Column

وزیراعلیٰ مریم نواز کا ایک بڑا فیصلہ

وزیراعلیٰ مریم نواز کا ایک بڑا فیصلہ
فیاض ملک
فیاضیاں ۔۔۔۔۔۔
شہری آبادی میں شیروں کے پنجرے سے نکلنے کے واقعات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ اور ہر واقعہ کے بعد متعلقہ اداروں کی جانب سے ہم یہ کر دیں گے ۔ ہم وہ کر دیں گے۔ غیر قانونی طور جانوروں کو رکھنے والوں کیخلاف گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ جلد ہی سب قانون کی گرفت میں ہونگے کے حوالے سے بلند و بانگ دعووں کا ایک لامتناہی سلسلہ بھی جاری ہوجاتا تھا، دن گزرے ماہ گزرے۔ پھر سب کچھ ٹھنڈا ٹھار، اور پھر کسی اور واقعہ کا انتظار کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شہری آبادی میں خونخوار جانور کو پالنے سے روکنے کے حوالے سے موثر قانون سازی کی عدم موجودگی بھی ہیں اور اسی وجہ سے ایسے عنصر کے خلاف بھرپور کارروائی نہیں کی جا رہی تھی، اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت پنجاب نے بگ کیٹس کو وائلڈ لائف ایکٹ 1974کے جدول دوئم میں شامل کر کے ان کے لیے لائسنس لازمی قرار دیا۔
حال ہی میں حکومت نے انسانی آبادی میں خونخوار یا جنگلی جاندار رکھنے پر پابندی عائد کی تھی لیکن اثر و رسوخ کی وجہ سے کئی لوگ اب بھی ان جانوروں کو صرف شوق کی خاطر رکھ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت پنجاب میں نجی طور پر 584کے لگ بھگ شیروں کی موجودگی سامنے آئی ہیں جبکہ اس حوالے سے اگر محکمہ وائلڈ لائف کی استعداد کار کی بات کی جائے تو اس کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ ہر خونخوار جاندار کو اپنی تحویل میں لے سکے، یہاں یہ بات بھی انتہائی دلچسپ اور حیران کن ہے کہ پاکستان میں پالتو شیر یا دیگر بڑی بلیوں کی نسل مقامی نہیں ہے اور مکس بریڈنگ کی وجہ سے ان کا اصل ڈی این اے تبدیل ہو چکا ہے۔ اس لیے انہیں جنگلوں یا ان کے اصل مسکن میں منتقل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اگر انہیں افریقہ منتقل کیا جائے تو بھی کامیابی کی امید کم ہے اور نقصانات ہو سکتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں وہ لوگ ہیں جنھیں گھروں میں شیر پالنے کا بہت شوق ہے۔ شیر پال کر وہ شاید خود کو بہادر ثابت کرنا چاہتے ہیں ،لیکن سوچنے والی بات یہ بھی ہے کہ ایسے شوق کا کیا فائدہ جس میں ہر گھڑی نقصان کا دھڑکا لگا رہے۔
یہ شیر اگر پنجرے سے باہر نکل آئے یا زنجیر توڑ کر بھاگ جائے تو راستے میں آنے والے کسی بھی انسان کو نہ صرف زخمی کر سکتا ہے بلکہ اس کی زندگی کا چراغ بھی گُل کر سکتا ہے۔ ایسے چند افسوس ناک واقعات تو حالیہ دنوں میں رونما بھی ہو چکے ہیں۔ 6ماہ قبل جوہر ٹائون میں شیرنی کے حملے میں ماں بیٹی زخمی ہوگئی تھیں۔ چند روز قبل لاہور میں پالتو شیر نے ایک بچے کا بازو چبا لیا۔ یہ افسوسناک واقعہ سبزہ زار کے علاقے میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق فارم محکمہ وائلڈ لائف سے باقاعدہ لائسنس یافتہ ہے۔ اور یہ واقعہ شیروں کے پنچرے نامناسب ہونے اور مالکان کی غفلت کی وجہ سے پیش آیا، پولیس نے مقدمہ درج کرکے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا اور واقعے کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کرلیا گیا۔
اسی طرح فیصل آباد جڑانوالہ روڈ پر غیر قانونی شیر کو پکڑنے کے لیے جانے والے وائلڈ لائف ملازم پر شیر نے حملہ کر دیا۔ متاثرہ ملازم کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ابھی ان واقعات کی بازگشت جاری تھی کہ لاہور کے علاقے بھیکے وال پنڈ میں پالتو شیرنی کے حملے سے 8سالہ بچی کے کان اور گردن پر زخم آئے تھے۔ اس واقعے کے بعد بھی ایک بار پھر پولیس اور محکمہ وائلڈ لائف کی ٹیموں نے شیرنی سمیت غیر قانونی طور پر رکھے گئے 11شیر برآمد کر کے ملزمان کو گرفتار کرلیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ان ملزمان کے پاس شیروں کو لاہور میں رکھنے کا لائسنس موجود نہیں تھا اور یہ خطرناک جانوروں کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث تھے۔ ان واقعات کے بعد سے اب تک پولیس نے رہائشی علاقوں میں غیر قانونی طور پر جنگلی جانور رکھنے پر 8افراد کوگرفتار کیا جبکہ 6مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔ گرفتار ملزمان کی تحویل سے26شیر،14ہرن اور مختلف اقسام کے پرندے برآمد ہوئے ہیں جبکہ محکمہ جنگلی حیات نے بھی شیر پالنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ بھی واضح نہیں کہ اتنے ملزم پکڑنے اور جانور قبضے میں لینے کے بعد بھی اس قسم کے واقعات کیوں تسلسل کے ساتھ وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔ یہاں یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان لوگوں کو رہائشی علاقوں میں شیر جیسا جنگلی جانور لاتے وقت کیوں نہیں روکا جاتا اور افسوس ناک واقعات سامنے آنے کے بعد ہی ان کی پکڑ دھکڑ کیوں شروع کی جاتی ہے۔ یہ وہ سوال ہے جو ہر واقعہ کے بعد دہرائے جاتے ہیں لیکن ان کے جواب شاید متعلقہ محکموں کے ذمے دار افسران کے پاس نہیں ہیں۔ لیکن اس حوالے سے گزشتہ دنوں میں ایک مثبت خبر یہ بھی سامنے آئی ہے کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے ان واقعات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے پنجاب بھر میں پالتو شیر رکھنے کی قانونی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور انہوں نے شیر کے حملے میں 8سالہ بچے واجد کا بازو ضائع ہونے کے واقعے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا اور ننھے واجد کو گنگا رام ہسپتال منتقل کر وایا اور اس کو جدید بائیونک آرم لگانے کی بھی ہدایت کی۔ یہی نہیں ، انہوں نے واقعے کو دانستہ چھپانے، جھوٹ بول کر حقائق چھپانے اور مقامی ہسپتال میں واجد کا بازو کاٹنے پر سخت قانونی کارروائی کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے قانون سے وائلڈ کیٹس رکھنے کی شق ختم کرنے کی ہدایت کر دی۔ یقینا یہ بحیثیت وزیراعلی پنجاب یہ مریم نوازشریف کا ایک بڑا اقدام ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور جنگلی جانور اور خاص طور پر شیر کر رکھنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنے میں بھی اہم کردار ادا کریں گا کیونکہ خونخوار جانوروں کو پالنا اور ان کے ساتھ تصاویر بنوانا ایک سوشل میڈیا ٹرینڈ بن چکا ہے۔ سرمایہ دار طبقہ سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور تصاویر بنانے کے لیے ان جانوروں کو پالتا ہے تاکہ اپنا شوق پورا کرے۔ یہ رجحان نہ صرف انسانوں کی جانوں کے لیے خطرہ ہے بلکہ جانوروں کی فلاح و بہبود اور وائلڈ لائف قوانین کی خلاف ورزی بھی ہے۔ اس حوالے سے اب قانون کافی سخت ہو چکا ہے اور حالیہ واقعے کے بعد دیگر افراد کو وارننگ مل جائے گی کہ وہ جلد از جلد ان جانوروں کو انسانی آبادی سے دور منتقل کریں گے۔

جواب دیں

Back to top button