وسائل کو بروئے کار لانے پر توجہ دے رہی ہے بلکہ بیرونی سرمایہ کاری کو بھی پاکستان میں لانے کے لیے ٹھوس اقدامات کررہی ہے۔ وزیرِاعظم کے خصوصی معاون نے واضح کیا کہ معدنیات اور قیمتی پتھروں میں سرمایہ کاری حکومت کی کلیدی ترجیح ہے اور ان شعبوں سے اربوں ڈالر کی آمدن ممکن ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت قدرتی وسائل کو بروئے کار لانے اور ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے عملی اقدامات کررہی ہے۔ حکومت کی مثبت پالیسیوں کا فائدہ عوام تک بھی پہنچ رہا ہے۔ کان کنی، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ملک کی توانائی کی ضروریات بھی پوری ہوں گی، جس سے صنعتی شعبے کو فروغ ملے گا اور معیشت مضبوط ہوگی۔ اس کے علاوہ، حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف تعاون میں پیش رفت اور داخلی سلامتی کو بہتر بنانے کے اقدامات سے عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرنے میں مدد ملے گی، جو ہر معاشرتی اور اقتصادی ترقی کی بنیاد ہے۔ پی پی ایچ آئی، وزارت داخلہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے کردار کی تعریف بھی اس میں شامل ہے، کیونکہ یہ ادارے ملک کی صحت، تعلیم اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کررہے ہیں۔ حکومت کی رہنمائی میں یہ ادارے موثر انداز میں کام کر رہے ہیں، جس سے ملک میں ترقی اور استحکام کی راہیں ہموار ہورہی ہیں۔ اس موقع پر یہ بھی اہم ہے کہ حکومت کی اقتصادی پالیسیاں صرف سرمایہ کاری اور منافع کے لیے نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے اور معاشرتی فلاح و بہبود کے لیے بھی ہیں۔ کان کنی اور معدنیات میں سرمایہ کاری سے نہ صرف صنعتیں مضبوط ہوں گی بلکہ دیہی اور پس ماندہ علاقوں میں بھی روزگار کے مواقع پیدا ہوں گی، جس سے غربت میں کمی اور معیشت میں بہتری آئے گی۔ مجموعی طور پر، موجودہ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف تعاون، داخلی سلامتی اور اقتصادی ترقی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ امریکا، چین اور سعودی عرب کے ساتھ مضبوط تعلقات اور سرمایہ کاری کے مواقع ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ حکومت کی یہ مثبت حکمت عملی پاکستان کو ایک محفوظ، خوشحال اور مستحکم ملک بنانے کی جانب ایک واضح قدم ہے۔ حالیہ اقدامات سے واضح ہے کہ موجودہ حکومت نہ صرف دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات کر رہی ہے بلکہ اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ کان کنی، معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا، بین الاقوامی شراکت داری مضبوط کرنا اور داخلی سلامتی کو بہتر بنانا حکومت کی کامیابیوں کی ایک روشن مثال ہے۔ پاکستان کے عوام کے لیے یہ خوش آئند ہے کہ ان کی حکومت ملکی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک کو ترقی کی راہوں پر گامزن کر رہی ہے اور بیرونی سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کر رہی ہے، جس سے ملک کی معیشت اور عوام کی زندگیوں میں حقیقی بہتری آئے گی۔

نااہل مودی سرکار، پورا

بھارت سراپا احتجاج

بھارت میں بڑھتا ہوا عوامی اضطراب اس بات کا ثبوت ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت اپنی پالیسیوں کے ذریعے عام شہری کو ریلیف دینے میں ناکام رہی ہے۔ بلند و بانگ دعوئوں، ترقی کے نعروں اور نئے بھارت کے خواب کے باوجود زمینی حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دبائو نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ آج ملک گیر احتجاج اسی ناکامی کا براہِ راست اظہار ہے۔ حکمران جماعت بی جے پی نے معاشی اصلاحات کے نام پر ایسے اقدامات کیے جن کا بوجھ براہِ راست مزدور، کسان اور متوسط طبقے پر پڑا۔ ٹیکسوں میں اضافہ، نجکاری کا پھیلائو اور محنت کش طبقے کے حقوق میں کمی جیسے فیصلوں نے عام آدمی کو شدید متاثر کیا ہے۔ نتیجتاً بھارتی مرکزی ٹریڈ یونینز کو ملک گیر ہڑتال کی کال دینا پڑی، جس میں کروڑوں افراد کی شرکت کی اطلاعات سامنے آئیں۔ معروف اخبار The New Indian Express کی رپورٹس کے مطابق سیکڑوں اضلاع میں احتجاج اور ہڑتال سے ٹرانسپورٹ، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی شعبے متاثر ہوئے۔ یہ صورتِ حال اس بات کی علامت ہے کہ عوامی ناراضی وقتی نہیں بلکہ گہری اور وسیع ہے۔ اگر حکومت کی پالیسیوں سے خوشحالی آتی تو اتنے بڑے پیمانے پر احتجاج کی نوبت نہ آتی۔ مودی حکومت کی معاشی حکمت عملی پر ماہرین بھی سوال اُٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ترقی کے اعداد و شمار پیش کرنا آسان ہے مگر جب عام شہری کی قوتِ خرید کم ہوجائے اور نوجوانوں کو روزگار نہ ملے تو ترقی کا بیانیہ کھوکھلا محسوس ہوتا ہے۔ کسان قرضوں تلے دبے ہیں، مزدور مہنگائی سے پریشان ہیں اور متوسط طبقہ ٹیکسوں کے بوجھ سے نالاں ہے۔ نام نہاد شائننگ بھارت کا تصور اب بڑھتے ہوئے مظاہروں کے شور میں مدھم پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر حکومت واقعی عوامی فلاح چاہتی ہے تو اسے ضد اور سیاسی برتری کے بجائے سنجیدہ مکالمے کا راستہ اپنانا ہوگا۔ مزدور تنظیموں اور اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے بجائے سنا جائے، کیونکہ جمہوریت میں عوامی ردعمل کو نظر انداز کرنا مزید بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ حالیہ ملک گیر احتجاج ایک واضح پیغام ہے کہ بھارتی عوام معاشی ناانصافی اور غیر مقبول پالیسیوں کو مزید برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اب فیصلہ مودی حکومت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس ناراضی کو وقتی شور سمجھے یا اصلاحِ احوال کا موقع۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام سڑکوں پر آ جائیں تو حکمرانوں کو اپنی ترجیحات بدلنا ہی پڑتی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button