بنگلہ دیش میں انتخابات اور سیاسی منظرنامہ

بنگلہ دیش میں انتخابات اور سیاسی منظرنامہ
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
بنگلہ دیش جو کبھی مشرقی پاکستان تھا 1971ء میں ایک سازش کے نتیجہ میں ہم سے الگ ہوگیا تھا آج عام انتخابات کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ شیخ حسینہ واجد کے اقتدار کے خلاف عوامی انقلاب کے بعد بنگلہ دیش کی سب سے بڑی جماعت نیشنل پارٹی اور دوسری طرف بنگلہ دیش کی تمام سیاسی جماعتوں کے اتحاد کے درمیان کاٹنے دار مقابلے کی توقع ہے۔ شیخ حسینہ واجد کے دور میں جماعت اسلامی کے بہت سے رہنمائوں کو پھانسیاں دی گئیں ایک مرتبہ پھر ابھری ہے اور جماعت اسلامی کے 67سالہ ڈاکٹر شفیق الرحمن وزیراعظم کے امیدوار ہیں جبکہ دوسری طرف سابق جنرل ضیاء الرحمان کے بیٹے طارق الرحمان جو شیخ حسینہ کے دور سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے کے مابین سخت مقابلہ ہے۔ دونوں حضرات وزیراعظم کے امیدوار ہیں۔ طارق الرحمان جو لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف انقلاب کے بعد وطن واپس آئے ہیں۔ جماعت اسلامی کے شفیق الرحمان بنگلہ دیش کے مختلف شہروں کے طوفانی دورے کر کے عوامی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی نے حالیہ انتخابات میں جین زی نیشنل پارٹی سے اتحاد کیا ہے جس کے بعد جماعت اسلامی شیفق الرحمان کے نام کے ساتھ دائود لکھا جا رہا ہے جس کا بنگالی میں معانی دادا ہوتا ہے۔ جماعت اسلامی کے شفیق الرحمان نے اپنے انتخابی وعدوں میں ایک وعدہ یہ بھی کیا ہے وہ بنگلہ دیش میں رہنے والے تمام مذاہب سے یکساں سلوک کریں گے۔ البتہ انتخابات میں جماعت اسلامی نے کسی خاتون کو امیدوار کے طور پر کھڑا نہیں کیا ہے۔ شیخ مجیب الرحمان کی پارٹی عوامی مسلم لیگ نے شیخ حسینہ واجد کی قیادت میں مسلسل چار مرتبہ الیکشن میں کامیابی حاصل کی، لیکن آج کے الیکشن میں شیخ حسینہ کی جماعت الیکشن سے باہر ہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ کا موقف ہے ماضی کی حکومتوں نے عوام کے ساتھ سیاسی بنیادوں پر سلوک روا رکھا اس لئے اب وہ بڑی تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ بنگلہ دیش میں انتخابی عمل کو پرامن بنانے کے لئے ہر طرف فوج تعینات کر دی گئی ہے جبکہ موٹر سائیکل پر تین روز کے لئے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس الیکشن کی خاص بات یہ ہے عوام میں بھارت مخالف جذبات پائے جاتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے شہروں اور گلیوں میں ڈھاکہ کے نعرے گونج رہے ہیں نئی نسل جین زی ووٹرز میں بھارت مخالف رنگ نمایاں دکھائی دے رہا ہے۔ جماعت اسلامی حالیہ الیکشن میں ایک بڑی پارٹی کے طور پر ابھری ہے تاہم اگر بین الاقوامی سازش نہ ہوئی تو جماعت اسلامی کے اقتدار میں آنے کے واضح امکانات ہیں۔ بنگلہ دیش کی تمام رجسٹرڈ پارٹیوں کے 1700سو سے زائد امیدوار 300نشستوں کے لئے قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے اتحاد کو 44.1اور جماعت اسلامی کے اتحاد کو 43.9فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے۔ گویا اس اعتبار سے بنگلہ دیش نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کے اتحاد کے مابین سخت مقابلہ ہو گا۔ شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں پہلے عام انتخابات ہو رہے ہیں۔ حالیہ الیکشن میں عوامی لیگ پر الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی ہے۔ انتخابی عمل کو پر امن بنانے کے لئے نو لاکھ سے زائد سکیورٹی اہل کار تعینات کئے گے ہیں۔ الیکشن مہم میں بنگلہ دیش نیشنل پارٹی اور نیشنل سیٹزن پارٹی نے بنگلہ دیش کے بڑے بڑے شہروں میں ریلیاں نکالیں۔ بنگلہ دیش میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12کروڑ77لاکھ 793ہے جن میں مردوں کی تعداد 6کروڑ48لاکھ80ہزار اور خواتین ووٹرز کی تعداد 6کروڑ 28لاکھ سے زیادہ ہے۔ انتخابات میں پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے والوں کی کل تعداد13لاکھ 50ہزار ہے۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے بھارت کے ساتھ ملزمان کے تبادلے کا معاہد ہ ہونے کے باوجود شیخ حسینہ واجد کو بنگلہ دیش کے حوالے نہیں کیا ہے۔ باآ ور کیا جاتا ہے کہ بنگلہ دیش میں ہندو مخالف جذبات شدت سے پائے جاتے ہیں چنانچہ گزشتہ سال فرقہ وارانہ تشدد کے دوران اقلیتی برادریوں کے ستر افراد مارے گئے تھے۔ بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے آنے کے بعد پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہت حد تک بہتری آئی ہے جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان فضائی سروس بھی بحال ہوئی ہے۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت ڈاکٹر محمد یونس کی قیادت میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی طرف گامزن رہی ہے۔ اس وقت خطے کے تمام ملکوں کی نظریں بنگلہ دیش کے انتخابات پر ہیں کہ وہاں کس کی حکومت اقتدار میں آتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بن این پی کے اقتدار میں آنے کی صورت میں اس کا جھکائو بھارت کی طرف ہو سکتا ہے۔ عام انتخابات میں قریبا پچاس لاکھ ووٹرز پہلی مرتبہ ووٹ کاسٹ کریں گے۔ بنگلہ دیش میں 44فیصد ووٹرز کی عمر 18سال سے 37سال کے درمیان ہے۔ بنگلہ دیش میں نوے فیصد لوگ مسلمان ہیں جبکہ اٹھ فیصد لوگ دیگر مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں پارلیمانی طرز حکومت ہے جس میں زیادہ تر اختیارات وزیراعظم کے پاس ہوتے ہیں جبکہ ملک کا صدر پاکستان کی طرح رسمی ہوتا ہے۔ بی این پی کے انتخابی منشور میں وزیراعظم کے عہدے کی مدت کو دس سال کرنا اور کم آمدنی والے خاندانوں کی مالی معاونت کرنے کے علاوہ ملک کی معاشی ترقی کو فوقیت دینا ہے۔ دوسری طرف جماعت اسلامی کا گیارہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ انتخابی اتحاد ہے۔ جماعت اسلامی کا انتخابی منشور ہے کہ وہ اسلامی اصولوں پر مبنی تعلقات کو فروغ دے گی اور گارمنٹس کی صنعت کو ترقی دینے کے ساتھ ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات کو استوار کرے گی۔ بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ میں شیخ مجیب کی عوامی لیگ پہلی بار الیکشن سے باہر ہے۔ بنگلہ دیش کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ملک کے بانی صدر شیخ مجیب الرحمان کو قتل کر دیا گیا جس کے بعد اقتدار میں آنے والی بی این پی کے سربراہ جنرل ضیاء الرحمان کو 1981میں قتل کر دیا گیا۔ حالیہ انتخابات میں نوجوان نسل کی بڑی تعداد کے ووٹ ڈالنے سے بنگلہ دیش کا سیاسی منظر نامہ بدل سکتا ہے۔





