پیسوں کے لئے پھڈا

پیسوں کے لئے پھڈا
تحریر: تجمّل حسین ہاشمی
دکھ اس بات کا ہے کہ ہمارے ہاں آج تک کوئی ایسی پانچ کاروباری شخصیات کی فہرست نہیں جو اپنے کاروبار یا جائیدادوں کا نوے فیصد سے زیادہ حصہ خیرات یا غریبوں کے نام وقف کر دیں۔ مگر جب بل گیٹس نے تیس ارب ڈالر سے زائد رقم خیرات کے لیے دینے کا اعلان کیا تو دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص وارن بفیٹ نے مسکراتے ہوئے انہیں ایک خط لکھا۔ اس خط میں وارن بفیٹ نے اپنے کاروبار اور جائیداد میں سے اکتیس ارب ڈالر سے زیادہ رقم بل گیٹس کی فائونڈیشن کو دینے کا وعدہ کیا۔
یہ منظر دیکھ کر دل خوش ہو جاتا ہے کہ یہ ساری دولت دنیا بھر کے غریبوں کی صحت، تعلیم اور عورتوں کی فلاح و بہبود پر بلا تفریق خرچ ہو رہی ہے۔ یہ دونوں شخصیات ایک روشن مثال قائم کر رہی ہیں کہ امیر طبقہ اپنی دولت کو انسانیت کی خدمت میں کس طرح لگا سکتا ہے۔
دنیا میں کئی ایسی شخصیات موجود ہیں جو غریبوں کی مدد سے حقیقی خوشی حاصل کرتی ہیں۔ جارج کیزر نے اپنی زندگی میں اربوں ڈالر سے زائد رقم صدقہ کے طور پر خرچ کی، جو زیادہ تر بچوں کی تعلیم، صحت اور کمیونٹی کی بہتری پر استعمال ہوئی۔ ان کی کاوشیں خاص طور پر اپنے شہر ٹلسا کو بہتر بنانے میں نمایاں ہیں۔ جارج سورس نے تیس ارب ڈالر سے زیادہ رقم اپنی بنیادوں کے ذریعے انسانوں کی فلاح، جمہوری اداروں کی مضبوطی، انسانی حقوق اور شفافیت کے لیے وقف کی۔ یہ ایک ایسی مثال ہے جہاں دولت کو معاشرتی انصاف کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
والٹن فیملی ( والمارٹ کے بانی خاندان) نے اربوں ڈالر غریب بچوں کی تعلیم، ماحولیات اور افریقہ جیسے علاقوں میں صحت کے مسائل پر خرچ کیے۔ ان کی بنیادوں کے ذریعے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بہتر ہو رہی ہیں۔
سینڈلر فیملی نے ارب ڈالر سے زائد کی بنیاد رکھی، جو معاشرے میں کرپشن، طاقت کے ناجائز استعمال کو بے نقاب کرنے والی تنظیموں کو فنڈز دیتی ہے اور استحصال کا شکار افراد کی مدد کرتی ہے۔ یہ ایک منفرد مثال ہے جہاں خیرات کو نظام کی اصلاح کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
پیٹر پیٹرسن نے ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ کی، جن کا جنون معاشرے میں مالیاتی ڈسپلن اور شفافیت قائم کرنا ہے۔ وہ اداروں اور محکموں کو مسلسل سپورٹ کرتے رہے۔
ڈونلڈ برن نے پراپرٹی کے کاروبار سے کمائی گئی دولت میں سے کروڑوں ڈالر صرف تعلیم کے لیے وقف کیے، جو نوجوانوں کی زندگیاں بدل رہے ہیں۔
مائیکل بلوم برگ کا جنون تمباکو نوشی کم کرنا ہے، انہوں نے ڈیڑھ ارب ڈالر سے زائد رقم مختلف تنظیموں کو دی تاکہ دنیا بھر میں سگریٹ پینے والوں کی تعداد کم کی جا سکے۔ ان کی کاوشوں سے کروڑوں جانیں بچائی جا چکی ہیں۔امریکہ واحد ملک ہے جہاں امیر ترین لوگوں میں سے سب سے زیادہ تعداد خیرات کرنے والوں کی ہے۔ یہاں لوگ اپنی دولت کا بڑا حصہ انسانیت کی بھلائی پر لگاتے ہیں۔ مگر اسلامی ممالک کے سربراہان اور ہمارے قومی لیڈر اس لحاظ سے بہت پیچھے ہیں۔ ہمارے لیڈروں کی ترجیحات میں مال جمع کرنا اور اپنی نسل کو اقتدار میں لانا شامل ہے، جس کے لیے وہ ایسے راستے اختیار کرتے ہیں جو نہ اسلام کی تعلیمات سے ہم آہنگ ہیں نہ آئینی ہیں۔ قومی خزانے سے عوامی مفاد کے کاموں کو ایسے پیش کیا جاتا ہے، جیسے یہ فنڈز ان کی ذاتی جیب سے خرچ ہو رہے ہیں۔ سیاسی لیڈروں کا یہ ذہن آج تک نہیں بدلا۔ کوئی فلاحی منصوبہ ان کی ذاتی جیب سے، کسی ادارے کی مضبوطی کے لیے ذاتی روپیہ، کرپشن کے خاتمے کے لیے ذاتی خرچ کچھ بھی نہیں کیا، ماسوائے لوٹ مار کے۔
ملک کئی بار مشکلات میں پھنسا، ڈیفالٹ کا خطرہ آیا، مگر کسی امیر لیڈر یا تاجر نے ملکی سلامتی کے لیے ایک روپیہ بھی ذاتی طور پر نہیں دیا بلکہ اسلامی ممالک سے منتوں کی جاتی رہی ۔ سرکاری اعداد و شمار (NDMA، UN، USGS) کے مطابق 2005ء سے اب تک سیلاب اور زلزلوں میں تقریباً ایک لاکھ سے زائد اموات ہوئیں۔ آج تک کسی مقتدر شخصیت کے کان پر جوں نہیں رینگی۔ اسی صورتحال پر بھی مال سمٹنے میں مصروف رہے ۔ ان کے سب جھوٹے دعوے ہیں، جس پر قوم ووٹ کرتی ہے، جو لیڈر واقعی ملک و قوم سے محبت کرتے ہیں، وہ اپنی جیب سے غریبوں کیلئے مال خرچ کرتے ہیں، اپنے شہریوں کی فلاح کرتے ہیں، اداروں کو مضبوط کرتے ہیں۔ 1960ء کی دہائی کے بعد سے ایک بھی ایسا لیڈر نہیں گزرا جس نے ملک کے نام پر ایک روپیہ بھی وقف کیا ہو۔ یہ نظام ایسے نہیں چل سکتا۔ میری یہ محض ایک آواز ہے، شاید کوئی سن لے اور بدلے لے۔





