جب کھیل نے سیاست کو مات دی

جب کھیل نے سیاست کو مات دی
کالم نگار :امجد آفتاب
مستقل عنوان:عام آدمی
جب کرکٹ میدان میں ہو تو فیصلے بیٹ اور بال سے ہونے چاہئیں، سفارتی دبائو، خفیہ لابنگ اور ریاستی انا سے نہیں۔ مگر بدقسمتی سے بھارت نے گزشتہ چند برسوں میں جینٹل مین کھیل کو سیاسی مفادات کی تجربہ گاہ بنا دیا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کا فیصلہ محض ایک کھیل کا معاملہ نہیں بلکہ کھیل کو سیاست سے آزاد کرانے کی سنجیدہ کوشش اور عالمی کرکٹ میں اصول پسندی کی بحالی کا اعلان ہے۔
ابتدا میں پاکستان نے 15فروری کو بھارت کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار اس لیے کیا کیونکہ بھارت کے سیاسی دبائو پر بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے باہر کر دیا گیا۔ بنگلہ دیش نے سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنے میچ بھارت سے سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی تھی، جو ایک جائز اور معمول کی انتظامی ضرورت تھی، مگر اس کے باوجود اسے ایونٹ سے نکال دیا گیا۔ یہ فیصلہ نہ صرف کھیل کے عالمی اصولوں کی خلاف ورزی تھا بلکہ کمزور کرکٹ بورڈز کے ساتھ امتیازی سلوک کی واضح مثال بھی تھا۔ پاکستان نے اس اقدام کو کھلے عام غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر کرکٹ میں انصاف دفن ہو گیا تو پھر یہ کھیل نہیں، طاقت کا مظاہرہ بن کر رہ جائے گا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارت نے کرکٹ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہو۔ گزشتہ ایشیا کپ، جو پاکستان کی میزبانی میں ہونا تھا، بھارتی ٹیم کی پاکستان میں نہ آنے کی صورت میں متاثر ہوا اور پورا ایونٹ زیادہ تر نیوٹرل وینیوز تک محدود ہو کر رہ گیا۔ اس کے بعد میچ کے دوران پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ نہ ملانا، ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے سے انکار اور کھیل کے آداب کو نظرانداز کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کرکٹ کو جینٹل مین کھیل کے بجائے سفارتی محاذ سمجھنے لگا ہے۔ یہ رویہ صرف پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ عالمی کھیل کے اخلاقی ڈھانچے کے خلاف ہے۔ معاملہ سنگین صورت اختیار کرنے پر لاہور میں ایک ایمرجنسی اجلاس منعقد ہوا جس میں آئی سی سی نمائندے، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام شریک ہوئے۔ پاکستان نے واضح اور دوٹوک موقف اختیار کیا کہ کرکٹ کسی حکومت کی سیاسی خواہشات کی یرغمال نہیں بن سکتی۔ یہ بات پہلی بار عالمی فورم پر اتنی مضبوطی سے رکھی گئی کہ کھیل میں طاقت اور دبائو کے ذریعے فیصلے مسلط نہیں کیے جا سکتے۔ نتیجتاً آئی سی سی نے بنگلہ دیش پر جرمانہ نہ لگانے، آئندہ ایونٹس کی میزبانی دینے اور فیصلوں کو شفاف بنانے کی یقین دہانی کرائی، جو پاکستان کی اصولی سفارت کاری کی کامیابی تھی۔
پاکستان کے موقف کی حمایت میں متعدد ممالک سامنے آئے۔ سری لنکا نے طے شدہ شیڈول اور شفاف مقابلوں کی حمایت کی، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی براہ راست درخواست کی، جبکہ متحدہ عرب امارات نے مذاکرات میں سہولت کاری کا کردار ادا کیا۔ حتیٰ کہ سری لنکا کے صدر نے وزیراعظم شہباز شریف سے رابطہ کر کے پاکستان سے میچ کھیلنے کی اپیل کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے کے ممالک بھارت کی کھیل دشمن سیاست سے تنگ آ چکے ہیں اور اب توازن چاہتے ہیں۔
پاک بھارت میچ کی معاشی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں۔ یہ مقابلہ ٹی وی براڈ کاسٹنگ، ڈیجیٹل اسٹریمنگ، اشتہارات اور اسپانسر شپس کے ذریعے اربوں ڈالر کی آمدنی پیدا کرتا ہے اور اکثر کسی بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا سب سے زیادہ منافع بخش میچ سمجھا جاتا ہے۔ مگر پاکستان نے مالی مفاد کے بجائے اصول اور وقار کو ترجیح دی، جو ثابت کرتا ہے کہ یہ فیصلہ وقتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ کھیل کے مستقبل کی سمت درست کرنے کے لیے کیا گیا۔ یہی وہ فرق ہے جو اصولی ریاستوں اور مفاد پرست قوتوں کے درمیان حدِ فاصل کھینچ دیتا ہے۔
یہ تمام پیش رفت چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی بصیرت افروز قیادت کا نتیجہ ہے، جنہوں نے جذباتی نعروں کے بجائے ادارہ جاتی وقار، قانونی نکات اور سفارتی حکمت عملی کو بنیاد بنایا۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے پہلی بار بھارت حکومت کی کھیل دشمن پالیسیوں کا کھل کر راستہ روکا اور واضح کر دیا کہ اب کرکٹ کو سیاسی دبائو کی تجربہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ یہ صرف ایک انتظامی کامیابی نہیں بلکہ عالمی کھیل کے توازنِ طاقت میں ایک اخلاقی تصحیح بھی ہے۔
کرکٹ کا اصل مقصد قوموں کو جوڑنا، نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا اور مسابقت کو صحت مند دائرے میں رکھنا ہے، نہ کہ ریاستی انا اور سفارتی مخاصمت کا اظہار بنانا۔ اگر کرکٹ واقعی عالمی کھیل ہے تو فیصلے شفاف ہونے چاہئیں، ادارے غیر جانبدار ہوں اور سب ممالک کے لیے یکساں معیار اپنایا جائے۔ بھارت کی حالیہ روش نے ان اصولوں کو مجروح کیا، مگر پاکستان کے موقف نے ثابت کر دیا کہ کھیل اب بھی طاقت کے بجائے انصاف کے ذریعے بچایا جا سکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایشیائی کرکٹ کے مستقبل کے لیے ایک ماڈل بن سکتی ہے، جہاں غلبے کے بجائے شراکت داری، دبائو کے بجائے مکالمہ اور سیاست کے بجائے کھیل کو ترجیح دی جائے۔ پاکستان نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ اگر عالمی کھیل منصفانہ بنیادوں پر قائم ہوں تو سبھی ممالک کے لیے مواقع یکساں ہوں گے اور کرکٹ کی اصل روح محفوظ رہے گی۔





